خارجہ پالیسی میں پاک ایران تعلقات کی کلیدی حیثیت

28 نومبر 2013

حیات ملکا
ایران ایٹمی معاہدہ بالآخر طے پا گیا۔ جنیوا مذاکرات کی کامیابی اقوام عالم کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ ایران اور 6عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمن کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے جاری مذاکرات کا دوسرا دور نتیجہ خیز ثابت ہو ا اور ایک شارٹ ٹرم ایگریمنٹ جو اگلے 6ماہ کی مدت پر محیط ہے طے پایا۔ اس معاہدہ کے نتیجہ میں ایران کو فوری طور پر 7ارب ڈالر کا فائدہ ہو گا جو پچھلے کئی سالوں سے ایران پر عائد پا بندیوں کی وجہ سے رکا ہوا تھا۔ اس معاہدہ کی رو سے ایران یورنیم کی افزودگی محدود پیمانے پر یعنی 5%تک جاری رکھ سکے گا۔ اور 20فیصد یورنیم افزودگی کا ذخیرہ ضائع کرنے کا پابند ہو گا۔ نیز یہ کہ وہ ہیوی واٹر ری ایکٹر پروجیکٹ پر کام روک دے گا۔ تاکہ مذکرات کا سلسلہ مزید 6ماہ تک پر امن فضا میں جاری رکھا جا سکے۔ دریں اثناءیہ کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کی روزانہ کی بنیاد پر انسپکشن کروانے کا پابند ہو گا۔ عالمی ایٹمی کنٹرول ادارہ کے لیے ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کو کھلا رکھے گا۔ تاکہ ایٹمی کنٹرول ادارہ ایران کی ان سر گرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکے جن کو محدود رکھنے کا اس نے عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے ٹی وی پر قوم کو اس معاہدہ سے مطلع کیا اور اس کو ایران کی فتح قرار دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی نے بھی اس معاہدہ پر خوشی کا اظہار کیا اور اس طرح معاہدہ کی توثیق کر دی۔ ایران ایٹمی معاہدہ سے نا صرف یہ کہ جنوبی ایشیاءکی فضا میں مثبت تبدیلی متوقع ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال میں توازن برقرار رکھنے میں خاصی مدد ملے گی۔ خلیجی ممالک کی دن بدن بڑھتی ہوئی پریشانی جو ایران کے ایٹمی پروگرام کے پیش نظر خوفناک صورتحال اختیار کر چکی تھی۔ اب اس میں فطری طور پر کمی واقع ہو گی۔ دونوں طاقتوں نے باالآخر بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت اپنے دیرینہ تقریباً 34سال پرانے جھگڑے پر قابو پا لیا ہے اور جس پر دیگر بڑی طاقتوں جن میں چین روس وغیرہ شامل ہیں نے خوش دلی کا اظہار کیا۔ مگر ریجن میں موجود دیگر ممالک جن میں بالخصوص پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی جہت کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ برملا کہنے میں کیا حرج ہے کہ ریجن میں ٹرائیکا کا وجود جنم لے رہا ہے۔ یہ احتمالِ خیال ہے کہ محلِ نظر مگر کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔ مبصرین کے نزدیک اب پاکستان پہلے سے بہت مختلف صورتحال سے دو چار ہے۔ امریکہ پاﺅں سکیڑتا جا رہا ہے۔ افغانستان سے انخلا اور ایران کے ساتھ بیک ڈور معاہدات لیکن پاکستان کے ساتھ گویا گھمسان کی جنگ جاری و ساری ہے۔ جس میں تیزی و تندی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ مبصرین امریکہ، ایران اور بھارت کو خطے میں ایک ٹرائیکا کا نام دے رہے ہیں۔ جس سے یقینا پاکستان کے تنہا ہونے کا گمان حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
