’’تیری یاد آئی، تیرے جانے کے بعد‘‘

27 اکتوبر 2016

1950ء کی دہائی میں ایک بھارتی فلمی گیت کا مکھڑا مشہور ہوا تھا۔

’’تجھے کھودیا، ہم نے پانے کے بعد
تیری یاد آئی، تیرے جانے کے بعد‘‘
آج 27 اکتوبر ہے۔ فوجی صدر پاکستان محمد ایوب خان اور ان کے حوالے سے کئی دوسرے مرحومین اور زندہ اصحاب کو یاد کرنے کا دن، سب سے پہلے پاکستان کے پہلے منتخب صدر میجر جنرل (ر) سکندر مرزا کو یاد کرتے ہیں۔ صدر سکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958ء کو ’’بری بھلی‘‘ جمہوری حکومت ختم کرنے کے لئے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا تھا اور آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا تھا لیکن 20 دن بعد جنرل ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کو ملک بدر کر کے خود اقتدار سنبھال لیا ۔ کئی سال بعد ’’قائد عوام‘‘ اور ’’فخر ایشیا‘‘ کہلانے والے جناب ذوالفقار علی بھٹو، صدر سکندر مرزا کی کابینہ میں شامل تھے۔ انہوں نے سکندر مرزا کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’’جناب صدر! آپ قائداعظم‘‘ سے بھی بڑے لیڈر ہیں‘‘
معزول صدر سکندر مرزا لندن میں فوت اور ایران کے شہر ’’مشہد‘‘ میں دفن ہوئے مرزا صاحب کے مغلیہ خاندان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر اپنے اور صدر سکندر مرزاکے لئے پہلے ہی کہہ گئے تھے کہ ؎
وہ کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لئے
دوگز زمین بھی نہ ملی، کوئے یار میں
ذوالفقار علی بھٹو نے صدر ایوب خان کو اپنا ’’Daddy‘‘ بنالیا۔ صدر ایوب بھی بھٹو صاحب کو اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے تھے۔ صدر ایوب خان کی تقلید میں بعد میں آنے والے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف کو اپنا بیٹا بنالیا تھا اور یہ دعا بھی مانگی تھی کہ ’’خدا کرے! میری عمر بھی نواز شریف کو لگ جائے!‘‘ اللہ تعالیٰ نے وہ دعا قبول کرلی تھی لیکن صدر ایوب خان نے بھٹو صاحب کے لئے اس طرح کی دعا نہیں مانگی تھی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے صدر ایوب خان کو ’’ایشیا کا ڈیگال‘‘ اور صلاح الدین ایوبی ثانی‘‘ کا خطاب دیا
صدر ایوب خان کی اہلیہ ’’چادر اور چار دیواری‘‘ کی قائل تھیں۔ اس لئے صدر صاحب اپنی بیٹی محترمہ بیگم نسیم اور نگ زیب کو غیر ملکی مہمانوں سے ملواتے اور قومی تقریبات میں ’’دختر پاکستان‘‘ کی حیثیت سے آگے رکھتے تھے۔ اس لحاظ سے اگر وزیراعظم نواز شریف بھی خاتون اوّل بیگم کلثوم نواز کے بجائے محترمہ مریم نواز کو غیر ملکی مہمانوں سے ملواتے اور قومی تقاریب میں آگے آگے رکھتے ہیں تو اس پر اعتراض کرنا مناسب نہیں ہے۔ صدر ایوب خان اپنے( مغربی پاکستان) کے گورنر ملک امیر محمد خان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور ملک صاحب صدر مملکت کے اعتماد پر پورے بھی اترے تھے۔ وہ صدر صاحب کے حکم پر چلتے تھے لیکن بدنامی خود مول (بلکہ مفت) لے لیتے تھے۔ حبیب جالب نے کہا تھا کہ…؎
عام ہوئی غنڈہ گردی
چپ ہے سپاہی، باوردی
شمع نوائے اہل سخن
کالے باغ نے گل کردی
’’کالے باغ ‘‘سے مراد نواب آف کالاباغ گورنر امیر محمد خان تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ صدر ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے وزیروں اور عہدیداروں کو بعض ’’بد تہذیب‘‘ (خاص طورپر پنجاب کے) لوگ چمچے کہتے تھے۔ ایک بار لاہور میں صدر ایوب خان کے مخالفین کونسل مسلم لیگ کے کارکنوں نے ایک نامناسب جلوس نکالا۔ جلوس میں نوجوان زیادہ تھے۔ ہر ایک نے اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا/ بڑا چمچا پکڑا ہوا تھا۔ آج وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم نواز شریف کے ایڈوائزر ڈاکٹر آصف کرمانی کے والد صاحب سید احمد سعید کرمانی ان دنوں گورنر امیر محمد خان کی کابینہ کے اہم رکن تھے چمچا بردار جلوس ریگل چوک لاہور سے گزرا، سید احمد سعید کرمانی ایک دکان کے باہر کھڑے تھے۔ ایک چمچا برادر نوجوان ان کے پاس پہنچا۔ اس نے انتہائی ادب سے کرمانی صاحب سے ہاتھ ملایا اور ان کے دوسرے ہاتھ میں چمچا تھما کر چلا گیا۔ آج تک ہماری کوئی خفیہ ایجنسی سراغ نہیں لگا سکی کہ وہ چمچا کس کے پاس ہے۔
