پی ٹی آئی سے عدالتی فیصلہ تک صبر کا تقاضا

27 اکتوبر 2016
پی ٹی آئی سے عدالتی فیصلہ تک صبر کا تقاضا

احمد کمال نظامی
فیصل آباد میں بلاول زرداری بھٹو کب آتے ہیں بظاہر تو وہ 30 اکتوبر کو لاہور پہنچیں گے اور پیپلزپارٹی کی تنظیم نو کے لئے انٹرویو بھی کریں گے۔ ادھر عمران خان نے بھی 30 اکتوبر سے ہی سے داتا دربار سے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور سے جب اسلام آباد کی طرف مارچ شروع ہو گا تو جس طرح تحریک انصاف کی طرف سے دھمکی آمیز رویہ اپنایا گیا ہے بڑی معنی خیز بات ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے اور اگر ہمیں روکا گیا تو ہم بھرپور مزاحمت کرنے کے علاوہ ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف رخ کر کے اسے مکمل طور پر سیل کر دیں گے۔ جبکہ دوسری جانب حکومت نے بھی پالیسی بنا رکھی ہے اگر اس پالیسی پر عملدرآمد ہواتو پھر معرکہ آرائی لاہور سے ہی شروع ہو جائے گی۔ گویا سیاسی درجہ حرارت ان دنوں ہر ڈوبتے سورج کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور حالات اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ 2 نومبر کو سیاسی سورج کہیں سوا نیزہ تک نہ پہنچ جائے کیوں میدان میں دونوں پہلوان اپنی اپنی شہ زوری کا مظاہرہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں جبکہ اصل معرکہ تو 2 نومبر سے ہی شروع ہو گا۔ سیاسی نجومی تو یہ پشین گوئی کر رہے ہیں کہ عاشقی شیوہ رندان بلا کش ہوتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے میاں نواز شریف کے درمیان جو معرکہ اقتدار ہو گا وہ سابق سیاسی معرکوں سے قطعی طور پر جداگانہ رنگ کا حامل ہو گا، ایک نوآموز ہے اور دوسرا تجربہ کار۔ ماضی میں جو پہلا معرکہ مرحوم ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ہوا تھا، اس میں دونوں اقتدار کی راہداریوں میں جو کھیل کھیلا جاتا ہے اس سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ اقتدار کی راہداریوں میں جو سازشیں جنم لیتی ہیں اس کے آلہ کار بھی تھے لیکن ایک کا پلہ یوں بھاری تھا کہ اسے وقت نے معاہدہ تاشقند کا ہتھیار فراہم کر دیا تھا۔ اب معاہدہ تاشقند کی جگہ پانامہ پیپرز کی بندوق بطور ہتھیار استعمال ہو رہی ہے لیکن اس میں وہ فورس اور طاقت نہیں جیسی معاہدہ تاشقند میں تھی۔ اس لئے کہ پانامہ لیکس میں میاں نواز شریف کا نام شامل نہیں جبکہ اکھاڑے کے باہر جو پہلوان موجود ہیں وہ پہلوان کم اور تماشائی زیادہ ہیں لیکن ان کی ہمدردیاں میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ جواز چاہے کوئی بھی ہو ان میں سرفہرست پیپلز پارٹی ہے بظاہر اس کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو ہیں لیکن اصل قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے جو کسی صورت بھی نہیں چاہتے کہ میاں نواز شریف کی مدت اقتدار میں کسی قسم کی رخنہ اندازی ہو بلکہ ان کی خواہش ہی کوشش بھی ہے کہ میاں نواز شریف اپنی مدت اقتدار پوری کریں کیونکہ اسی صورت میں ان کے ہاتھ میں سندھ رہے گا اور پیپلز پارٹی نے جو اپنا چار نکاتی ایجنڈا حکومت کو پیش کیا ہے اس میں ایک شق بھی ایسی نہیں جو میاں نواز شریف کی حکومت کے لئے کوئی بحرانی کیفیت پیدا کر سکے ۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو نے اسی ایجنڈا کو لے کر پنجاب کے دورہ کا شیڈول تیار کیا ہے اور وہ فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ریلیوں اور جلسوں سے خطاب بھی کریں گے۔ فیصل آباد میں پیپلز پارٹی نے 24 اکتوبر کو احتجاجی ریلی اور جلسہ کا اعلان کیا تھا جس سے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے خطاب کرنا تھا جو سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر کے والد کے انتقال پر منسوخ کر دیا گیا۔ یہ تو محض بہانہ تھا دراصل پیپلز پارٹی فیصل آباد کے درمیان جو گروہی لڑائی ہے وہ احتجاجی ریلی اور جلسہ کا اہتمام اس پیمانہ میں کرنے میں ناکام رہی جس کی امید مرکزی قیادت چاہتی تھی۔ اب جبکہ پنجاب کی قیادت قمرالزمان کائرہ کے سپرد کی جا رہی ہے لیکن سیکرٹری جنرل پر اتفاق نہیں ہو رہا۔ امکان ہے کہ افضل چن کو نامزد کر دیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے یہ دونوں لیڈر ان افراد میں شمار ہوتے ہیں جو ذہنی طور پر چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی پر جو فرینڈلی اپوزیشن کا لیبل چسپاں ہو چکا ہے اسے اتارا جائے۔ جیسا کہ پیپلز پارٹی کے چوہدری اعتزازاحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھرنا میں نہیں جائیں گے اگر تشدد ہوا تو اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں۔
سیاسی طور پر میاں نوازشریف کمزور نہیں ہیں۔ پاکستان کی اہم جماعتیں جن میں جمعیت علماءاسلام اور عوامی نیشنل پارٹی، سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں میاں نواز شریف سے کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے فیصل آباد میں اپنے جلسہ میں جو اعلان کیا اور عمران خان کے دھرنا اور اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی کو خلاف قانون، خلاف آئین اور جمہوریت کے مسلمہ اصولوں سے انحراف قرار دیا اور کہا کہ جو جنگ آئینی و قانونی طور پر عدالتوں میں لڑنی چاہیے عمران خان اسے سڑکوں پر لا کر جمہوریت کی نفی کر رہے ہیں۔ کسی کا باپ بھی جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں کر سکتا جبکہ صوبائی وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد بند کرنے کا ایجنڈا پاکستان کی تباہی ہے عوام منفی سیاست مسترد کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کسی حالت میں بھی عمران خان کے ساتھ ایک قدم چلنے کو تیار نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے پہلے بھی جمہوریت کو بچایا تھا اور اب بھی وہ جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ میاں نواز شریف کو حکومت کرنی نہیں آتی اور عمران خان کو سیاست نہیں آتی۔ سیاسی جماعتوں کی اس پوزیشن کے بعد معلوم یہی ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سیاسی طور پر جس تنہائی کا شکار تھے ماسوائے شیخ رشید کے ان کا کوئی ہمنوا نظر نہیں آتا تھا۔ اب جبکہ شیخ رشید کی کوششوں نے عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری کی عمران خان سے صلح کرا دی ہے اور اس صلح میں شیخ رشید کے کردار سے زیادہ عنصر تو ڈاکٹر طاہرالقادری اور میاں نواز شریف کے درمیان نفرت کی اس دیوار کا ہے جس نے کام کر دکھایا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری عمران خان کے دھرنا میں شریک ہوتے ہیں یا نہیں یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بہرحال ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ 27 یا 28 اکتوبر کو دھرنے میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا واضح طور پر اعلان کریں گے۔ بالعموم عوامی تحریک کے کارکن صرف اسی اجتماع میں پورے جوش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں جس سے ڈاکٹر طاہرالقادری نے خطاب کرنا ہوتا ہے یا قیادت کرنی ہوتی ہے وہ قادری صاحب کی امامت میں نماز پڑھتے ہیں۔ اگر 2 نومبر کو ہونے والے احتجاج میں علامہ طاہرالقادری بہ نفس نفیس شریک نہیں ہوتے تو عوامی تحریک کے کارکن بھی کنارے پر کھڑے نظر آئیں گے۔لہٰذا بظاہرجمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، خطرہ ہے تو عمران خان اور میاں نواز شریف کو جبکہ نواز شریف کا پلڑا بھاری ہے اس لئے کہ عوام کی آواز ہے کہ اب جبکہ عدالت عظمیٰ میں کیس زیرسماعت ہے فیصلہ تک عمران خان صبر کا مظاہرہ کریں۔