تحریک الشباب صومالیہ کی سرگرمیوں کے پڑوسی ممالک پر اثرات

28 نومبر 2013

 ظفراقبال راﺅ
محمد عبدقادر محمد کینیا میں کام کرنے والی دہشت گرد الشباب تنظیم کا سب سے خطرناک لیڈر ہے۔ کینیا میں اسے عکرمہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ الشباب صومالیہ نژاد نوجوان بالخصوص اسلامی انقلاب پسندوں کی ایک تنظیم ہے جس کے ڈانڈے القاعدہ سے ملتے ہیں۔ امریکہ اس تنظیم سے بھی طالبان کی طرح خوفزدہ ہے کیونکہ انہوں نے امریکہ کی سرزمین پر صومالی نوجوانوں کو جمع کر لیا ہے اور اس کا امکان ہے کہ یہ تحریک امریکہ کی اپنی سرزمین پر کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیں۔ امریکہ نے صومالیہ میں بھی منافقانہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ ایک طرف تو وہ اقوام متحدہ کی حمایت میں الشباب کی حمایت کرتا ہے اور دوسری جانب اس نے سپیشل فورسز اور ڈرونز کے ساتھ ان کی جہادی سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کیا ہوا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کو روکتا بھی ہے۔
الشباب کا نقطہ¿ نظر:۔
صومالیہ دنیا کے سب سے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں بہت سی اسلامی انقلابی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ الشباب، الاتحاد الاسلامی نامی تحریک کا تسلسل ہے۔ الاتحاد الاسلامی کا متشدد گروپ ہے جسے 1990 کی دہائی میں پذیرائی ملی۔ بالخصوص جب 1991ءمیں صیاد بیری کا ملٹری دور حکومت زوال پذیر ہوا اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئی۔ الاتحاد الاسلامی کے جنگی اور مسلح کمانڈرز کو القاعدہ کی حمایت حاصل تھی، الاتحاد کے بہت سے رہنما جن کی اکثریت اب الشباب میں شامل ہے، 1991ءمیں جہاد افغانستان کے لئے افغانستان آگئے۔ ان کے وہاں سے آنے کی ایک وجہ ایتھوپیا کی فوج کا دباﺅ بھی تھا۔ بعدازاں 2001ءمیں نائن الیون کے بعد امریکہ نے الاتحاد الاسلامی کو دہشت گرد گروپ قرار دے دیا۔ 2006ءمیں ایتھوپیا نے صومالیہ پر حملہ کرکے اسلامک کورٹس یونین کو موغا دیشو سے نکال باہر کیا۔ اسلامک کورٹس یونین الشباب کی ہمخیال متوازی تحریک ہے۔ الشباب اس دوران جنوبی صومالیہ منتقل ہوگئی جہاں اس نے اپنے آپ کو دوبارہ منظم کیا اور ایتھوپیا کی فوج پر بمباری اور گوریلا حملے شروع کردیئے۔ اس طرح اس نے مرکزی صومالیہ اور جنوبی صومالیہ کو پھر سے اپنی گرفت میں لے لیا۔
جون 2010ءمیں الشباب نے جہاد کا آغاز کیا اور خودکش بمباری کرکے 74 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ لوگ اس وقت یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ورلڈ کپ دیکھ رہے تھے۔ یہ اس گروپ کی ملک سے باہر پہلی مسلح کارروائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دکیا کو وہ پیغام دیا جو ہر اسلامی تحریک کے شدت پسند بطور نکتہ نظر پیش کرتے ہیں۔
”ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ تمام ممالک جو ہمارے ملک صومالیہ میں فوجی دستے بھیجنا چاہتا ہے کہ وہ سب اپنے اپنے ممالک میں اس طرح کے حملے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں“
