وزیراعظم کی برہمی، آپریشن تیز کرنے کا حکم

28 نومبر 2013

وزیراعظم محمد نواز شریف نے امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کراچی آپریشن کو تیز کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم کو کراچی کے گورنر ہائوس میں امن و امان کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے آمد کے فوراً بعد گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ سے ملاقات کی جس میں امن و امان اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کم ہو گئی ہے ایک ماہ سے بھتہ کی وصولی کی کوئی شکایت نہیں ملی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محرم خیریت سے گذر گیا ۔ وزیراعظم نے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے مقدمات دوسرے صوبوں میں منتقل کرنے اور تحفظ پاکستان آر ڈیننس پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا۔ اجلاس میں نواز شریف پیرول پر رہائی کے بعد ملزمان کے غائب ہونے کے واقعات پر برہم ہو گئے۔ سیکریٹری داخلہ نے نواز شریف کو بتایا کہ ایسے41ملزمان جو کہ پیرول پر رہا ہوئے تھے وہ ریکارڈ کے مطابق تو جیل میںہیں لیکن درحقیقت وہ غائب ہیں اور ان کی جگہ جیل میں جعلی ملزم رکھے گئے ہیں۔ جس پر وزیراعظم نے کوتاہی کے ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیدیا اور کہا کہ آئندہ اجلاس میں پیرول کے قیدیوں کی لسٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم کی ناراضگی پر وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ بھی جاگ پڑے اور انہوں نے تحقیقات کا حکم دیدیا۔ وزیراعظم نے غیر قانونی سمیں بند کرنے اور آئندہ سمیں بائیو میٹرک نظام کے تحت جاری کرنے کا حکم دیا ۔ امن و امان کے بارے میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں گورنر سندھ ، وزیر اعلیٰ سندھ، وفاقی وزراء خواجہ آصف ،احسن اقبال،چیف سیکریٹری ڈائریکٹر جنرل رینجرز، صوبائی سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ نے شرکت کی۔ وزیراعظم نواز شریف کو بتایا گیا کہ اس وقت تین ہزار اشتہاری ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی آپریشن مقاصد کے حصول تک جاری رکھا جائے۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے کراچی کے وی وی آئی پی روم میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کے ساتھ خوش گپیاں کیں اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما آصف خان سے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں استفسار کیا جس پر آصف خان نے ان کو بلدیاتی انتخابات میں اچھے نتائج کی یقین دہانی کے علاوہ کراچی سائوتھ ڈسٹرکٹ میں میونسپل کارپوریشن کیلئے مسلم لیگ کی واضح کامیابی کا امید ظاہر کی۔ جس پر نواز شریف نے آصف خان کی پیٹ تھپتھپائی۔ نواز شریف نے اس دوران آصف خان سے دوسرے مسلم لیگی کارکنان کے بارے میں بھی استفسار کیا۔ 

 کراچی ایئر پورٹ پر نواز شریف کا استقبال گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ نے کیا۔ وزیر اعظم نے ہاکس بے میں 2200میگاواٹ کے جوہری بجلی گھر کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کی تو اس دوران وہاں بھی کراچی اور سندھ کا کوئی مسلم لیگی رہنما موجود نہیں تھا۔ وزیراعظم کی جانب سے کراچی کو سنگا پور کو الالمپور اور دبئی کے مماثل ترقی یافتہ شہر بنانے کے اعلان پرکراچی کے شہریوں میں اسے زبردست جوش جذبے کے ساتھ سراہا گیا ہے۔ وزیراعظم کی تقریر اگلے روز تک کراچی کے گلی کوچوں میں موضوع بحث بنی رہی ۔ نواز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ پہلے کراچی میں امن قائم کریں گے اور پھر کراچی کے نوجوانوں کو روزگار دیں گے۔ نواز شریف کے دورہ کراچی کا ایک پہلو یہ تھا کہ شہریوں کو وی وی آئی پی موومنٹ کا پتہ تک نہیں چلا۔ یہاں دوران سفر وزیراعظم کیلئے ہیلی کوپٹر کا انتخاب کیا گیا۔ دوسری جانب دو بم دھماکوں کے بعد کراچی ایک بار پھر سوگ میں ڈوب گیا دھماکے سے ایک روز قبل کراچی میں زبردست کشیدگی پائی جاتی تھی دن بھر یہ افواہیں اڑتی رہیں کہ جمعہ کو ہڑتا ل ہوگی لیکن رات کے اوقات میں جماعت اہلسنت والجماعت کے اس اعلان کے بعد کہ جمعہ کے روز ہڑتال نہیں ہوگی صرف احتجاجی ریلیاں نکالی جائینگی،شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے اور کراچی کو سیل کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے کراچی میں دن بھر تو سکون رہا لیکن اچانک شہر کو خون سے نہلا دیا گیا دھماکے کے بعد ایک بار پھر کراچی میں کشیدگی بڑھ گئی جبکہ چند گھنٹوں بعد ہی طالبان کی جانب سے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود یہ بات موضوع بحث بنی رہی کہ بم دھماکے کس نے کیے ہیں اور ان دھماکوں کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ سیاسی حلقے طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے بیان کومشکوک قرار دیتے رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ دھماکوں میں کوئی تیسری قوت ملوث ہے۔ شاہد اللہ شاہد کا یہ بیان کہ انہوں نے سانحہ راولپنڈی کا بدلہ لیا ہے اسے قبول نہیں کیا جارہا۔ کیونکہ دھماکے میں ایسے راہ گیر جاں بحق ہوئے ہیں جن کاتعلق تمام طبقات فکر سے ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں تحریک طالبان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سانحہ راولپنڈی کے بعد انچولی کو حساس ترین علاقہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد وہاںہنگامی طور پر گیٹ نصب کیے گئے اور داخلی راستے بند کردئیے گئے انچولی کو بچانے کیلئے رضا کار بھی سر گرم تھے جبکہ امام بارگاہ کو جانے والے راستے پر سکیورٹی کا سخت انتظام تھا جس کی وجہ سے دہشت گردوں نے اس شاہراہ کا انتخاب کیا جہاں سے عزاداران مجالس کے اختتام کے بعد اپنے گھروں کی جانب جاتے ہیں ۔ کراچی میں دھماکوں کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ جب یہاں آپریشن جاری ہے تو دہشت گرد موٹر سائیکلوں پر بم باندھ کر آزادانہ کیسے گھوم رہے ہیں۔ کراچی میں پیپلزپارٹی ایم کیو ایم اور اے این پی پہلے ہی طالبان کے ہدف پر ہیں لیکن جمعہ کے روزطالبان کا ہدف مختلف تھا اس تناظر میں یہ بات تشویشناک ہے کہ طالبان کے اہداف میںوسعت ہورہی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں امن و امان سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ اس مرتبہ بم دھماکوں کی تحقیقات کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب 10مشکوک افراد کو پولیس نے گرفتار کیا۔ اعلیٰ حکام کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق بم دھماکے جو سیکنڈوں کے وقفے سے ہوئے ان میں دیسی بارود استعمال کیا گیا تھا۔