بھارتی دفتر خارجہ نے پاکستانی سفارتکار کو ناپسندیدہ شخص قرار دیتے ہوئے اڑتالیس گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا ہے

27 اکتوبر 2016 (13:48)

پاکستان دشمنی میں اندھے بھارت کی سوج بوجھ بھی ختم ہو گئی، مودی سرکار اب پاکستانی ہائی کمشن میں تعینات عملے کو بھی یرغمال بنانے کوششیں کرنے لگی، بھارتی سرکار کو کچھ نہ سوجھا تو ہائی کمشن کے افسر محمد اختر پر دفاعی دستاویزات کی چوری کا الزام عائد کر کے گرفتار کرلیا۔
بھارتی حکام کا مضحکہ خیز الزام اس وقت اس کی جگ ہنسائی کا موجب بنا جب دہلی پولیس نے انہیں چڑیا گھر کے قریب سے یہ کہہ کر گرفتار کیا کہ وہ حساس دستاویزات خریدنے کی کوشش کر رہے تھے، بھارتی میڈیا بھی خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں مصروف رہا جبکہ معاونت کے الزام میں مزید چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
بھارتی پولیس جب اپنا ہی الزام ثابت نہ کرسکی تو سفارتی استثنیٰ کہہ کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، پاکستانی افسر کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ انہیں سفارتی استثنی حاصل ہے. دوسری طرف جاسوس کو گرفتار کرنے کے دعوے پر پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا لیکن اس بار بھی بھارت کوئی ٹھوس ثبوت دینے میں ناکام رہا۔