قبائلی شہداءاور زخمیوں کو بھی مالی پیکج دیا جائے

28 نومبر 2013

 یاسین خان
1988میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے گومل یو نیو رسٹی ڈیرہ اسما عیل خان میں بانی کارکن کی حیثیت سے سیاسی سفر کاآغاز کرنے والے غالب خان وزیر 2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر این اے 41جنوبی وزیر ستان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، غالب خان کی سیاسی جدوجہد کو خیبر پختونخواہ کا ہر سیاسی کارکن نہ صرف جانتا بلکہ تسلیم بھی کرتا ہے، قومی اسمبلی میں جنوبی وزیرستان جیسے علاقہ سے مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر کا میابی میں پارٹی کے بجائے غالب خان کی قوم اور ان کی علاقے کے عوام کے خدمات کا کردار سب سے زیادہ ہے ، ان کی کا میابی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پارٹی کے اس دیرینہ اور فاٹا سے کا میاب ہونے والے سب سے سینئر مسلم لیگی کو ضرور وفاقی سطح پر وزارت دی جائے گی مگر خیبر پختونخواہ کی دیگر لیگی قیادت کی طرح پارٹی نے ابھی تک غالب خان کو بھی شکست خوردہ قیادت کی لسٹ میں رکھا ہوا ہے اور کابینہ میں ان کی عدم موجودگی پر فاٹا کے عوام کو شدید تحفظات بھی ہیں، ڈیرہ اسما عیل خان میں پروآن چڑھنے والے غالب خان وزیر ایڈوکیٹ نے نوائے وقت کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ جب سے سیاسی شعور سنبھالا تو مسلم لیگ کا سبز ہلالی پرچم نہ صرف تھاما بلکہ گومل یو نیو رسٹی میں اسے بزور بازو لہرایا بھی ہے، اسلام اور مسلم لیگ(ن) سے محبت والدین سے وراثت میں ملی اور وفاءخون میں شامل ہے ، اور وقت ثابت کرے گا کہ علاقہ کے عوام سے وفاءآخری دم تک نبھاﺅں گا، انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے عوام نے 2008کے عام انتخابات میں بھی مجھے کا میاب کیا مگر ماضی کی حکومت کو اسمبلی میں مولانا کی حمایت درکار تھی جس کی وجہ سے میری ہماری فتح کو شکست میں تبدیل کیا گیا مگر اللہ کے فضل و کرم سے حالیہ انتخابات میں عوام نے مجھے اسمبلی میں بھیج کر اپنے ماضی مسلم لیگ سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے، قیام پاکستان، استحکام پاکستان کی جدو جہد میں قبائل نے ہمیشہ مسلم لیگ کا ساتھ دیا اب جنوبی وزیرستان کے قبائل مسلم لیگی قیادت اور حکومت سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ہماری اس محبت اور اسمبلی میں (ن) لیگ کے ٹکٹ پر بھجوائے گئے نمائندہ کو وفاءکا کیا صلہ دیتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے ہر فورم پر دوٹوک اور واضح موقف اپنا کر قبائل کا دل جیتا ہے، قبائل دین کے شیدائی اور پاکستان کے جا نثار ہیں اور ڈروں حملوں کی صورت میں بے گناہ قبائیلوں کو شہید کیا جاتا ہے، ہم اپنے شہداءکے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں، ہمیں صرف اور صرف اسلام اور پاکستان سے محبت کی سزاءدی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ تباہی پرویز مشرف کی مرہون منت ہے اور اس تباہی میں (ق) لیگ، مولانا صاحبان، تحریک انصاف ، ایم کیو ایم برابر کی شریک ہے جس نے مشرف کا ساتھ دیا اور مفادات اٹھائے، انہی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت نے ایک جمہوری حکومت پر شب خون مارنے والے آمر کو مضبوط کیا جس نے اس خطے میں امریکی بالا دستی قائم کی، امریکہ سے معاہدے کئے اور آج ڈرون ہماری سرحدات پر راج کررہے ہیں، اگر ہم مشرف کو اس کا مجرم قرار دیتے ہیں تو پھر میرے نزدیک مسلم لیگ(ق) ، تحریک انصاف، ایم کیو ایم ، جے یو آئی کی قیادت بھی اس جرم میں برابر شریک ہے اور آج یہ لوگ صرف اور صرف عوام کو بے وقوف بنانے کے لیئے ڈرون حملوں کی مخالفت کررہے ہیں۔ میری یہ کوشش ہے کہ علاقے میں تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے، علاقے میں بجلی کی سہولیات فراہم کی جائیں اور قبائل کے لیئے روز گار کے مواقع بڑھائے جائیں، اس ضمن میں میری یہ بھی کوشش ہے کہ گومل یو نیو رسٹی کا وزیرستان کمپس قائم کیا جائے تاکہ وزیرستان کے بچوں کو دہلیز پر ہی اعلیٰ تعلیم میسر ہو، وزیرستان کے عوام کو روزگار بھی اس سے ملے گا اور علاقے میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی، انہوں نے کہا کہ قبائل اور بندوبستی اضلاع میں بیوروکریسی سرکاری وسائل پر قابض ہے، قبائل میں پولیٹکل حکام قبائل کا استحصال کرتے ہیںجو لوگ ٹی وی مذاکروں اور بڑے بڑے سیمنارز میں بیٹھ کر اس ملک کو بچانے کو اپنا کریدٹ کہتے ہیں حقیقی معنوں میں انہی لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ہے ا ور ریکارڈ کرپشن کی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم کرپشن کے خاتمہ میں کا میاب ہوجائیں تو ہماری نسلوں کے لیئے یہ ملک دبئی سے زیادہ وسائل رکھتا ہے،ایک سوال کے جواب میں غالب خان وزیر نے کہا کہ میں گذشتہ پینتیس سالوں سے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ وابستہ ہوں، میں اس صوبے کے ایک ایک کارکن کی قومی اسمبلی میں آواز ہوں، خیبرپختونخواہ کی لیگی قیادت اور کارکن مجھے اپنی آواز سمجھیں اور میں ان کے حقوق اور مسائل کے حل کی جودجہد کو اپنا ایمان سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بندوبستی علاقوں میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداءاور زخمیوں کے لیئے امدادی رقوم دی جاتی ہیں مگر قبائل میں انگریز کے ظالمانہ قوانین کو بنیاد بناکر دکھی اور زخمی قبائل کا پوچھا تک نہیں جاتا یہ پالیسی ترک کی جائے اور قبائل میں ہونے والے دھماکوں اور حملوں کے بے گناہ شہداءاور زخمیوں کے لیئے بھی مالی پیکج کا اعلان کیا جائے، ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے اور بے گناہ زخمی ہوجاتے ہیں وہ اپنے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور سسکتے سسکتے دم توڑ دیتے ہیں، ان کی مالی معاونت انتہائی ضروری ہے