سانحہ کوئٹہ سندھ میں ہوتا تو گورنرراج کا مطالبہ آجاتا‘ مولا بخش چانڈیو

27 اکتوبر 2016

کراچی (وقائع نگار) مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ کوئٹہ سانحہ غفلت ہے، ن لیگ کی حکومت ہے کوئی کہنے والا نہیں۔ سندھ میں ایسا واقعہ ہوتا تو گورنر راج کے مطالبے ہوتے۔ اپنے ایک بیان میں مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ عمران خان کا سوال شکوک شبہات پیدا کر رہاہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ عمران خان کے دھرنے سے پھلے بڑے واقعات ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے ہمیشہ کوشش کی کہ مسلم لیگ سیاسی پارٹی بن جائے لیکن مسلم لیگ ن کبھی سیاسی جماعت بن ہی نہیں پائی۔انہوں نے کہا کہ دو، تین متوالے وزیروں کے علاوہ باقی وزیر چاہتے ہیں کہ میاں صاحب نہ رہےں ۔مسلم لیگ ن کا کوئی نہیں جو جہاں کا ہے وہی کا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے جلدی کی تو اس کی پارٹی ق لیگ بن جائے گی۔
نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے مولابخش چانڈیو نے کہا کہ عمران خان نے شریف برادران کو عاجزانہ لہجہ سکھایا ہے اور شہباز شریف نے پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بات کی ہے، اور وہ اب کہ رہے ہیں کہ کرسی عارضی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس حساب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام عمر میاں صاحب نے اپنے پیر مرشد ضیاءالحق سے لیکر پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن اور احتساب کا راگ آلاپا ہے اور اب جب ان کے خلاف احتساب کی بات ہوئی ہے تو انہیں غصہ آ رہا ہے، نواز شریف خود کو احتساب کیلئے پیش کرے تو سکون ہوجائیگا اور ملک بحران سے نکل سکتا ہے۔ مشیر اطلاعات سندھ نے مزید کہا کہ عمران خان کا موقف درست ہے مگر احتجاج کا طریقہ کار غلط ہے، عمران خان نے جلدی کی تو ان کی پارٹی ق لیگ بن جائیگی اور عوام اور پیپلزپارٹی ایمپائر کی انگلی والی تبدیلی کو ہرگز قبول نہیں کرینگے، مولابخش چانڈیو نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ شرافت کی سیاست کی ہے، دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جتنی تنقید پیپلزپارٹی نے برداشت کی ہے اتنی دوسری کسی جماعت نے نہیں کی، ہم گالیوں کا جواب گالیوں سے نہیں دیتے، باوجود اس کے کہ شہید بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف گندی زبان استعمال ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کو پتہ نہیں کونسی یقین دہانی یا انگلی کا آسرہ ہے اور وہ کونسی حکمت عملی کے تحت اکیلے فاتح بننا چاہتی ہے، ٹی او آرز پر سب اپوزیشن کی جماعتیں ساتھ ہیں اور پی ٹی آئی کےا خیال آیا کہ اپوزیشن کو الگ کر دیا ، مولابخش چانڈیو نے کہا کہ امپائر کی انگلی سے تبدیلی آئی تو ایک نئی ق لیگ بنے گی ایک اور شوکت عزیز کا اضافہ ہوگا اور حقیقی تبدیلی لانے والے نوجوان جو ان کے ساتھ ہیں وہ مایوس ہونگے۔
مولا بخش چانڈیو