افغانستان طالبان کے حملے 36 افراد ہلاک داعش نے 30 یرغمالیوں کو قتل کر دیا

27 اکتوبر 2016

کابل (آن لائن+آئی این پی) افغانستان میں طالبان کے حملے کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے۔ داعش نے 30 یرغمالیوں کو قتل کر دیا۔ پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں 8 اہلکارمارے گئے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطا بق افغان صوبائی گورنر نے بتایا کہ صوبہ گہور میں طالبان کے حملے کے نتیجے میں 36 شہری ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بھی طالبان کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں متعدد جنگجو بھی مارے گئے ۔ دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے 30 افراد کو یرغمال بنانے کے بعد قتل کردیا۔برطانوی میڈیاکے مطابق افغان صوبہ غور کے حکام کا کہنا تھا داعش نے 30 افراد کو یرغمال بنانے کے بعد ان کو قتل کر دیا۔ دولت اسلامیہ نے ان شہریوں کو اس وقت یرغمال بنایا جب وہ پہاڑوں پر لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔حکام نے بتایا کہ ان شہریوں کو دولت اسلامیہ نے اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کیا جب مقامی افراد نے ان کو بچانے کی کوشش کی۔صوبہ غور کے ترجمان نے بتایا کہ مقامی افراد کی فائرنگ سے دولت اسلامیہ کا مقامی کمانڈر بھی ہلاک ہوا ہے۔گورنر ناصر خازے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ افغانستان میں دولت اسلامیہ کی حمایت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور کچھ علاقوں میں دولت اسلامیہ طالبان کی عملداری کو بھی چیلنج کر رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق جنوری 2015 سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان اور دولت اسلامیہ کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ افغان خبر رساں ادارے کے مطابق مسلح افراد نے طورخم کی خیبر نامی پولیس چیک پوسٹ کو گھیرے میں لے کر اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔فائرنگ کے نتیجے میں چیک پوسٹ میں موجود آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے اور حملے کے بعد مسلح افراد نے چیک پوسٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا۔ قبضے میں لے لیا۔ افغان ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز نے کچھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی جوابی کارروائی کے بعد چیک پوسٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملہ آور کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں یا فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ افغان سکیورٹی حکام نے حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور فوری طور پر کسی بھی گروپ یا تنظیم کی جانب سے حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
افغانستان