صنعتوں کو درپیش انرجی بحران

28 نومبر 2013
صنعتوں کو درپیش انرجی بحران

فیصل آباد ایک صنعتی شہر ہے اور صنعت وحرفت کاانحصار سب سے زیادہ اس بات پرہوتاہے کہ صنعتی اداروں کوانرجی کے بحران کا سامنا نہ ہو۔ پاکستان کو ان دنوںسیاست سے لے کر اس کی اقتصادیات تک شدید بحران کاسامنا ہے۔ ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں ملک کے عوام خوفناک حد تک مہنگائی‘ بیروزگاری اور غربت سے دو چار ہیں۔ صنعتوں کے حوالے سے فیصل آباد شہر کی اہمیت کوپیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ ہفتے یہاں شہر میں ’’انرجی کانفرنس‘‘ کاانعقاد کیاتھا۔ تحریک انصاف کے سر براہ عمران خان کو اس ’’انرجی کانفرنس‘‘ میں شرکت کرناتھی لیکن انہیں بعض سکیورٹی تحفظات کے باعث فیصل آباد آنے کی اجازت نہیں ملی۔ لہذا تحریک انصاف کے اقتصادی امور کے ماہر اسد عمر نے اس انرجی کانفرنس میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کی ۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری، مرکزی لیڈر ڈاکٹر یاسمین راشد فیصل آباد سے پنجاب اسمبلی کے رکن شیخ خرم شہزاد ‘ تحریک انصاف کے ضلعی صدر رانا راحیل منہاس‘ فیض اللہ کموکا اورمیاں فرخ حبیب کے علاوہ ’’انرجی کانفرنس‘‘ کے میزبان صنعتکار ظفر اقبال سرور نے اس کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں حکومت سے بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد ملک کوئی ایسی منصوبہ بندی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی بناء پرغیر ملکی امداد کے بغیر ملک کوپائوں پر کھڑا کیاجاسکے۔ اس وقت ملک میں 13سو ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری کی جارہی ہے اورٹیکس میں16سو ارب روپے کے گھپلے ہورہے ہیں۔ اگر حکمران بجلی چوروںاور ٹیکس چوروں سے یہ رقو م وصول کرنے میں کامیاب ہوجائے تو بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ اسد عمر نے کہا کہ حکمران قوم کو انرجی کے بحران سے نکالنے کیلئے اقدامات اٹھائے ‘ تحریک انصاف مکمل طورپر اس کاساتھ دے گی۔ 

