حالات بہتر نہیں ہے اس لئے حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو محتاط رہنا چاہئیے قمرالزماں کائرہ

27 اکتوبر 2016

حیدرآباد(نمائندہ نوائے وقت)سابق وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماءقمرالزماں کائرہ نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کا تقرر آئین اور قانون کے تقاضوں کے مطابق وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشاورت سے کیا تھا یہ کوئی سازش نہیں تھی، عمران خان ان دنوں سید خورشید شاہ اور دیگر شخصیات کے لئے جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ مناسب نہیں ہے، ملک کی تاریخ ایسی ہے کہ کئی مرتبہ سازشوں کے ذریعے سسٹم کو نقصان پہنچا ہے اور بعض مرتبہ احتجاج سے تلخی اتنی بڑھ گئی کہ جمہوریت کو نقصان پہنچا اس وقت بھی حالات جس طرف جا رہے ہیں یہ بہتر نہیں ہے اس لئے حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو محتاط رہنا چاہئیے۔وہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے نوید قمر شاہ سے ان کے والد قمرالزماں شاہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ایک سوال پر قمرالزماں کائرہ نے کہا کہ عمران خان کی تنقید صحیح نہیں ہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے 4 مطالبات حکومت کو پیش کرتے ہوئے 27 نومبر کو لانگ مارچ کی تاریخ اس لئے دی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے پیپلزپارٹی ملک میں اپنی تنظیمیں توڑ چکی ہے اس لئے اب نئی تنظم سازی کے لئے وقت درکار ہے، پارٹی کو منظم کئے بغیر کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلائی جا سکتی، کیا 2 نومبر کے تحریک انصاف کے دھرنے سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ ہے اس سوال پر قمرالزماں کائرہ نے کہا کہ کئی مرتبہ سازشیں ہوئیں جس سے سسٹم خراب ہوا اور الجھ گیا مگر بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ کسی سازش کے بغیر تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ جمہوریت کو نقصان پہنچا اب بھی حالات جس سمت جا رہے ہیں وہ کوئی بہتر نہیں ہے اسی لئے ہم نے حکومت کو کہا ہے کہ وہ غیرمعمولی حالات میں غیرمعمولی اقدامات اٹھائے تاکہ ایسی صورتحال پید انہ ہو کہ جمہوریت کو کوئی نقصان پہنچ جائے، انہوں نے کہا کہ سید خورشید شاہ اور دیگر رہنماﺅں کے خلاف عمران خان جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ مناسب نہیں ہے عمران خان کو دوسروں پر تنقید ضرور کرنا چاہیے لیکن اس کے لئے مناسب زبان استعمال کرنی چاہئیے۔ حکومت کے پاس راستہ ہے کہ وہ مطالبات تسلیم کرلے تاکہ تلخی زیادہ نہ بڑھے اور عمران خان سے بھی گذارش ہے کہ وہ ہاتھ ہلکا رکھیں اپنی گفتگو پر کنٹرول پائیں ۔
کائرہ