وزیراعلیٰ پنجاب کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب

28 نومبر 2013

(خطاب کا دوسرا حصہ)
یہ ہے وہ صلہ جو اس جنگ سے ہمیں ملا ہے ‘ جس نے ہمارے سماج کو زہر آلود کر دیا ہے ۔ اس کی وجہ سے معاشرے کا امن و امان داﺅ پر لگا ہے اور ہمیں عدمِ برداشت ‘دہشت گردی‘ بدنظمی کا سامنا ہے۔ اس صورت حال کا ایک پہلو اور بھی ہے جو پچھلی دو دہائیوں کی بدنظمی کا نتیجہ ہے ۔ اس دوران آمرانہ اور سیاسی ہر دو طرح کی حکومتیں رہیں مگر پاکستان کے لوگوں کی توقعات پر پورا نہ اُترنے ‘ روز افزوں بدعنوانی‘ ملکی دولت کی بیرون ملک منتقلی اور اقرباءپروری جیسے مسائل بڑھتے رہے۔ یہ تمام عناصر اس بدترین صورت حال کے ذمہ دار ہیں جس کا آج ہمیں سامنا ہے ۔ چناں چہ آئیے ! تصویر کے صرف ایک ہی رُخ کا جائزہ نہ لیں بلکہ پورے منظر نامے کو سامنے رکھیں۔ جب تک ہم ایسے تمام عناصر سے نمٹ نہیں لیتے ‘ اچھی حکمرانی کے ذریعے تمام چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر لیتے عوام کی ایک ایک پائی کو امانت سمجھ کر شفاف طریقے سے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کرتے ‘ سادگی اور اپنے وسائل پیدا کرنے کے عملی اقدامات نہیں اُٹھا لیتے‘ اس چیلنج سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔
خواتین و حضرات !
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس چیلنج کے علاوہ جس کا آج ہمیں سامنا ہے‘ پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے اس امر پر تفصیلی غورو خوض کیا کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ایک ایسا ہول ناک عفریت ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہمیں لاءاینڈ آرڈر کا بڑا مضبوط ڈھانچہ درکار ہے۔ہم نے اس حوالے سے بہت سا ہوم ورک کر لیا ہے اور اس کو روبہ عمل لانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ چیلنجز بہت بڑے ہیں اور ان کو سمجھ کر اِن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ماضی میں حکومت کی طرف سے توجہ کی کمی کے باعث توانائی کا مسئلہ آج کا سب سے پہلا چیلنج بن چکا ہے ۔
ہم بھاشا ڈیم کی وقت پر تعمیر مکمل نہیں کروا سکے۔ عملی پیش رفت صفر ہے‘ نہ تو فنانشل منصوبے پر عمل ہوا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی دیگر پیش رفت ہوئی۔ میں آپ کی خدمت میں فقط دو مثالیں پیش کرتا ہوں جوتوانائی کے شعبے کی جانب ماضی کی حکومت کی عدم توجہی اور لا پرواہی آپ کے سامنے لائیں گی۔ماضی کی حکومت نے نندی پور پاور پراجیکٹ اور 425 میگا واٹ تھرمل پاور پراجیکٹ کے ٹھیکے داروں کو غیر مُلکی زر مبادلہ میں ادائیگی کر دی تھی ۔ چین کی ڈونگ فنگ کمپنی ٹھیکے دار تھی ۔ اڑھائی برس تک پلانٹ کی مشینری کراچی بندرگاہ پرپڑی زنگ آلود ہوتی رہی اور چینی ماہرین کی ٹیم نندی پور میں بے کار بیٹھی رہی۔ بندر گاہ کو کروڑوں روپے ہر جانے کے طور پر ادا کرنے پڑے اور کچھ مشینری بھی چوری ہوئی۔ اِس دوران صنعتوں کو توانائی کی کمی کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہوا۔اب یہ تمام مشینری نندی پور پہنچ چکی ہے اور چینی ماہرین کی ٹیم کو بڑی کوششوں کے بعد واپس لایا گیا ہے۔ مشینری کی تنصیب کر دی گئی ہے تاہم پاکستان کو یہ منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے 30 بلین روپے مزید ادا کرنے پڑے ہیں۔ اگر غفلت نہ برتی جاتی تو یہ منصوبہ محض 27 بلین روپے میں مکمل کر کے شروع کیا جا سکتا تھا۔ ذرا دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے ‘کیا یہ غریب ملک اس طرح کی غفلت کا متحمل ہو سکتا ہے؟ امداد حاصل کرنے کے لئے دنیا کے سامنے کشکول پھیلایا جا رہا ہے مگر اس کے باوجود قابلِ عمل معاشی پلان بنانا مشکل ہو رہا ہے۔ 6 ہزار میگا واٹ توانائی کی کمی کو پورا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