صدر ایوب اپنے ’’Blue Eyed Boys‘‘ پر کتنا اعتماد کرتے تھے؟ ملاحظہ فرمائیں جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں صدر ایوب خان کا مقابلہ ’’مادر ملت‘‘ محترمہ فاطمہ سے تھا۔ عام جلسوں میں مادر ملت بہت رش لے رہی تھیں۔ صدر ایوب خوفزدہ تھے کہ کہیں چیف الیکشن کمشنر ان کے کاغذ ات نامزدگی مسترد نہ کردیں!۔ انہوںنے اپنے دو وزرا جناب ذوالفقار علی بھٹو اور محمد شعیب کو بھی ’’Covering Candidates‘‘ کی حیثیت سے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا حکم دیا۔ چیف الیکشن کمشنر صاحب نے صدر ایوب کے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں کئے… کہا جاتا ہے کہ ’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے‘‘ 2008ء کے صدارتی انتخاب میں جناب آصف زرداری کو خوف تھا کہ ’’نان گریجویٹ ہونے کی وجہ سے کہیں ان کے کاغذات نامزدگی مسترد نہ کردئیے جائیں!‘‘ انہوں نے اپنی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور کے ’’Covering Candidates‘‘ کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی داخل کرادئیے تھے۔ صدر ایوب خان اتنے سادہ اور معصوم تھے کہ انہوں نے پاک چین دوستی کا معمار ہونے کے باوجود اپنے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو یہ ’’Credit‘‘ لینے دیا۔ بھٹو صاحب کو مائوزے تنگ سے انقلاب کی روشنی حاصل کرنے دی۔ انہیں عام جلسوں میں چینی طرز کا کوٹ پتلون اور مائو کیپ پہن کر مائوزے تنگ کے انداز میں اپنے دونوں ہاتھ بلند کرنے کاموقع دیا۔
صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے حکمران تھے جن کی ہدایت پر ان کے وزیرخارجہ جناب ذولفقار بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اعلان کیا کہ ہم (یعنی حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام) مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارت کی غلامی سے چھڑانے کے لئے اس سے ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، اور صدر ایوب خان ہی پاکستان کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ہمارے کسی بھی حکمران نے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا اور یہ فریضہ پاکستان اور افغانستان میں سرگرم عمل ’’جہادی تنظیموں‘‘ پر چھوڑ دیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف تو تین سال اور 4 ماہ سے وزیر خارجہ کے بغیر ہی کام چلا رہے ہیں۔
1965ء کی جنگ کے دوران پاک فوج کے حوصلے بلند کرنے کے لئے مشاعروں نے ترانے لکھے اور گلوکاروں نے گائے۔ ایک ترانے کا مصرع تھا ؎
رنگ لائے کا شہیدوں کا لہو
اور جب صدر ایوب خان نے سوویت یونین کے وزیراعظم کو سیجن کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالت بنا کر بھارتی وزیراعظم شری لعل بہادر شاستری کے ساتھ ’’اعلان تاشقند‘‘ پر دستخط کئے تو جناب حبیب جالب نے صدر ایوب خان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ؎
’’اعلان تاشقند، کئے جارہا ہوں میں
شیروں کو گو سفند کئے جارہا ہوں میں‘‘
فارسی زبان میں ’’گو سفند‘‘ دنبے، بکرے، بھیڑ اور بکری کو کہتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں پوری قوم پاک فوج کے ساتھ مل کر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے جنگ کر رہی تھی۔ وزیر خارجہ ذولفقار علی بھٹو، صدر ایوب خان کے ساتھ تھے جب اعلان تاشقند ہوا۔ جناب بھٹو جب اپنے ’’ایشیا کے ڈیگال‘‘ اور ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ کے خلاف میدان میں اترے تو عوامی نہیں کہا کرتے تھے کہ ’’تاشقند کا رات کیا ہے؟بہت جلد قوم کو بتائوں گا‘‘ بھٹو صاحب اقتدار میں رہے اور تختہ دار پر بھی قبول گئے لیکن تاشقند کا راز نہیں بتایا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب آصف زرداری کو عمل نہیں تھا تو شیر کے انتخابی نشان والی مسلم لگ کے کشمیری نژاد وزیراعظم میاں نواز شریف سے ’’تاشقند کا راز‘‘ پوچھنے کا تو قوم کو حق ہی نہیں لیکن وزیراعظم صاحب کے داماد کیپٹن (ر) صفدر سمیت خبیر پختونخواہ سے مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی یہ پتہ چلائیں کہ ہزارہ سے پنجاب اور سندھ میں داخل ہونے والے ٹرکوں پر مرحوم صدر ایوب خان کی ’’Four Colour‘‘ تصویر کے ساتھ یہ کیوں لکھا ہوتا ہے کہ؎
’’تیری یاد آئی، تیرے جانے کے بعد!‘‘