میرٹ اور سینیارٹی کی مستحسن روایات

28 نومبر 2013
میرٹ اور سینیارٹی کی مستحسن روایات

 وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت کے لئے نومبرکا آخری اور دسمبر کا دوسرا ہفتہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بدھ کی صبح وزیراعظم ہائوس میں انہوں نے جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں ،جس کے بعد نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا۔ وزیر اعظم نے جنرل راشد محموداور جنرل راحیل شریف کی بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف تقرری کی ایڈوائس جاری کر دی جس کی صدر مملکت ممنون حسین نے منظوری دے دی ۔ کل جی ایچ کیو میں ایک پر وقار تقریب میں فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو باضابطہ طور فوج کی کمان سونپیں گے۔ اسی طرح پاکستان کی عدالتی تاریخ میں13۔ 11۔12کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے کہ اس روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو جائیں گے ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی 6سال تک آرمی چیف  رہے وہ پاکستان کی بری افواج کے چودہویں سربراہ کی حیثیت سے 28 نومبر 2013ء کو اپنی چالیس سالہ پیشہ وارانہ خدمات کے بعد سبکدوش ہو رہے ہیں ۔ پچھلے کئی ماہ سے ان کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ بالآخر جنرل کیانی کو اس نوعیت کی قیاس آرائیوں پر ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑاکہ وہ 28نومبر 2013ء کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت اور جنرل کیانی کے درمیان ’’ قربتوں‘‘ کے باعث بلا شبہ مدت ملازمت میں توسیع دینے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے بعدوزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے ان کیلئے الوداعی تقریب کا اعلان کر دیا گیا تو اس حوالے سے اس بحث کا با ضابطہ اختتام ہو گیا۔وفاقی حکوت نے نئے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی لہذا دوروز تک نئے آرمی چیف کا کسی کو نام تک معلوم نہ تھا۔ بدھ کی دوپہر وزیر اعظم نے اعلان کر کے پوری قوم کو سر پرائز دیا ہے۔ وزیر اعظم کی چار رکنی ٹیم کے ارکان ،چوہدری نثار ،میاں شہباز شریف اور سینیٹر محمد اسحقٰ ڈار نئے آرمی چیف کے نام سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے بھی چپ کا’’ روزہ‘‘ رکھا ہوا تھا ۔ پاکستان میں آرمی چیف کے عہدے پربرطانیہ کے سر فرینک والٹر مسروی اگست 1947 سے فروری 1948 تک اور جنرل ڈگلس ڈیوی گریسی فروری 1948 سے اپریل 1951 تک تعینات رہے۔ اس کے بعد تیسرے آرمی چیف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 17 جنوری 1951 سے 26 اکتوبر 1958 تک اس عہدے پر تعینات رہے، ،چوتھے آرمی چیف جنرل محمد موسیٰ بھی 27 اکتوبر 1958 سے 17 ستمبر1966 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ جنرل آغا محمد یحییِ خان 18 ستمبر 1966 سے 20 دسمبر 1971 تک پانچویں آرمی چیف رہے۔ جنرل گل حسن 22 جنوری 1972 سے لیکر 2 مارچ 1972 تک مختصر ترین مدت تک پاکستان کے چھٹے آرمی چیف بنے۔ اس کے بعد ساتویں آرمی چیف جنرل ٹکا خان تھے جو 3 مارچ 1972 سے یکم مارچ 1976 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق یکم مارچ 1976 سے 17 اگست 1988 تک ساڑھے 12 سال کے طویل عرصے تک آٹھویں آرمی چیف رہے۔جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تھا، جنرل مرزا اسلم بیگ 17 اگست 1988 سے لیکر 16 اگست 1991 تک پاکستان کے نویں آرمی چیف رہے۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ پاکستان کے دسویں آرمی چیف تھے وہ 16 گست 1991 سے 8 جنوری 1993 تک اس عہدے فائز رہے۔ گیارہویں آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے 12 جنوری 1993 سے 12 جنوری 1996 تک اپنی مدت مکمل کی۔جنرل کاکڑ ہی نے غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کو ایک ساتھ استعفاٰ دینے پر مجبور کیاتھا۔ جنرل جہانگیر کرامت 12 جنوری 1996 سے 7 اکتوبر 1998 تک پاکستان کے بارہویں آرمی چیف رہے، جنہیں نواز شریف حکومت سے اختلاف پر استعفا دینا پڑا۔ جنرل پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 سے 28 نومبر 2007 تک تیرہویں آرمی چیف کے طور پر اس عہدے پر قابض رہے،جنہوں نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نومبر 2007 میں اس عہدے پر فائز کیا گیا جنہیں سابقہ حکومت کی خواہش پر اگلے تین برس کیلئے مدت ملا زمت میں توسیع دی گئی تھی اس لئے وہ چھ برس تک اس عہدے پر فائز ہ رہنے کے بعد 29 نومبر 2013 کو اس عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے ۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سبکدوشی سے دو روز قبل پاک فوج کے نئے چیف کی تقرری کے بعد تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔ پاک فوج کے سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل محمد ہارون اسلم اس وقت چیف آف لاجسٹک کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ 2009ء میں سوات آپریشن کے وقت وہ جی او سی سپیشل سروسز گروپ تھے۔ ان کی مدت ملازمت 9 اپریل 2014ء تک ہے۔ دوسرے نمبر پر چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود نے انہیں’’ سپر سیڈ ‘‘ کیا ہے ۔ جنرل راشد محمود لاہور میں کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔ سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویولو ایشن لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف ہیں۔ وہ نشان حیدر پانے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی اور میجر عزیز بھٹی کے بھانجے ہیں اور گوجرانوالہ کی کور کمانڈ کر چکے ہیں۔ کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل طارق خان کا سینیارٹی میں چوتھا نمبر ہے جبکہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد ظہیر الاسلام پانچویں نمبر پر ہیں۔ وہ کراچی کے کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔ نئے آرمی چیف کی تقرری تین سال کیلئے ہے۔ قائم مقام سیکرٹری دفاع نے بدھ کی صبح سینئر افسران کے ناموں پر مشتمل سمری وزیر اعظم کو بھجوائی جس پر وزیر اعظم نے آئین کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کے تقرر کا فیصلہ کیا۔ جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد وائیں کی ریٹائرمنٹ آگئی توحکومت نے جنرل کیانی کی سینیارٹی کا خیال رکھا اور ان کی ریٹائرمنٹ تک کسی جنرل کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نہیں بنایا 29نومبر 2013ء کو نئی عسکری قیادت اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہے عام تاثر یہ ہے کہ امریکہ پاکستان میں فوجی قیادت کی تبدیلیوں میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے۔ وزیر اعظم نے چیئر مین آرمی چیف کی تقرری میں وہی فیصلہ کیا ہے جسے آئین میں دئیے اختیارات کے تحت انہوں نے بہتر سمجھا۔ تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد میاں نواز شریف نے جہاں ملک میں سیاسی مخالفین کو’’ برداشت ‘‘ کیا اور صوبوں میں دوسری جماعتوں کی حکومتوں کو کام کرنے کا موقع دیا وہیں انہوں نے’’ میرٹ اورسینیارٹی ‘‘کو بھی اپنی پالیسی کی بنیاد بنا رکھا ہے۔ شاید وزیر اعظم اپنی پارٹی کے ارکان سے ملاقاتیں کرنے سے بھی اسی لئے گریز کرتے ہیں ۔اس طرز عمل کی وجہ سے انہیں اپوزیشن کی سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ پچھلے چھ ماہ کے دوران دوتین بار ہی قومی اسمبلی آئے سینیٹ کا تو رخ ہی نہیں کیا۔ نئی عسکری قیادت کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان بھی 11 دسمبر 2013ء کو ریٹائرہو جائیں گے ان کی جگہ سینئر ترین جج جسٹس تصدق جیلانی لے لیں گے۔ 12دسمبر 2013ء سے عدلیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا جسٹس تصدق جیلانی کم وبیش ایک سال تک چیف جسٹس رہیں گے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’سو موٹو ایکشن ‘‘لے کر انصاف فراہم کرنے کی جو روایات قائم کی ہیں آنے والے چیف جسٹس کو ان روایات کو برقرار رکھنے کے خاصی تگ و دو کرنا پڑے گی ۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...