آخر نندی پور پراجیکٹ پر اڑھائی سال پہلے کام شروع کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ بدعنوان عناصر کِک بیکس اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے قومی مفاد کو داﺅ پر لگا رہے تھے۔ اگر ہم چند ماہ میں مشینری کو بندرگاہ سے سائیٹ پر منتقل کر سکتے ہیں تو انہیں کس نے ایسا کرنے سے روکا تھا؟ ماسوائے اُن کی لالچ ‘ طمع اور بدعنوانی پر مبنی افتاد طبع نے۔ ان لوگوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نظر میں بھی پاکستان کی امیج کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔
میرا خیال ہے اب ہمیں کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینا ہو گی کیوں کہ درآمد شدہ تیل کی نسبت کوئلہ بہت سستا ہے ۔ ہم پاکستان میں تیل درآمد کرنے پر دس ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ چناں چہ وقت ضائع کئے بغیر یہ دس ارب ڈالر خرچ کرنے کے بجائے ہمیں کوئلے کے اپنے ذخائر سے مستفید ہونا چاہیے۔ حکومت ِ پاکستان توانائی کا بحران حل کرنے کے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبہ پر کم از کم تین سال صرف ہوں گے۔ یعنی منصوبے کی فزیبلٹی ‘ انفراسٹرکچر اور کوئلہ پاور پلانٹ درآمد و نصب کرنے کے لیے تین برس کا عرصہ درکار ہو گا۔ ہمارے پاس قدرتی گیس موجود ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آ رہی ہے ہمیں درآمد شدہ قدرتی گیس یا مائع گیس پر انحصار کرنا ہو گا۔ مگر افسوس کہ نندی پور کی طرح یہ بھی ایک تکلیف دہ کہانی ہے۔ ہم پاکستان میں کم از کم دو سال قبل 7 ایل این جی لا سکتے تھے مگر یہ کرپشن کی ایک اور دل شکن داستان ہے کیوں کہ چند پسندیدہ افراد کی وجہ سے ایل این جی پاکستان نہیں پہنچ سکی۔ اس ذیل میں موجودہ وفاقی حکومت اپنی بہترین کوششیں کر رہی ہے۔
منصوبے کے ٹینڈر کھل چکے ہیں‘ اور ایل این جی لانے میں 7 سے 14 ماہ لگ سکتے ہیں ۔ اس کے بغیر ہم گیس کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ ہم ملک میں گنے کے پھوگ ‘ چاول کے چھلکے/ بھوسی ‘ کپاس کی چھڑیوں‘ گندم‘ مکئی اور سبزیوں کی باقیات کے 10 ملین ٹن سے بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور پاکستان کے کونے کونے میں پانچ سے دس میگا واٹ کے پلانٹ لگا کر بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں چین اور جرمنی کی مثال اپنانا ہو گی۔ جرمنی اپنے سالانہ فاضل مادوں سے 3500 میگا واٹ بجلی حاصل کر رہا ہے جبکہ پاکستان اسے ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح لائیو سٹاک کے حوالے سے پاکستان دُنیا کا چھٹا یا ساتواں بڑا ملک ہے مگر ہم اس سے توانائی کے شعبے میں فائدہ نہیں اُٹھاتے۔جرمنی جدید ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی کے ذریعے 3500 میگا واٹ حاصل کر رہا ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جرمن ماہرین اب لاہور میں ہیں اور میں ان سے ملاقات کرکے پاور پلانٹ لگانے کے لئے بات چیت کر رہا ہوں۔
جہاں تک شمسی توانائی کا تعلق ہے تو صرف پنجاب اور چولستان کے ریگ زاروں میں ہمارے پاس وافر دھوپ موجود ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے وسائل ایران یا قطر کے گیس کے وسائل کے برابر ہیں لیکن پاکستان میں کمرشل بنیادوں پر شمسی توانائی سے ایک یونٹ پیدا کرنے کی بھی کوشش نہیں کی گئی۔تاہم اب بہاولپور میں قائد اعظم سولر انرجی پارک پر کام جاری ہے ۔ وہاں سڑکیں ‘ پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کام ہو رہا ہے ۔