کیا امریکہ اس نہج پر تعلقات استوار رکھ سکے گا جس میں ایران ، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کو ایک بلاک کی شکل دی جا سکے۔ اس سوال اور اس چیلنج کو آئیندہ آمدہ حالات کے دوش پر چھوڑتے ہیں۔ فی الحا ل تو یہ خبر عام آدمی کے لیے خوش آئیند ہے کہ اس معاہدہ کے ردعمل میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہو گئی ہے جس سے عام صارف کے لیے ایک گونا مہنگائی میں کمی کا چانس ہے۔ ایران پاکستان سوئی گیس پائپ لائن معاہدہ کی جانب پیش رفت کا امکان پیدا ہوا ہے۔ ایران پر عائد پابندیوں کے پیش نظر یہ معاہدہ کھٹائی میں پڑتا جا رہا تھا مگر اب جب کہ یہ پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں تو اس گیس پائپ معاہدہ پر عملدرآمد ہونے کے تمام پہلو جاگ اٹھے ہیں۔ اب ایران فنڈز کی فراہمی میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرے گا۔ تاکہ اس عظیم منصوبہ پر کام جاری ہو سکے۔ وزیراعظم پاکستان کے امورِ خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز معاہدہ کے فورا ًبعد ایران سدھار چکے ہیں۔ گمان غالب ہے کہ وہ گیس پائپ لائن سے متعلق پاکستان کا مو¿قف بیان کریں گے جس میں فنڈز کی فراہمی کا مسئلہ اٹھایا جا ئے گا۔ تیل کی ترسیل کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا۔ جو پچھلے کئی سالوں سے اٹکا ہوا ہے۔ جب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں یعنی 2010سے اب تک ایران سے تیل کی فراہمی بند ہے۔ اس معاملے میں بھی پیش رفت کی توقع موجود ہے جو یقینا مشیر امور خارجہ ایران کے ساتھ دیگر باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ یہ اہم نقطہ بھی اٹھائیں گے۔ تیل اور گیس کی ترسیل سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے روایتی اسلامی بھائی چارے کی فضا مزید استوار ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی ایٹمی معاہدہ سے مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک معترض نظر آتے ہیں جن میں سعودی عرب نمایاں ہے۔ غالباً امریکہ کا اچانک ایران کی جانب جھکاﺅ اور ایک دم اتنا بڑا اقتصادی فائدہ جو تقریباً فوری طور پر 7ارب ڈالر کے برابر ہے مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کے لیے معنی خیز امر ہے۔ اسرائیل اس پر بطور خاص اپنے اعتراضات محفوظ رکھتا ہے اور اس نے اس معاہدہ سے صریحاً اختلاف کیا ہے ۔
ٹیکنیکل ماہرین کے نزدیک اب ایران ایٹمی قوت بننے سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ کیونکہ ایگریمنٹ کے مطابق وہ صرف 5فیصد یوینیم کی افزودگی کر سکے گا جو محض بجلی کی پیداوار کی حد تک ہے۔ مگر اس سے کوئی بڑا پروجیکٹ وجود پزیر نہیں ہو سکتا ۔ ان کے نزدیک اب ریجن میں بھارت کے علاوہ محض پاکستان ایٹمی قوت کہلانے کا حق رکھتا ہے۔ یہی بات امریکہ اور اس کے اتحادی دوستوں کے لیے سوہانِ روح ہے۔ چنانچہ اس ایشو پر ان کی پیش قدمی میں تیزی آنے کا امکان موجود ہے۔ حالات میں مزیدہ تناﺅ کی توقع محلِ نظر نہیں۔ مبصرین کے نزدیک امریکہ اپنی تمام تر توجہ شاید اب پاکستان پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے۔ جس کے لیے اس نے ریجن میں موجود بقیہ طاقتوں سے تعلقات استوار کر لئے ہیں۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے خدشات کا سچ ثابت ہونا خالی از امکان نہیں۔ گویا اب پاکستان کو تنہائی کی گہری کھائی سے ابھر کر نکلنا ہو گا جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں پاک ایران تعلقات کو کلیدی حیثیت میں رکھے۔
٭....٭....٭....٭