بجلی چوروں کے خلاف مہم کا دوسرا مرحلہ شروع

28 نومبر 2013

راﺅ شمیم اصغر
    وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے گزشتہ دنوں پھر ملتان کا دورہ کیا۔ وہ فیصل آباد کے رہائشی ہیں تو ملتان سے ان کا کاروباری رشتہ ہے۔ اس لئے وہ ملتان آتے رہتے ہیں اور یوں فیسکو اور میپکو براہ راست ان کی نگرانی میں ہیں۔ ملتان میں قیام کے دوران انہوں نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ان کی حکومت جو اقدامات کر رہی ہے ان کے بارے میں تفصیلاً بتایا لیکن انہوں نے دو اہم باتیں بھی کیں۔ ایک یہ کہ حکومت بجلی کی فراہمی کیلئے 135 ارب کی سبسڈی دے رہی ہے اس لئے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ان کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں نجکاری کے لئے ان کے اپنے گھر کی کمپنی فیسکو کی نجکاری کی ان دنوں افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ چونکہ ان کا ملتان سے بھی گہرا تعلق ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے مرحلے میں میپکو کی باری آ سکتی ہے۔ فیسکو کی نجکاری کے بارے میں اب تک جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے۔ فیسکو کما¶ پوت تصور کیا جاتا ہے اس کے باوجود صرف 27 ارب روپے (غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق) میں اس کی نجکاری کی جائے گی جبکہ اس کی آمدنی 22 ارب روپے ہے۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں کوٹ ادو پاور پلانٹ کیپکو کو اس کی سالانہ آمدنی سے بھی کم مالیت کے عوض فروخت کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ وہ پاکستان کے ان دو یا تین پاور پلانٹس میں سے تھا جن میں ری سائیکلنگ کی اضافی خوبی تھی یعنی پلانٹ کے فضلے سے بھی بجلی پیدا کرنے کی سہولت تھی۔ فیسکو کو 27 ارب روپے میں غیروں کے حوالے کرنے سے بہتر ہے قوم ماضی جیسا عذاب بھگتتی رہے کیونکہ فیسکو کے اثاثے اربوں میں نہیں کھربوں میں ہیں۔ قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کر یہ جو ادارے تعمیر کئے ہیں انہیں کوڑیوں کے داموں غیروں کے حوالے کر دینا ایک المیہ ہو گا۔ بہتر تھا کہ حکومت کراچی کی فولاد سازی‘ پی آئی اے جیسے اداروں کی پہلے نجکاری کرتی پھر واپڈا جیسے ادارے کی جانب رخ کرتی لیکن اس سے بھی پہلے بدعنوانی‘ غبن اور کمیشن مافیا کی بیخ کنی کر لی جاتی اس طرح ممکن ہے کہ ان اداروں کی نجکاری کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ محترم عابد شیر علی نے دوسری اہم بات یہ کی تھی کہ بجلی چوروں کے خلاف دوبارہ مہم آج سے ہی شروع کی جا رہی ہے لیکن مافیا نے یہ اعلان ہوا میں اڑا دیا۔ بجلی چوروں کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جس مہم کا آغاز اپنے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد کیا تھا اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے تھے‘ بجلی چوری کی حوصلہ شکنی ہوئی تھی اور لوگوں میں خوف پیدا ہوا تھا‘ لائن لاسز میں کمی ہوئی تھی‘ روزانہ کم از کم چار کیسز کا ٹارگٹ تھا۔ جب تک یہ مہم جاری رہی بڑے بڑے انکشافات ہوئے اور کئی نام نہاد ”شرفائ“ بجلی چور کے طور پر عوام میں متعارف ہوئے۔ اس مہم کی پہلی خرابی یہ تھی کہ ان چوروں کو پکڑنے کے بعد کیا ہوا عوام اب تک اس سے بے خبر ہیں۔ دوسرے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے کرپٹ مافیا کی موجیں ہو گئیں کہ ”مک مکا“ کے ذریعے نمک سرکاری خزانے میں جاتا رہا اور آٹا افسروں کے گھروں میں منتقل ہوتا رہا۔ اگر بجلی چوروں کے خلاف مہم میں اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جاتا تو اس کے فوائد کئی گنا زیادہ ہوتے۔ عابد شیر علی نے بجلی چوروں کے خلاف مہم دوبارہ شروع کرنے کا جو اعلان کیا تھا اس کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کریں تو انہیں معلوم ہو گا کہ بیوروکریسی کس طرح کام کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہم کو آئندہ گرمیوں تک جاری رکھا جائے تاکہ آئندہ گرمیوں میں بجلی کا بحران پیدا نہ ہو۔ لائن لاسز کو ایک خاص حد تک لانے کے ٹارگٹ دئیے جائیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ تین کمپنیاں بلیک لسٹ کر دی ہیں اور زیادہ نقصان دینے والے فیڈرز کو بند کر دیا جائے گا۔ ذمہ دار ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ سب ناکافی ہے۔ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کرپٹ مافیا قابل رحم نہیں۔ اس نے طویل عرصے تک قوم کو نہ صرف لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا رکھا ہے بلکہ صنعتوں نے بھی بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ لائن لاسز والے فیڈرز کے انچارج صاحبان کو 30 روز کی وارننگ بھی ناکافی ہے۔ ان کے خلاف بھی عملی کارروائی ہونی چاہئیے۔ میٹر ریڈروں‘ لائن مینوں سے لیکر ایس ڈی او صاحبان کی جائیدادوں کے گوشوارے بھی طلب کئے جائیں تو بہت سے راز کھلیں گے۔ ملتان میں ہی ایسے لائن مین اور میٹر ریڈر موجود ہیں جو کروڑپتی سے بھی اوپر ہیں۔ جن دنوں بجلی چوروں کے خلاف مہم جاری تھی اکا دکا نام سامنے بھی آئے لیکن ان کا بال بھی بیکا نہ ہو سکا۔ وہ پورے دھڑلے سے اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اطلاعات کے مطابق جو بجلی چور مہم کے دوران زد میں آئے تھے ان کی تلافی کے نام پر قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کالی بھیڑوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے قانون سازی کرنی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ قوم کو بھی بتایا جائے کہ اس مہم کے دوران جن 2419 صارفین کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے ان کا کیا فیصلہ ہوا ہے۔ جنوبی پنجاب کی ایک شوگر مل کے ساتھ 26 میگاواٹ بجلی خریدنے کا معاہدہ خوش آئند ہے لیکن یہ معاہدے سب شوگر فیکٹریوں کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ یہ سب ملیں بجلی فراہم کر سکتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جن سے بجلی خریدی جاتی ہے ان کو ادائیگی بھی کی جائے۔ ملتان میں ایک صنعتکار گروپ ایسا بھی ہے جس کو یہ شکایت ہے کہ واپڈا ان سے بجلی تو لے رہا ہے ادائیگی نہیں کر رہا۔ یہاں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی آمدنی کہاں جا رہی ہے کہ حکومت کو 135 ارب کی سبسڈی دینا پڑتی ہے۔ قوم نے بجلی کے بل ادا کر کے اپنا بیڑا غرق کر لیا ہے پھر بھی حکومت کو سبسڈی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ عابد شیر علی نوجوان‘ محنتی اور متحرک وزیر ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل کریں کہ کرپٹ مافیا کو کیفرکردار تک پہنچائیں۔