صوبائی پارلیمانی سیکرٹریوں کے تقرر میں تاخیر

28 نومبر 2013
صوبائی پارلیمانی سیکرٹریوں کے تقرر میں تاخیر

 ملک بھر کی طرح صوبہ پنجاب میں بھی سیاسی محاذ گرم ہوتا جارہا ہے لگتا یوں ہے کہ ماہ دسمبر میں نیا سیاسی جوڑ توڑ سامنے آئے گا۔ ان دنوں ڈرون حملوں کی مخالفت کا چرچا ہے یوں تو حکمران جماعت مسلم لیگ ن سمیت لگ بھگ تمام جماعتیں ڈرون حملوں کی مخالف ہیں مگر اُن میں سے پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ نیٹو سپلائی عوامی قوت سے روکنے کی حکمت عملی پر یکجا ہوگئی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کا بھی شور و غوغا ہے ۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے ملک کی سیاسی صورت حال، نیٹو سپلائی روکنے اور بلدیاتی انتخابات کے امور پر غور کرنے کے لئے پرسوں 30نومبر کو منصورہ میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جبکہ اسی دن جماعت اسلامی لاہور کے امیر میاں مقصود احمد نے بلدیاتی امیدواروں کا کنونشن بلا رکھا ہے۔30نومبر ہی کو پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس ہے،پیپلز پارٹی اگرچہ سیاسی طورپر دبی دبی سی ہے لیکن اب اس دن کو زور شور سے منانے کی خواہاں ہے بہت ممکن ہے کہ 30نومبر کو بلاول بھٹو زرداری سیاسی منظر پر نمودار ہوں۔ فی الحال اُن کے والد آصف علی زرداری اور وہ دونوں باپ بیٹا سیاسی منظر سے غائب ہیں ۔جہاں تک پیپلز پارٹی پنجاب کے عہدیداروں کی تبدیلی کا معاملہ ہے وہ پچھلے چار پانچ ماہ سے خبروں میں نمایاں رہا ہے لیکن زرداری صاحب بذات خود سیاسی فیصلوں کے سلسلے میں گومگو کا شکار ہیں لہٰذا پنجاب کے عہدیداروں کی تبدیلی کی طرف متوجہ نہیں البتہ عہدوں کے حصول کے خواہش مند افواہیں اڑاتے رہتے ہیں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو اگرچہ سیاسی محاذ پر بہت زیادہ فعال نہیں رہے لیکن ہلکی پھلکی موسیقی بجائے رکھتے ہیں۔2دسمبر سے انہوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع کے دور ے کا پروگرام بنا لیا ہے تاکہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی امیدواروں کو متحرک کر سکیں ۔پچھلے ایک ماہ میں پیپلز پارٹی کا بلدیاتی الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں وہ شوروغوغا سننے میں نہیں آیا جو کہ دوسری جماعتوں کا رہا ہے۔
مسلم لیگ( ق) کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الٰہی کی وطن واپسی کے بعد اُن کے صوبائی سینئر نائب صدر راجہ بشارت نے مسلم لیگ ہائوس میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔ سیمل کامران اور ناصر محمود گل کی معاونت سے وہ اجڑے ہوئے مسلم لیگ ہائوس کی کھوئی رونقیں واپس لانے کے لئے کوشاں ہیں۔جنرل سیکرٹری پنجاب چوہدری ظہیر الدین بھی اُن کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں مگر مسلم لیگ ہائوس میں چند ایک پرانے کارکنوں رانا ریاض، سجاد بلوچ، فیاض بھٹی اور بعض دیگر کے سوا کارکنوں کی کھیپ کو مسلم لیگ ہائوس واپس لانے میں انہیں ناکامی ہوئی ہے ۔البتہ شعبہ خواتین کی روح رواں خدیجہ فاروقی سمیت سابق خواتین ممبران پنجاب اسمبلی ماجدہ زیدی، نسیم کنول اور لبنیٰ طارق کا وہاں آنا جانا جاری ہے۔اِکّا دُکّا لوگ مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوتے رہتے ہیں مگر بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے اُن کی تیاری واجبی سی ہے۔
مسلم لیگ(ن) نے بلدیاتی انتخابات کے لئے اپنا ہوم ورک سب سے پہلے مکمل کیا ، اس جماعت نے لاہور کی 271 یونین کونسلوں کے لئے اپنے امیدوار لگ بھگ فائنل کر لئے تھے کہ الیکشن 30جنوری تک ملتوی ہوگیا ۔ لہٰذا ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نئی تاریخ پر بھی الیکشن ہوں گے کہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کے بارے میں لوگوں کی متضاد آراء ہیں البتہ ہماری نظر میں مرکزی اورپنجاب کی حکومتوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ منتخب اور غیر منتخب افراد کو حکومت میں حصہ دار بنانے کا عمل بہت سست ہے۔حیرت انگیز طورپر اب تک قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی پنجاب میںپارلیمانی سیکرٹری مقرر نہیں کئے گئے ہیں۔ جہاں تک وفاقی و صوبائی وزراء کی تعداد کا تعلق ہے بلاشبہ معقول حد تک کم رکھی گئی ہے جو کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں احسن اقدام ہی قرار پائے گا لیکن پارٹی کے فعال کارکنوں کو کو آرڈی نیٹرز کی حیثیت سے اکاموڈیٹ کیاجانا بھی ضروری ہے، کیونکہ سیاسی کارکن ہی سیاسی جماعتوں کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اپوزیشن میں صعوبتیں برداشت کر کے اُن کے چہروں کے نقوش بگڑ جاتے ہیں وہ بجا طورپر توقع رکھتے ہیں کہ حکومت آئے توحکمران سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو عزت دینے کے لئے ’’فیتیاں‘‘ لگائیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی اور پنجاب کی حکومتوں کے علاوہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی اس سیاسی کاوش سے محروم ہے۔
جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کا تعلق ہے اُس کی پنجاب میں تنظیم صوبائی صدر اعجاز چوہدری اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسمین راشد کی قیادت میں لاہور کی حد تک بہت فعال ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ صوبہ پنجاب میں بھی اپنی تنظیموں کو کسی حد تک متحرک رکھنے میں کوشاں ہے ۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈ میاں محمود الرشید اور لاہور کے صدر عبدالعلیم خان میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ پارٹی کارکنوں کو مسلسل احتجاج کی طرف مائل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔اس صورتحال کے باعث تحریک انصاف کے کارکنوں کے مزاج کو مشتعل کررکھا ہے۔ وہ نہ صرف سیاسی مخالفین کے خلاف تندخو ہیں بلکہ اپنی پارٹی کے اندر بھی ایک دوسرے کے لتّے لینے سے گریز نہیں کرتے۔ ملک کی اہم سیاسی جماعت ہونے کے ناطے نہ صرف تحریک انصاف بلکہ دیگر حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت کی کوشش بھی کرنی چاہئے تاکہ پاکستان میں جمہوری نظام مستحکم ہوسکے۔