مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کو ان کا حق دینے کیلئے اقوام متحدہ میں متعدد قراردادیں پیش کی جاچکی ہیں

27 اکتوبر 2016 (15:13)
مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کو ان کا حق دینے کیلئے اقوام متحدہ میں متعدد قراردادیں پیش کی جاچکی ہیں

کشمیریوں کی بدقستمی کی تاریخ بہت پرانی ہے، بھارت کی ہٹ دھرمی اور جارحیت کی وجہ سے کئی سال گزرنے کے باوجود بھی معاملہ جوں کا توں ہے، 17 جنوری 1948 کو اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر ایک قرار داد منظور کی، 20 جنوری کو قائم ہونے والے پاک بھارت کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں یکم جنوری 1949 کو 84 ہزار 471 مربع میل پر پھیلی ہوئی پوری ریاست جموں و کشمیر کو متنازع قرار دیا گیا، اقوام متحدہ نے 17 اپریل 1948، 13 اگست 1948، 5 جنوری 1949 اور 23 دسمبر1952 کو کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی قراردادیں پاس کیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے سے کیا جائیگا مگر بھارت نے عالمی اور مقامی طور پر ہونے والے معاہدوں سے انحراف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں و کشمیر کے علاقوں میں 1950 کے بعد ہی بے چینی پھیلنا شروع ہوئی، بھارت نے عالمی انصاف کے ٹھیکیداروں کی پس پردہ حمایت کے باعث وقتی طور پر کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ نے ابتدائی 9 سالوں میں تنازع کشمیر کے حل کے لئے کوششیں کیں مگر پھر تنازع کشمیر بھی عالمی سیاست کی نذر ہوگیا۔ 1948 سے 1957 تک روس اقوام متحدہ میں غیر جانبدار رہا مگر بعد میں 20 فروری 1957 اور 22 جون 1962 کو کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردوں کو ویٹواور بھارت کی حمایت کرتا رہا۔