کشمیر پالیسی تضادات کا شکار

28 نومبر 2013

سلطان سکندر
”ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے“ کے مصداق وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزہ پابندیوں کے خاتمے کی تجویز اور مقبوضہ جموں وکشمیر پر ساٹھ سال سے قابض اور پانچ لاکھ کشمیریوں کے قاتل ہندوستان کے سیز فائر لائن جیسے معاہدہ شملہ کے ذریعے کنٹرول لائن قرار دیا پر دیوار برلن کی طرح دیوار تعمیر کرنے مذموم منصوبے نے پاکستان کی مسلم لیگی حکومت کی بل کھاتی اور تضادات کا شکار کشمیر پالیسی کے بارے میں کشمیری حلقوں کو ایک بار پھر اندیشہ ہائے درد دراز کا شکار بنا دیا ہے اور آر پار کی کشمیری قیادت کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کی ویزہ تجویز اور ”دیوار برلن“ کی تعمیر کے بھارتی منصوبے پر سخت سخت ردِعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے کے بانی پاکستان قائداعظمؒ کے فرمان کے اعادے پر کشمیر پالیسی کے حوالے سے کشمیری قیادت کی خوش گمانی اور مثبت توقعات نقش برآب ثابت ہوئی ہیں۔ آزاد کشمیر کے ایک سرکردہ اور بزرگ سیاستدان نے نجی محفل میں وزیراعظم پاکستان کی ویزہ تجویز پر برجستہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ” اگر ویزہ ختم کرنا تھا تو قائداعظم نے یہ ملک کس لئے بنایا تھا؟“ وفاقی حکومت کی کشمیر پالیسی ہی تضاد کا شکار نہیں بلکہ آزاد کشمیر پالیسی کا بھی یہی حال ہے وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید کو اپنا وزیراعظم قرار دیا ہے جبکہ وزیر امور کشمیر چودھری محمد برجیس طاہر آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم، قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں وکشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کی معیت میں آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کے دورے کر کے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی تحریک عدم اعتماد کے ڈراپ سین کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی سے نکالنے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لئے وارم اپ کرنے کے لئے وزیراعظم نوازشریف کے ویژن اور پالیسی کے برعکس تقاریر کر رہے ہیں۔ ہاڑی گہل میں ”شیر باغ“ سردار قمر الزمان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن ہارنے والے اور برسوں سے کھٹائی میں پڑی ہوئی شاہراہ مجاہد اول کے ”معمار“ کرنل (ر) راجہ محمد نسیم کے زیر اہتمام جلسہ عام میں وزیر امور کشمیر کا کہنا تھا کہ راجہ فاروق حیدر انمول شخص ہیں میں انہیں وزیراعظم آزاد کشمیر دیکھنا چاہتا ہوں۔ کشمیر کونسل کے سارے فنڈز ان کی ڈسپوزل پر ہیں آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے بنائی گئی تھی جبکہ خود راجہ فاروق حیدر کشمیر کونسل کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف آزاد جموں وکشمیر کونسل کا بجٹ اجلاس پانچ ماہ کی تاخیر سے گزشتہ دنوں کونسل کے وائس چیئرمین اور صدر ریاست سردار محمد یعقوب خان کی زیر صدارت منعقد ہوا مگر دوسرا سیشن کونسل کے چیئرمین میاں نوازشریف وزیراعظم پاکستان کی عدم موجودگی کی وجہ سے تین بار ملتوی ہونے کے بعد آج جمعرات کو متوقع ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ داخلی اور خارجی مسائل کی گرداب میں گھری ہوئی وفاقی حکومت کو مسئلہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے معاملات کے حوالے سے فرصت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک وزیراعظم پاکستان کی نہ تو آر پار کی کشمیری قیادت سے ملاقات ہو سکی ہے نہ ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں وکشمیر کی قیادت سے اندریں حالات جنرل اسمبلی میں کشمیر کو شہ رگ قرار دینے کے بعد ویزہ پابندیاں ختم کرنے کی تجویز، ستم بالائے ستم نہیں تو اور کیا ہے؟
لگی بات مری کا ٹھکانہ کہاں کہ جب ایک سخن میں وہ سحر بیان
کبھی عرش بریں پر چڑھا دے مجھے، کبھی فرش بریں پر گرا دے مجھے