بلدیاتی انتخابات ۔ کبھی ہاں کبھی ناں

28 نومبر 2013

یہ جمہوریت کا بنیادی تصور یونانی فلاسفروں نے دیا ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یونانی تہذیب نے دنیا کو جو سب سے بڑا تحفہ دیا ہے وہ جمہوریت ہے۔ جمہوریت کی بنیادی اکائی کو بلدیاتی انتخابات کہا جاتا ہے جس میں گلی محلے کے معاشرتی مسائل کو وہاں کی مقامی لیڈر شپ مقامی سطح پر حل کرتی ہے۔ یہ دنیا کے تمام مستحکم جمہوری ممالک میں جمہوریت کا پہلا زینہ ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات جمہوری نظام کا تصور بھی محال ہے اس لئے بنیادی بلدیاتی انتخابات ہمارے ملک کی اشد ضرورت ہیں۔ پاکستان میں جمہوری بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دیکھئے ایک بہت دلچسپ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ جب ہم اس پر نظر دوڑائیں وہ یہ ہے کہ جب ڈکٹیٹرز آتے ہیں وہ سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرواتے ہیں، اس کے برعکس جب منتخب جمہوری حکومتیں آتی ہیں تو وہ ہر طرح کی کوشش کرتی ہیں کہ مختلف حیلے بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کو پس پشت رکھا جائے۔ عام آدمی کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ جو ڈکٹیٹرز ہوتے ہیں ان کو بلدیاتی انتخابات اور جمہوریت بہت عزیز ہوتی ہے اس لئے وہ یہ کرواتے ہیں۔ بات ایسی نہیں ہے بات اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ڈکٹیٹر شپ مقبول عوامی، جمہوری قیادتوں کو راستے سے ہٹا کر برسر اقتدار آئے ہوتے ہیں انہیں اس خلا کو پورا کرنے کے لئے گملوں میں اُگائی گئی پنیری چاہئے ہوتی ہے جو کہ مقبول عوامی قیادت کے نعم البدل کے طور پر پیش کی جا سکے اس کیلئے وہ انتخابات کراتے ہیں بلدیاتی انتخابات کا۔ اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے بلدیاتی انتخابات میں جو لوگ جیت کر آتے ہیں ان کا پہلا مقصد یہ ہوتا ہے کہ برسر اقتدار ڈکٹیٹر حکمران ہیں ان کے گن گائیں ان کیلئے جلسے جلوسوں کا اہتمام کریں اُس کے بدلے میں ان کو خطیر فنڈز دئیے جاتے ہیں جن کا کچھ حصہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے اور بیشتر حصہ کرپشن اور خورد بُرد کی نظر ہو جاتا ہے مگر اس کے ذریعے ڈکٹیٹر اپنے لئے ایک انتخابی حلقہ تخلیق کرتے ہیں جس کو وہ آگے چل کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں خواہ وہ صدر ایوب کے زمانے کی بنیادی جمہوریت ہو، چاہے وہ ضیاالحق کی مجلس شوریٰ ہو یا جنرل مشرف کا نظام ہو اس کے مقابلے میں جو لوگ بلدیاتی نظام کے ذریعے انتخب ہوتے ہیں انہیں عائلی مسائل، پانی و بجلی، صفائی اور گلی کوچے اور گٹر کی سیاست کرنے کا موقع ملتا ہے مگر یہ تصور متصادم ہے ہمارے یہاں کے جمہوری نظام سے، کیونکہ جو لوگ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے الیکشن لڑتے ہیں ان کی بنیادی ذمہ داری گلی کی نالی درست کرنی یا گٹر صاف کروانا نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داری آئین سازی اور قانون سازی ہے۔ آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے پاکستان کو جو مسائل درپیش ہوں گے ان کو اپنا ”ویژن“ بروئے کار لاتے ہوئے حکمت عملی طے کرنی ہے۔ ہمارے سیاستدان یہ چاہتے یہں کہ وہ مرکزی اسمبلی میں بھی نمائندگی کریں اور ان کے بغل بچے وہ بلدیاتی نظام کو کنٹرول کریں۔ بلدیاتی انتخابات سیاستدانوں کی نرسری ہیں جہاں وہ سیاست کی اے بی سی سیکھتے ہیں اور پھر بتدریج مختلف منازل طے کرتے ہوئے صوبائی سطح پر اور پھر قومی سطح اور پھر عالمی سطح پر اپنے معاشرے اور ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں پاکستان کے موجودہ معروضی یا زمینی حقائق کی طرف۔ ایک تو صوبائی حکومتیں یہ سمجھتی ہیں اور یہ خطرہ محسوس کرتی ہیں کہ اگر ان کے مخالف نظریات کے لوگ بلدیاتی انتخابات جیت گئے تو انہیں ان کو اپنے ساتھ اپنے اختیارات میں حصہ دار بنانا پڑے گا جس کیلئے وہ کسی صورت تیار نہیں ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ان کی پہلے تو پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف حیلے بہانے لگا کر بلدیاتی انتخابات کو التوا پذیر رکھا جائے مگر اب کیونکہ سپریم کورٹ کا ڈنڈا سر پر ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیکر اس امر کر یقینی بنانے پر تُل گئی ہے۔ جسٹس افتختار چوہدری کی کوشش تھی کہ ان کی موجودگی میں یہ انتخابات ہو جائیں تاکہ ان کی ٹوپی میں ایک اور پَر کا اضافہ ہو سکے تو اب بادل نخواستہ صوبائی حکومتوں نے اس کا ٹائم ٹیبل دے دیا ہے۔ حلقے نہیں بنے، ابھی تک توڑ پھوڑ جاری ہے، مقناطیسی سیاہی نہیں، اتنے بلیٹ پیپر پرنٹ نہیں ہو سکتے۔ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پہلے سے اتنے آرڈر ہیں کہ ہم یہ کر ہی نہیں سکتے۔
ایک وقت ایسا آ گیا تھا جب سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ بالکل آمنے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔ پارلیمنٹ نے قراردادیں منظور کر دیں کہ بلدیاتی انتخابات فوری طور پر نہیں ہونے چاہئیں جبکہ سپریم کورٹ نے مقررہ تاریخ سامنے رکھ دی مگر اب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دور اندیشی کے باعث یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ چند دن پہلے سپریم کورٹ میں جو سنوائی ہوئی ہے اس میں چیف جسٹس نے واضح طور پر بتایا کہ وہ کسی خاص تاریخ پر مجبور نہیں کر رہے بلکہ ان کا مقصد ہے کہ بلدیاتی انتخابات اپنی اصل روح کے مطابق مستقبل قریب میں کروائے جائیں اور اب اس سلسلے میں درمیانہ راستہ اختیار کرتے ہوئے دونوں طاقتوں نے یا دونوں اداروں نے جنوری میں انتخابات کروانے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ دونوں اداروں کیلئے ”وننگ پوزیشن“ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ اس میں حتمی فاتح جو ہیں وہ پاکستان کے عوام ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ بلدیاتی نمائندوں نے کہیں بین الاقوامی کانفرنسز میں غیر ملکی لوگوں سے اپنے ملک کے مو¿قف پر بات نہیں کرنی ہوتی بلکہ ان کا اہل علاقہ کی دہلیز پر ان کو درپیش مسائل جس میں آپس کی چپقلش، چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں کی صلح صفائی، طلاق، نالی گٹر، گلیوں کی صفائی، پانی بجلی اور ٹیلیفون کے چھوٹے موٹے کاموں کا حل نکال کر لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے علاقے کے ہر گھر اور ہر فرد کو عرصوں سے جانتے ہیں اور ایسے ہی اہل علاقہ کیلئے وہ اجنبی نہیں ہوتے اور اس کے ماضی اور حال، اچھائیوں بُرائیوں سے واقف ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہوتی ہے ان کے اپنے مقامی لیڈر کے انتخاب میں۔