ناٹو سپلائی بندش میں صوبائی حکومت بھی شامل

28 نومبر 2013

ماہ رواںکے آغازسے ہی صوبہ خیبرپختونخوااوروفاق کے زیراہتمام قبائلی علاقوں(فاٹا)میں رونما ہونے والے واقعات اوراس خطہ سے متعلق معاملات نہ صرف پاکستان کے قومی سیاسی منظربلکہ بین الاقوامی منظرپربھی نمایاںرہے ۔حکومت اورتحریک طالبان پاکستان کے مابین مذاکرات کے آغازسے صرف ایک روزقبل یکم نومبرکوشمالی وزیرستان کے صدرمقام میران شاہ میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسودکوڈرون حملہ  میں   ہلاک کر دیا گیا۔ جس کے بعدتحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے4نومبر کو طلب کردہ صوبائی اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں ایک بے ضرراورمعصوم سی قرارداد منظورکی گئی۔ صوبہ خیبرپختونخوا نے اس قرار داد میں ڈرون حملوں کی بندش کیلئے وفاق کو 20نومبرکی ڈیڈلائن دی اس دوران صوبہ میں برسراقتدارپاکستان تحریک انصاف نے اپنی اتحادی قومی وطن پارٹی کے دو وزراء بخت بیدار اورابرار حسین کو بدعنوانی کے الزامات میں برطرف کرکے آفتاب شیرپائو   سے اپنی راہیں بھی جا کر ڈالیں ۔تاہم تحریک طالبان سے مذاکرات میںتعطل ،تحریک طالبان کے امیرکی حیثیت سے مولوی فضل اللہ کے انتخاب ،ڈرون حملوںکے خلاف تحریک انصاف کے احتجاج اورمحرم الحرام کے دوران کوہاٹ سمیت مختلف مقامات پرکشیدگی جیسے اہم واقعات میںصوبہ میںتحریک انصاف اورقومی وطن پارٹی کے مابین ایک دوسرے پربدعنوانی اوربے قاعدگیوںکے الزامات کوزیادہ اہمیت نہ مل سکی۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈرون حملوںکے خلاف 23نومبرکوپشاورمیںناٹوسپلائی روٹ پراحتجاجی جلسہ اوردھرنے کا اعلان کیاگیااور21نومبرکوجب وزیراعظم کے مشیرقومی سلامتی وخارجہ امورسرتاج عزیزنے قوم کویہ مژدہ سنایاکہ امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کایقین دلایاہے اسی روزامریکی ڈرون نے ضلع ہنگوکے علاقہ ٹل میںدینی مدرسہ مفتاح القرآن پرڈرون حملہ کر کے 6افراد ہلاک کر دئیے ۔اگرچہ اسے صوبہ خیبرپختونخوامیںہونے والاپہلاڈرون حملہ قراردیاجارہاہے لیکن حقیقت میںبنوںکے گائوںایندی خیل میںہونے والے حملہ کے بعدیہ دوسراڈرون حملہ ہے۔ اس حملہ کے بعدصوبہ میںبرسراقتدارپاکستان تحریک انصاف پہلے سے کہیں زیادہ جوش وخروش سے ڈرون حملوںکے خلاف احتجاج اورخصوصاافغانستان میںتعینات امریکی اورناٹوافواج کوخیبرپختونخواکے راستہ رسدکی فراہمی روکنے پرکمربستہ ہوگئی ہے ۔  اس دوران صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ23نومبرکے احتجاجی جلسہ اور افغانستان میںتعینات اتحادی افواج کیلئے رسد کی بندش کیلئے  دئیے جانے والے دھرنوںمیں اس کے وزیرومشیرسمیت سرکاری عہدے رکھنے والے پارٹی رہنماء شریک نہیںہوںگے ۔یہاںیہ امرقابل ذکرہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخواکے صدراسدقیصرصوبائی اسمبلی کے سپیکر ہیںجبکہ صوبائی جنرل سیکرٹری شوکت یوسفزئی صوبہ کے وزیرصحت ہیںاوریوںصوبہ میںپارٹی کی اس اہم ترین سیاسی سرگرمی میںصوبائی صدروجنرل سیکرٹری شریک نہیں۔ اس احتجاجی جلسہ کاایک خاص پہلویہ بھی تھاکہ اس سے خطاب کرنے والوںمیںپی ٹی آئی صوبہ خیبرپختونخواکے کوئی رہنماء شامل نہ تھے جبکہ ناٹونقل وحمل کی  دوطرفہ بندش پریہ اعتراض بھی  اٹھایاجارہاہے کہ اس اقدام سے گویا افغانستان میںتعینات امریکی اورناٹوافواج کووہاںمزیدقیام کابہانہ ہاتھ آجائے گاصوبہ کے سیاسی حلقوںمیںاس امرپربھی حیرت کااظہارکیاجارہاہے کہ صوبہ میںبرسراقتدار جماعت ایک جانب اپنے کارکنوںکو ناٹو سپلائی کی بندش کیلئے شاہراہوںپردھرنوںکی کال دے رہی ہے  دوسری جانب جب  یہ کارکن ناٹوسپلائی روکنے کیلئے ٹرک ڈرائیوروںکے ساتھ الجھ پڑتے ہیںتوپھران کی اپنی صوبائی حکومت کی پولیس ہی ان کارکنوںکے خلاف مقدمات درج کرتی ہے۔ پشاورکے اس احتجاجی جلسہ سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جہاںڈرون حملوںاورناٹوسپلائی کے حوالہ سے اپنے خیالات کاپرجوش اظہارکیا  وہاںمولانافضل الرحمن کے اس بیان  پرکہ عمران خان صوبہ میںبحرانی کیفیت پیداکرکے تحریک انصاف کوشہید بنانا چاہتے ہیں، جواب میںانہوںنے کہاکہ وہ   پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو شہیدکروانے کی بجائے ازسرنوانتخابات میںجائیںگے اورپہلے سے بھی زیادہ اکثریت لے کراسمبلی میںآئیںگے۔ سیاسی تجزیہ نگاروںکے مطابق عمران خان کایہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اوراس سے ان کے مستقبل کے ان عزائم کااظہارہوتاہے کہ کسی ممکنہ  صورت حال میںصوبائی حکومت کے اکثریت کھودینے کے نتیجہ میں ان کی پارٹی  وزیراعلی کی ایڈوائس پر  صوبائی اسمبلی  تحلیل کرنے اورازسرنوانتخاب کو ترجیح دے گی۔شایدیہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ میںایک اتحادی جماعت کے وزراء کی مبینہ کرپشن میںبرطرفی کے بعدڈرون حملوںکے خلاف ناٹوسپلائی کی بندش کیلئے احتجاجی دھرنوں،صوبائی وزراء کے امریکی قونصل خانہ کے سامنے احتجاج،وزیراعلی کی جانب سے وزیراعظم کومکتوب بھجوانے   جیسے  اقدامات کے بعد  صوبائی حکومت کے ذریعے  ناٹو سپلائی رکوانے کا اعلان کر دیا ہے ۔ عمران خان پہلے تو وفاقی حکومت سے  ناٹو کنٹینروں کی حفاظت کا تقاضا کر رہے تھے  منگل کی شام  انہوں نے اعلان کیا کہ  خیبر پی کے کی حکومت  بدھ کی صبح سے سرکاری طور  پر  ناٹو سپلائی کو بند کر رہی ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ  صوبائی محکمہ داخلہ بدھ کی دوپہر تک ایسے کسی فیصلے کے بارے میں لا علمی کا اظہار کرتا رہا ہے ۔ صوبے میں پہلی مرتبہ کسی ڈرون حملہ کے خلاف ایف آئی آرکا  ا ندراج  بھی ہوا ہے۔ ابتداء میں’’نامعلوم سمت سے نامعلوم ملزم کے فائرکردہ میزائل وغیرہ کے حملہ ‘‘کی  ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی  مگر تنقید کے بعد  اس میںامریکہ اوراس کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کوملزم نامزدکرنے کی درخواست دے دی گئی ۔ بلا شبہ تحریک انصاف اس  جیسے اقدامات سے اپنے کارکنوںکاجوش وجذبہ برقراررکھنے میںکوشاںہے۔ تجزیہ نگاروںکے مطابق صوبہ میں اگر  قبل ازوقت انتخاب  ہوتے ہیں تو عوام ووٹ دیتے وقت ڈرون حملوںاورناٹوسپلائی جیسے معاملات پر ہی اکتفا نہیں کریں گے۔ بلکہ اس دوران وہ 11مئی کے عام انتخابات میںپی ٹی آئی کی جانب سے امن وامان کے قیام ،کرپشن کے خاتمہ،تعلیم وصحت کے شعبوںمیںانقلابی اصلاحات ،تھانہ وپٹوارکلچرکے خاتمہ اورسرکاری حکام کی عوام کوجوابدہی  کے لئے  گئے تمام وعدوں   اور  ان کی تکمیل میںصوبائی حکومت  کی کارکردگی کوبھی مدنظررکھیںگے ۔