جس روز شہر میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام انرجی کانفرنس منعقد کی جارہی تھی اسی روز ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے نو منتخب صدر انجینئر سہیل بن رشید نے بھی صنعتی اداروں کو درپیش انرجی بحران کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایران کے ساتھ امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کوخوش آئندہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس معاہدے کے بعد امریکہ اب پاک ایران گیس معاہدے کی مخالف ترک کردے گا۔ انجینئر سہیل بن رشید نے اس معاہدے کو عالمی طاقتوں اورایران کی بہت بڑی کامیابی قرار دیاہے۔ معاہدہ کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کوگیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اگر بھارت بھی اس مرحلے پر پراجیکٹ میں شامل ہوجائے تو گیس پائپ لائن بچھانے کے عمل میں بھارت کی شمولیت سے پاکستان کے اخراجات کم ہوجائیں گے اور پاک بھارت تعلقات بھی معمول پر لائے جا سکیں گے۔ ایوان صنعت وتجارت فیصل آباد کے نو منتخب صدر نے کہا کہ ایران پر جو اقتصادی پابندیاں لگی ہوئی تھیں اس سے ایران کی معیشت کو گزشتہ برسوں کے دوران انتہائی مشکلات کاسامنا رہاہے۔ایران کی موجودہ قیادت کی دو راندیشی سے اب ان کی معیشت اورکرنسی دونوں کے مستحکم ہو سکے گی۔پاکستان میں اس وقت گیس کے ذخائر کی مقدار 31.03ٹریلین مکعب فٹ ہے۔ ان میں سے روزانہ 4.2 ار ب مکعب فٹ استعمال ہورہی ہے اور ا س کے باوجود ملک کو گیس کی قلت کاایک خوفناک بحران درپیش ہے ۔ گیس کے یہ ذخائر 2020تک ختم بھی ہوسکتے ہیں جبکہ ایران کے پاس زیر زمین گیس کی بیش بہا دولت موجود ہے۔ اس وقت فیصل آباد سمیت پورے ملک میں صنعتوں کوضرورت کے مطابق گیس نہیں مل رہی۔ سی این جی سٹیشن گیس کی قلت کے باعث ہفتے میں صرف دو دن گاڑیوں کو گیس فروخت کرتے ہیں۔ گھریلو صارفین کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کی طرح گیس کی لوڈ شیڈنگ کا بھی سامناہے ۔ اگر پاکستان میں گیس کے وسائل نہ بڑھے تو 2020میں رسد اورکھپت میں ایک وسیع گیپ ہوجائیگا۔موجودہ وسائل میں اضافہ نہ ہوا تو ملک میں گیس کی پیداوار صرف ایک سیکٹر ‘ ٹرانسپورٹ‘ صنعت یا گھریلو صارفین کی ضرورت پوری کرسکے گی۔ طلب پوری کرنے کیلئے جس حکمت عملی ‘ منصوبہ بندی اور تدبر کی ضرورت ہے موجودہ حکمرانوں میں اس تدبر کافقدان نظرآتاہے۔
 ملک کوانرجی بحران سے نجات دلانے کیلئے مزید وقت برباد کئے بغیرکالاباغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کوجتنی جلدی ممکن ہو‘ مکمل کیاجاناچاہئے۔ ا س وقت پاکستان میں صنعتی شعبہ ہی نہیں ڈیڑھ کروڑ افراد بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔موجودہ حکومت نے اقتدار سے آنے سے پہلے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بہت بلند و بانگ دعوے کئے تھے لیکن حکومتی رپورٹس کے مطابق ملک کومزید تین سالوں تک توانائی بحران سے نجات نہیں دلائی جاسکتی کیونکہ توانائی کے شعبہ کوآئل اور گیس مافیا کی بھینٹ چڑھا دیاگیاہے اگر ملک کے پاس ذرائع موجود ہوں تو ایک سال کے دوران پن بجلی کی پیداوار میں465میگاواٹ کااضافہ کیاجاسکتاہے جس کی قیمت صرف 4روپے فی یونٹ ہوگی۔ 969میگا واٹ کا نیلم جہلم منصوبہ فنڈز کی کمی کاشکار ہے اورموجودہ حکومت اس منصوبے کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرانے کاعندیہ دینے کے باوجود اس کیلئے فنڈز فراہم نہیں کرسکی۔اس منصوبے پر 60فیصد سے زائد کام ہوچکاہے ۔ حکومت بروقت فنڈز فراہم کرکے دو سے تین سال کے دوران یہ منصوبہ مکمل کرسکتی ہے۔ اسی طرح تربیلاڈیم کے توسیعی منصوبے سے دو سال کے دوران1410میگاواٹ کم قیمت پن بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جنگی بنیادوں پر بھاشاڈیم کے منصوبے کاخواب شرمندہ تعبیرکرکے مزید 4500میگا واٹ بجلی حاصل ہوسکتی ہے اور ان تمام منصوبوں سے زیادہ افادیت کامنصوبہ کالاباغ ڈیم ہے جس کی کی تعمیر کیلئے حکومت صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرے ۔سالانہ15ارب یونٹ بجلی کی پیداوار کاحامل یہ منصوبہ مختلف صوبوں کے درمیان سیاست کاشکار ہو کررہ گیاہے۔ یہی وہ منصوبہ ہے جس کومکمل کرنے کے بعد سندھ کی معیشت کو مستحکم کرنے اور بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی‘ زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے اور دیہی علاقوں میں غربت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور ان سب سے زیادہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہی اس ملک کو مکمل طورپر انرجی بحران سے نجات دلانے کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے صدر انجینئر سہیل بن رشید اور فیصل آباد میں منعقد ہونے والی تحریک انصاف کی انرجی کانفرنس نے یہ بات اظہر من الشمس کردی ہے کہ ملک کادوسرا بڑا شہر انرجی کے شدید بحران سے دو چار ہے اور اگر حکومت بہتر حکمت عملی سے اس بحران کو حل کرے تو اس سے ملک کوانرجی بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