بلدیاتی انتخابات میں مقناطیسی سیاہی استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

28 نومبر 2013

راجہ عابدپرویزabidrajput1@mail.com
الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے کل باقاعدہ شیڈول کا اعلان کرکے نوٹیفیکیشن جاری کردے گا،دونوں صوبوں نے حلقہ بندیوں کا کام مکمل کرلیا ہے،الیکشن کمیشن کی ہدایات پر پنجاب اور سندھ نے الیکشن قوانین اور رولزبھی تیار کرلیے ہیں،الیکشن کمیشن نے اس بار بلدیاتی انتخابات میں مقناطیسی سیاسی استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،بلوچستان میںپہلے سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق 7دسمبر کو انتخابات ہونگے ،بلوچستان میں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کردیے ہیں اور انتخابی عمل اپنے شیڈول کے مطابق جاری ہے ،ملک میں دھشت گردی کے اس ماحول میں حکومت کے لئے بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہونگے،الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کو عام انتخابات سے بڑا اور پیچیدہ الیکشن قرار دیا ہے،اور اس دوران امن وامان برقراررکھنے کے لئے فوج،پولیس اور ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اور صوبوں کو کہا ہے کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تفصیل الیکشن کمیشن کو ارسال کریں،فوج کی تعیناتی کے لئے الیکشن کمیشن نے پہلے ہی وزارت دفاع کو لکھ رکھا ہے،جس پر فوج کے طرف سے الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون کی یقین دھانی کرائی گئی ہے،بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لئے مناسب وقت ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن بیلٹ پیپر کی چھپائی کو ایک بڑا مرحلہ قرار دے رہا ہے،پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لئے ایک بار پھر کم وقت ہونے کا مسئلہ پیش کیا ہے،مگر الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے مقرر وقت کے اندر بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا تمام کام مکمل کرنے کی ذمہ داری پرنٹنگ کارپوریشن پر ڈالتے ہوئے اس کام کو پوراکرنے کا حکم دیا ہے،بلدیاتی انتخابات میں الیکشن سامان کی بروقت ترسیل کے لئے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز اور سی ون تھرٹی جہاز بھی استعمال کیے جائیں گے،پنجاب کی طرف سے نئے الیکشن قوانین اور رولز آنے کے بعد اب امیدواروں کو نئے سرے سے فارم جمع کرانے پڑیں گے جس پر نہ صرف پارٹی وابستگی درج کرنا ہوگی بلکہ یونین کونسل کے نام کے ساتھ ساتھ وارڈ کا نام بھی درج کرنا ہوگا، گزشتہ عام انتخابات کے دوران عام سیاہی میں لوہے کے ذریعے ڈالے گئے تھے اور اسے مقناطیسی سیاہی کا نام دیا گیاتھا مگراس سے انگوٹھوں کے نشان پڑھنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا، حکومت کے کروڑوں روپے اضافی خرچ کرائے گے،اس سے عام اور سستی سیاہی استعمال کرکے کہیں بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے تھے ،دلچسپ بات یہ ہے کہ نادرا کے سیکینرزمیں لوہے کے ذروں کو ریڈ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں،عام سیاہی سے لگے ہوئے صاف انگوٹھے کو سکینر بہتر ریڈ کرسکتا ہے۔ کسی بھی سیاہی سے لگے ہوئے انگوٹھے کے نشان کو سیکینر ریڈ کرسکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ صاف لگاہوا ہو،گزشتہ انتخابات کے دوران 2لاکھ مقناطیسی سیاہی کے پیڈ استعمال کیے گے تھے مگر نادرا خود اس سیاہی سے لگے ہوئے انگوٹھے نہیں پڑھ سکا،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نادرا نے تجویز دی ہے کہ مقناطیسی سیاہی کے بجائے عام سیاہی کے اجزاء ترکیبی کو بہتر کرکے اس سے مقناطیسی سیاہی سے کہیں زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں، نئی سیاہی میں کوئی خاص چیز نہیں ڈالی