ظفر علی خاں کی زندگی کے چند گوشے

28 نومبر 2013

مولانا ظفر علی خاں کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کے حوالے سے ایک مختصر تحریر میں اظہار خیال کرنا انتہائی مکل امر ہے۔ برصغیر کی جدوجہد آزادی میں ظفر علی خاں کا کردار نمایاں اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بیک وقت ایک بہادر سیاست دان ‘ آتش بیاں مقرر‘ قادر الکلام شاعر‘ بلند پایہ ادیب اور کمال درجے کے صحافی تھے۔ ایک مترجم کے طورپر بھی ان کا مقام منفرد تھا۔ تحریک آزادی کی صف اول کی قیادت کا اگر ذکر کیا جائے تو ظفر علی خاں آپ کو قائداعظم ‘ علامہ اقبال اور مولانا محمد علی جوہر جیسے جلیل القدر مشاہیر کے ساتھ کھڑے نظر آئینگے۔ انگریز کے دور استبداد میں کلمہ حق کہنے کی پاداش میں جتنی قربانیاں ظفر علی خاں نے اور قید و بند کی جتنی صعوبتیں ظفر علی خاں نے برداشت کیں اور جتنی دفعہ پابندیاں انکے اخبار زمیندار پر لگیں۔ یسی مثال کسی اور صحافی کو پیش نہیں کی جا سکتی۔ اہل صحافت میں سے جتنا زور اور جیسا جذبہ ظفر علی خاں کی شاعری میں تھا اس کی بھی کوئی دوسری مثال نہیں کی جا سکتی۔ مولانا ظفر علی خاں کی کی نظم اور نثر دونوں کا پایہ بہت بلند تھا۔ ان کا قلم تمام عمر ایک اعلیٰ ترین نصب العین کیلئے وقف رہا۔ ظفر علی خاں ایک شعلہ نوا مقرر تھے مگر انکی تقاریر پر عالمانہ رنگ غالب ہوتاتھا۔ شاعری میں ظفر علی خاں کیلئے وجہ تفاخر اور مایہ نازش ان کی نعتیں ہیں بقول شورش کاشمیری ”حضور سرور کائنات سے انہیں جو عشق تھا وہ ان کی شاعری کی جان ہے۔ ان کی نصف شاعری عشق رسول سے بھری پڑی ہے۔ حضور نبی کریم کے عشق میں ڈوبی ہوئی ظفر علی خاں کی نعتوں میں ذرا ان کا والہانہ اظہار ملاحظہ ہو۔
نہ پہنچے وہاں جبرائیل امیں بھی
بلند اس قدر ہے مقام محمد
مرا منہ چوم لیا روح الامیں نے
لیا میں نے جس وقت نام محمد
ظفر علی خاں کی کے درج ذیل اشعار تو روز محشر ان کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا سبب بن جائیں گے۔ حضور نبی پاک کی عزت و حرت کے لئے جانثار کی تعلیم ظفر علی خاں کا زندگی بھر مشن رہا۔
نماز اچھی‘ حج اچھا‘ روزہ اچھا‘ زکوٰة اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
ظفر علی خاں نے محض رسمی طور پر یا برکت کیلئے نعتیہ اشعار نہیں لکھے بلکہ ان کے پیش نظر مقصدیت تھی وہ سیرت طیبہ کے محاسن و اوصاف کے عاشق تھے اور ان کا نظریہ تھا کہ حضور نبی پاک سے محبت و عقیدت کا حق اسی وقت تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک مسلمان خود اسوہ رسول پر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عمل نہ کریں۔ ظفر علی خاں کا ارشاد ہے کہ ہمیں سرکار دو عالم کی مدح سرائی کر کے اپنے دلوں اور روحوں کو تسکین کا سامان فراہم کرنے کیساتھ ساتھ اپنی زندگیوں میں مجاہدانہ رنگ بھی پیدا کرنا چاہئے۔ ظفر علی خان کا ارشاد ہے کہ ہمیں سرکار دو عالم کی مدح سرائی کر کے اپنے دلوں او روحوں کو تسکین کا سامان فراہم کرنے کیساتھ ساتھ اپنی زندگیوں میں مجاہدانہ رنگ بھی پیدا کرنا چاہئے۔ ظفر علی خاں اگر آزادی ہند کی تحریک اور پھر قیام پاکستان کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے ملت اسلامیہ کے ہراول دستہ میں شامل رہے تو اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ ظفر علی خان کو اس قوم کی زبوں حالی اور غلامی کی زندگی گوارا نہیں تھی جس قوم کو نوید مسیحا‘ سرور کونین ‘ حضور رحمتہ اللعالمین سے نسبت حاصل تھی۔ ظفر علی خاں نے صرف اپنے اخبار زمیندار کو ہی تحریک پاکستان کیلئے وقف نہیں کررکھا تھا بلکہ 1940ءسے لے کر 1947ءتک ظفر علی خاں نے مسلم لیگ کو منظم کرنے اور حصول پاکستان کی جدوجہد کی کامیابی کیلئے ہندوستان کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا اور اپنی یمان افروز تقاریر سے تحریک پاکستان کیلئے مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ پیدا کر دیا۔ قائداعظم مجاہد آزادی مولانا ظفر علی خاں کی جرات اور جذبہ آزادی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے لاہور میں اپنے ایک بیان میں درج ذیل الفاظ میں مولانا کو خراج تحسین پیش کیا۔ ”مجھے پنجاب میں دو ایک ظفر علی خاں جیسے بہادر آدمی دے دو‘ میںآپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پھر مسلمانوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔“
تحریک پاکستان مولانا ظفر علی خاں کی زندگی کا آخری معرکہ تھا اور اس معرکے کیلئے ان کی زبان و قلم‘ شعر و ادب اور دل و دماغ سب واقف تھے۔ ظفر علی خان نے تحریک پاکستان کو حق و انصاف کی تحریک قرار دیا اور اس تحریک کیلئے قید و بند کی سختیاں ایک طویل عرصہ تک برداشت کیں کئی بار ان کا اخبار بند ہوا۔ پریس ضبط کیا گیا‘ ضمانتیں طلب کی گئیں۔ پھر یہ ضمانتیں بھی ضبط ہوئیں ظفر علی خان نے تحریک پاکستان آزادی پر اپنا سب کچھ قربان کر دینا برداشت کر لیا لیکن ایک لمحے کیلئے بھی انکے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ ظفر علی خاں نے اپنے ایک شعر میں نظریہ پاکستان کی وضاحت اس طرح کی تھی....
 کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ملت وطن سے
حالانکہ ہے فرمودہ شاہ دوسرا اور
ظفرعلی خان نے قائداعظم محمد علی جناح کو اپنے درج ذیل اشعار میں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
زیبا ہے اسے ملت بیضا کی قیادت
اسلام اسے کیا مرتبہ دے اس کے سوا اور
ملت کا تقاضہ کہ اے قائداعظم
اسلامیوں کی شان میں کچھ چاند لگا اور
ظفرعلی خان نے تحریک پاکستان کے مخالف اور قائداعظم کے سیاسی حریف گاندھی کو مکر کی آندھی‘ انگریزوں کا بندہ بے دام اور دشمن اسلام کا خطاب دے رکھا تھا اور قائداعظم کی قیادت میں مولانا ظفر علی خان کو قیام پاکستان پر اتنا یقین تھا کہ انہوں نے یہ ولولہ انگیز شعر کہا۔....
قسم ہے جذبہ حب وطن کی بے پناہی کی
ہمارا ملک غیروں کا غلام اب رہ نہیں سکتا
آزادی کے موضوع پر ظفر علی خاں کا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے ....
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے
یا تختہ جگہ آزادی کی یا تخت مقام آزادی کا