تاہم اس اعلان کے باوجود یو این کی حمایت کے ساتھ یوگنڈا، کینیا، برونڈی، جبوتی اورسرے لیونے سے 6000 افراد پرمشتمل آرمی صومالیہ بھیج دی گئی۔
 سوال پیدا ہوتا ہے کہ الشباب ان شدید مسلح کارروائیوں سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟ اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ یہ تحریک بھی بندوق کے ذریعے اسلامی انقلاب برپا کرنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ یہ کام نہ طالبان کرسکے یا وہ کرنا نہیں چاہتے یا ان کی اٹھان کی غلطی کے سبب اسطرح ہو رہا ہے (واللہ اعلم باالصواب) تاہم بقول منور حسن امیر جماعت اسلامی پاکستان بندوق سے نہ اسلام آسکتا ہے نہ امن۔ طالبان اسلام نافذ کرنا چاہتے تو کبھی کا ہو جاتا۔
طالبان کی طرز پر الشباب نے خود ہی اپنی شریعت نافذ کرنے کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ انہوں نے بہت سے تفریحی افعال کو بھی غیر شرعی قرار دیکر انہیں ممنوع قرار دیا ہوا ہے۔ میوزک، سنیما تو چلیں کسی حد تک گوارا لیکن چیونگم جس پر شبہ ہے کہ اس میں منشیات شامل ہے، سگریٹ نوشی، داڑھی کٹوانا کو بھی طالبان کی ہی طرح ممنوع قرار دیا ہے۔ سنگساری، قطع ید جیسی سزائیں بھی رائج ہیں۔ یہ تحریک غیر مسلموں کے ساتھ بھی سخت رویہ روا رکھتی ہے۔ بہت سے مرتدین کا سر قلم کیا جانا بھی ریکارڈ پر ہے۔ انہوں نے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کوقبروں کو بھی مسمار کیا ہے۔ یہی فعل انہوں نے معتدل علماءبالخصوص وہ علما جو جہاد کو ریاست کی اجازت سے مشروط رکھتے ہیں، کی قبروں کے ساتھ بھی دہرایا ہے۔
شیخ حسن داہر اویس جو 1970ءمیں ایتھوپیا کے خلاف لڑا ان کا روحانی و فکری رہنما ہے۔ شیح حسن فوج میں کرنل تھا۔ 2006ءمیں اس نے الشباب کو باقاعدہ اپنی فکری رہنمائی کی گرفت میں لے لیا۔
الشباب کا ذریعہ آمدنی دوسرے عسکریت پسندوں سے بھتہ، صدقات اورچندے، قذاقی اور اغوا برائے تاوان ہے اگرچہ سعودی عرب، یمن، شام، ایران و قطر اور ارہیڑیا نے ان الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔
الشباب امریکی نوجوانوں میں بھی مقبول ہے۔ بالخصوص جوشیلے اور انقلابی سوچ رکھنے والے نوجوان اس تحریک کو اپنا روحانی مرکز قرار دیتے ہیں۔ صومالی افراد جو افریقہ میں مقیم ہیں وہ زیادہ تر اسکے ممبر بن رہے ہیں۔ چونکہ وہ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں اس لئے امریکہ ان کو اپنے لئے داخلی خطرہ محسوس کرنے لگا ہے۔ امریکہ نے اب القاعدہ اور الشباب کے ٹھکانوں پر ڈرونز حملے کرنے شروع کردیئے ہیں۔ امریکہ کی بحریہ اور فضائیہ دونوں مل کر صومالیہ کے اندر اس بغاوت کو رد کرنے والے عناصر کی مدد کرنے اور ان مسلح گروپوں کی مخالفت اور قلع قمع کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے اور یہ سلسلہ اس وقت چلتا رہے گا جب تک عالم اسلام کے تمام ممالک نہایت تابعداری سے امریکہ کی بھرپور غلامی کا طوق اپنے گلے میں نہیں ڈالتی۔ امریکہ اسی طرح پہلے گروپ بناتا اور پھر دہشت گرد قرار دے کر اپنی عسکری، سائنسی اور ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