جائے گی بلکہ کچھ چیزوں کا خیال رکھا جائے گا،جیسے سیاہی کے پیڈز میں اتنا پانی نہ ہو کہ وہ انگوٹھے کو تر ہی کردے اور وہ کاغذ پر انگوٹھے کی لکیروں کو واضع نہ کرے،اور اتنا خشک بھی نہ ہوکہ بالکل نشان ہی نہ لگے،سیاہی فیڈ نہ ہو،اسی طرح پیڈ کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے گا اورانگوٹھے لگانے کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جائے گا تاکہ اس سے زیادہ انگوٹھے لگائے جاسکیں،نئی سیاہی مقناطیسی سیاہی سے سستی اور جلد تیار ہوسکے گی،گزشتہ انتخابات میں استعمال ہونے والی سیاہی پی سی ایس آئی آر نے خود تیار کی تھی جبکہ نئی سیاہی پرائیویٹ سیکٹر سے بھی باآسانی تیار کرائی جاسکتی ہے،گزشتہ عام انتخابات کے دوران ووٹر کو صرف ایک انگوٹھا لگانا پڑتا تھا جبکہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹر کو متعددانگوٹھے لگانے پڑیں گے،بلدیاتی انتخابات میں پولنگ بوتھ بھی زیادہ بنائے جارہے ہیں،اس لئے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے سیاہی کے 23لاکھ پیڈ درکار ہونگے۔الیکشن کمیشن میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے لئے دن رات کام جاری ہے اس کے لئے الیکشن کمیشن کے عملہ کی چھٹیاںمنسوخ کردی گئی ہیں،اور الیکشن کے تمام دفاتر ہفتہ کے سات دن کھولے جاتے ہیں،موجودہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بعض سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین میں بلدیاتی نمائندوں کو بلدیاتی نظام کی روح کے مطابق اختیار نہیں دیے گئے،صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات صرف سپریم کورٹ کے دبائو پر کرارہی ہیں ورنہ انہیں بلدیاتی نظام میںکوئی دلچسپی نہیں،اس باروجود میں آنے والے یونین کونسل،تحصیل/ٹائون اور ضلعی چیئرمینوں کے پاس کوئی خاص اخیتارات نہیںہونگے،اس نظام کو لولا لنگڑا کردیا گیا ہے،صرف اس لئے کہ گراس روٹ لیول پر عام آدمی کے پاس اختیارات نہ چلے جائیں اور سیاسی پارٹیوں کو نقصان نہ ہو،نئے بلدیاتی نظام میں اگر عوام کو پہلے کی طرح فوائد حاصل نہ ہوئے تو پھر مہنگائی،بدامنی اور دھشت گردی سے تنگ عوام موجودہ حکمرانوں سے مزید بددل ہوجائیں گے،ملک جن حالات سے گذر رہا ہے اس بات کی اشد صرورت ہے کہ حکمران عوام کے جذبات کا خیال رکھیں،بلدیاتی ادارے عوامی جذبات کے سامنے حکومت کے لئے ڈھال کا کام کرنے کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ بلدیاتی نمائندوں کا براہ راست رابطہ عوام سے ہوتا ہے اور بلدیاتی نمائندے ہی عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے میں اہم کردار ادار کرنے کی صیح معنوںمیںصلاحیت رکھتے ہیں،اس طرح سیاسی پارٹیاںکو بھی قانون سازی جیسے اہم کام کرنے کے لئے مناسب وقت مل جاتا ہے،موجودہ حالات کے دوران دیکھاجائے تو اسمبلیوںمیں اراکین حاضر نہیں ہوتے انہیں عوامی رابطے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنے اپنے حلقوںکو وقت دینا پڑتا ہے،اسمبلیوںمیں عام اراکین سمیت وزیر بھی حاضر نہیںہوتے یہاںتک کہ کئی مرتبہ کورم بھی پورانہیں ہوتا،اگر حکومت گڈ گورنس کے لئے اپنی ترجہات اور فارمولا طے کرے اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ اس پر نیک نیتی سے عمل درآمد بھی کرے تو پاکستان کے آدھے مسائل حل ہوجائیںگے،پاکستان میں سیاسی پارٹیوںکا المیہ یہی ہے کہ جب یہ اپوزیشن میںہوتی ہیں توعوام کے غم میں حکومت پر خوب نقطہ چینی کرتی ہیں مگر جب حکومت میں آتی ہیں تو پھر وہی سب کچھ کرتی ہیں جس کے خلاف پہلے بڑے بڑے دعوے کرتی رہیں تھیں،نئے بلدیاتی نظام کے تحت بھی اگر حکومت بلدیاتی اداروں کو مکمل خود مختار کرتی ہے اور ان کے کام میںکوئی مداخلت نہیں کرتی تو پھر بھی امید کی جاسکتی ہے کہ عوام کو کچھ کچھ ریلیف ضرور ملے گا اور ان کے مقامی سطح کے مسائل ان کی دھلیز پر ہی حل ہوجائیں گے۔