چین کی کمپنیوں سے اس منصوبے کے ذریعے ایک ہزار میگا واٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔ ہم نے پنجاب میں 500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے سولر پاور پلانٹس کے لئے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں سے معاہدے کئے ہیں جن سے ارزاں نرخوں پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی۔ ہم نے آغاز کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں توانائی کا حالیہ منظر نامہ بدل دیں گے۔پہلے 100 میگا واٹ آئندہ چند مہینوں میں پنجاب کے قومی گرڈ میں شامل کر دئیے جائیں گے۔ سندھ میں جام پیر کے علاقہ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی خاصی گنجائش ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب اس سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اسی طرح تھرکول سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات سے فائدہ نہیں اُٹھایا گیا ‘ اب ہمیں ان سے فائدہ اُٹھانا ہے۔
خواتین و حضرات !
یہ اٹھارہ کروڑ لوگوں کا ملک ہے جس نے نام وَر سائنس دان ‘ ریاضی دان‘ بینکرز‘ سیاست دان ‘ جرنیل ‘ سپاہی‘ جج‘ کسان اور صنعت کار پیدا کئے ہیں۔ پاکستان آج ایک ایٹمی ملک ہے ۔حالات مشکل ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں تعلیم‘ صحت اور دیگر شعبوں میں بہت کچھ کرنا ہے اور اس کے لئے عزمِ صمیم کی ضرورت ہے۔ ہمارا عزم تھا کہ ایٹمی قوت بنیں گے اور اللہ نے ہماری مدد کی۔ یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ اللہ اُنہی کی مدد کرتا جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔میں اس امر پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہم صرف تقریریں کرتے رہے اور عملی اقدامات نہ اُٹھاسکے تو پھر قیامت تک اس ملک میں کچھ نہیں بدلے گا۔ لیکن اگر ہم کم بولیں اور با مقصد گفت گو کریں تو ہم اپنی مشکلات کو ترقی و خوش حالی اور دُکھوں کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے تاہم نا ممکن ہرگز نہیں ۔ دُنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ چین اور جنوبی کوریا کی مثال دی جا سکتی ہے جو 60 ءکی دہائی تک ہم سے رہ نمائی حاصل کرتے تھے اور ہمارے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔
 آج یہ ہر لحاظ سے کام یاب ملک بن چکے ہیں۔ 90ءکی دہائی میں بھارت ہمارے معاشی ماڈل کی پیروی کر رہا تھا‘ ہماری معیشت بھارت سے کہیں زیادہ مضبوط تھی ‘ ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر بھارت سے بہت آگے تھالیکن آج ہم دیکھیں کہ بھارت کہاں کھڑا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ میں ان مثالوں کو اکثر دہراتا رہتا ہوں ‘ آپ بھی اس کا موازنہ کر سکتے ہیں کہ چین ہمارا بہترین اور با اعتماد دوست ہے لیکن چین کے ساتھ ہماری باہمی تجارت فقط 6 بلین ڈالر ہے جبکہ بھارت کے ساتھ چین کی تجارت کا حجم 85بلین ڈالر ہے ۔چین کے لوگ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہماری دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں جو کہنا چاہتا تھا وہ آپ تک پہنچانے میں کام یاب رہا۔
خواتین و حضرات !
میں آپ سب کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے میری باتوں کو غور سے سُنا۔ دوران گفتگو میں قدرے جذباتی ہو گیا تھا لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں جذبات کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔ انشاءاللہ ہم تمام مشکلات پر قابو پائیں گے کیوںکہ میرا اس امر پر یقین ہے کہ پاکستان کی عظیم اجتماعی قوت کے سامنے کچھ بھی ناقابلِ تسخیر نہیں۔ (ختم شد)