لال حویلی سے ملحقہ جگہ خالی کرنے کا نوٹس ، ہمت ہے تو محکمہ اوقاف چھڑا کر دکھائے: شیخ رشید

27 اکتوبر 2016

راولپنڈی(این این آئی+خصوصی نامہ نگار) محکمہ اوقاف نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی لال حویلی سے متصل جگہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 15 روز میں خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے شیخ رشید کو جاری نوٹس میں کہا گیا کہ لال حویلی سے متصل جگہ غیر قانونی اور تجاوزات میں شامل ہے اس لئے اسے خالی کیا جائے، لال حویلی کے ذمہ رقوم بھی ادا نہیں کی جا رہیں ٗاگر 15 روز میں کوئی قابل اطمینان جواب داخل نہ کرایا گیا تو لال حویلی کو خالی کرا لیا جائے گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین مترکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے کہا کہ شیخ رشید نے لال حویلی سے منسلک متروکہ وقف املاک بورڈ کی 10مرلے زمین پر قبضہ کیا ۔ 5 مرلے کا ہال اور 6 دکانیں بنائیں اور دکانوں کے کرایہ داروں کو بھی جبری نکال دیا گیا تھا جبکہ شیخ رشید اور ان کے بھائی نے جگہ الاٹ کرنیکی درخواست بھی دی جسے مسترد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کے زیر قبضہ کروڑوں روپے کی سرکاری زمین ہے جس پر پرویز مشرف کے دور میں اقتدار کے نشے میں قبضہ کیا گیا، اسے خالی کرانا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر نے پارلیمنٹ کے دئیے اختیارات کے مطابق فیصلہ سناتے ہوئے اس قبضہ کو ناجائز قرار دیا ہے۔دوسری جانب شیخ رشیدنے محکمہ اوقاف نوٹس پر ردعمل میںکہا کہ 28 تاریخ کو لال حویلی میں ایک بڑا سیاسی شو ہونے جا رہا ہے جس میں عمران خان اور طاہر القادری بھی شریک ہوں گے، سیاسی شو کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اورانہیں جاری کیا گیا نوٹس بلا جواز ہے، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ لال حویلی میری ملکیت نہیں لیکن میں کہتا ہوں ہمت ہے تو لال حویلی چھڑا کر دکھائیں انہوں نے کہا کہ وہ لال حویلی خالی نہیںکریں گے کیونکہ یہ حویلی ان کے آباؤ اجداد کی نشانی ہے، کل پریس کانفرنس کرکے اس حوالے تمام تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ دوسری طرف لاہور میں عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے لال حویلی خالی کرنے کے نوٹس کو حکومت کی انتقامی اور اوچھی کارروائی قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ سب سے بڑے قبضہ گروپ ایوان وزیر اعظم اور ایوان وزیر اعلیٰ میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شیخ رشید نے حکمرانوں کی لوٹ مار کو انتہائی جرات مندی کے ساتھ بے نقاب کیا جس کا شریف برادران کو رنج ہے۔