پرامن احتجاج: کرین اور اسلحہ لے جانے پر کارروائی!

27 اکتوبر 2016
پرامن احتجاج: کرین اور اسلحہ لے جانے پر کارروائی!

فرخ سعید خواجہ
2 نومبر جوں جوں قریب آتی جا رہی ہے عام لوگوں کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ جہاں دو آدمی اکٹھے ہوں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہو گا؟ حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے درمیان اعصابی جنگ جاری ہے۔ احتجاج سے ایک قدم آگے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کاروبار حکومت ٹھپ کرنے کا اعلان کرنے والوں کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی تاحال واضح نہیں ہے۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ حکومت کسی بھی طور پر اسلام آباد چڑھائی افورڈ نہیں کر سکتی اور نہ ہی اسلام آباد فتح کرنے دے گی۔ تحریک انصاف کا پلان آہستہ آہستہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کو سیاست کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی پنجاب سے قیادت کی اکثریت لاہور میں اپنے گھر رکھتی ہے۔ تحریک انصاف نے پنجاب سے اسلام آباد لوگ لے جانے کے لئے تاحال جو اعلانات کئے ہیں ان کے مطابق 2 نومبر کی صبح قذافی سٹیڈیم سے تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان کی قیادت میں ایک قافلہ روانہ ہونا ہے جس میں لاہور کے دیہی علاقوں پر مشمل تنظیم لاہور رورل کے صدر ملک ظہیر عباس کھوکھر‘ جنرل سیکرٹری اعجاز ڈیال اور ایم پی اے شعیب صدیقی‘ جمشید چیمہ‘ فرخ مون سمیت ٹکٹ ہولڈروں کی قیادت میں افراد شامل ہوں گے۔ اس قافلے میں وسطی پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں کے لوگ راستے میں شامل ہوتے جائیں گے۔ دوسرا عجیب سا اعلان تحریک انصاف کے رہنماﺅں شبیر سیال‘ میاں محمود الرشید‘ چودھری سرور‘ اعجاز چودھری‘ ولید اقبال‘ حماد اظہر اور ڈاکٹر شاہد صدیق نے پریس کانفرنس کرکے کہا کہ 27 اکتوبر کو صبح نو بجے تحریک انصاف داتا دربارسے اسلام آباد کی طرف پیدل مارچ شروع کرے گی۔ عجیب اعلان یوں ہے کہ آج کے دور میں وہ کون لوگ ہوں گے جو پانچ دن مسلسل پیدل لاہور سے اسلام آباد چلیں جبکہ ان کی قیادت کرنے والے شبیر سیال‘ میاں محمود الرشید‘ چودھری سرور‘ اعجاز چودھری‘ ولید اقبال‘ حماد اظہر اور ڈاکٹر شاہد صدیق میں سے آدھے جسمانی عوارض میں مبتلا ہونے کے باعث داتادربار کے راوی پل تک مسلسل پیدل چلیں تو ان میں سے آدھے راستے میں ہی بیہوش ہوکر گر پڑیں گے۔
بہرحال اتنا ضرور ہے کہ تحریک انصاف کے بانی رکن اور لاہور کے سینئر کارکنوں میں سے ایک شبیر سیال کی قسمت نے یاوری کی اور ان مگرمچھوں نے ازخود ان کی قیادت میں اسلام آباد پیدل مارچ کا اعلان کیا ہے وگرنہ شبیر سیال اور اس جیسے سفید پوشوں کو کہنی مارکر آگے آگے بڑھنے والوں نے عرصے سے کارنر کر رکھا تھا۔ تحریک انصاف کے ساتھ 2 نومبر کو شامل ہونے والی جماعتوں میں ماسوائے پاکستان عوامی تحریک کے اور کسی جماعت کے پاس سٹریٹ پاور نہیں ہے۔ البتہ (ق) لیگ کے لیڈروں سمیت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سیاسی رونق بڑھانے کا سبب ضرور بنیں گے۔
جہاں تک حکمران جماعت مسلم لیگ کا تعلق ہے وہ تاحال پارٹی کے تنظیمی انتخابات اور پنجاب میں مخصوص نشستوں پر بلدیاتی انتخابات کے ساتھ ساتھ میئر‘ چیئرمین‘ ڈپٹی میئر‘ وائس چیئرمینوں کے انتخابات کے گورکھ دھندوں میں مصروف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی اور صوبائی صدر پنجاب کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں بعض دیگر عہدوں پر بھی چناﺅ ہو گیا ہے اگرچہ روایتی طور پر منتخب ہونے والے بلامقابلہ کامیاب ہوئے ہیں لیکن مرکز میں سیکرٹری جنرل اور صوبہ پنجاب میں جنرل سیکرٹری سمیت دیگر بہت سے عہدے تاحال خالی ہیں۔ یوں تو حکمران حضرات کی توجہ اپنی پارٹی کی طر ہمیشہ ہی کر رہی ہے اور اب جیسے تیسے انتخابات کروائے گئے وہ بھی الیکشن کمشن کا کھاتا پُر کرنے کے لئے تھے وگرنہ پارٹی سرکاری افراد کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ سو اس وقت ملک میں جو سیاسی بھونچال محسوس کیا جا رہا ہے حکمران پارٹی کے عہدیدار اور کارکنوں کو قیادت کی طرف سے کوئی لائن نہیں ملی ہے کہ اس صورتحال میں ان کا کردار کیا ہونا چاہئے۔ سو ہر کوئی اپنی عقل و فہم کے مطابق چل رہا ہے۔
جہاں تک بلدیاتی انتخابات کی مخصوص نشستوں کا تعلق ہے۔ پنجاب کے بلدیاتی اداروں میں مسلم لیگ (ن) کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے باعث مخصوص نشستوں پر ان کے امیدواروں کی بہت بڑی تعداد میں کامیابی کو یقینی سمجھا جانا چاہئے۔ سو بڑے چھوٹے شہروں میں مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ کامیابی کا سرٹیفیکیٹ ہے تاہم اکثر چھوٹے شہروں میں مقامی دھڑے بندیوں کے باعث الیکشن اوپن چھوڑا جا رہا ہے تاکہ جو بھی جیتے ہمارا ہو گا اصول اپنایا جا سکے۔ یہی صورتحال آگے چل کر میئر‘ ڈپٹی میئر‘ چیئرمین اور وائس چیئرمینوں کے انتخابات میں سامنے آئے گی۔ جہاں تک 2 نومبر کا تعلق ہے اس میں تحریک انصاف کا واضح مﺅقف ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے اس وقت تک الگ ہو جائیں جب تک پانامہ لیکس پر کوئی فیصلہ نہیں آتا۔ اُن کے اس مطالبے کے کھلے حامی وہی تین چار سیاستدان ہیں جن کی سیاسی پارٹیوں کا اوپر ذکر آ چکا ہے جبکہ دیگر سپریم کورٹ میں معاملہ آجانے کے بعد اس کے فیصلے کا انتظار کئے جانے کے حامی ہیں۔ جماعت اسلامی جوکہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہے وہ تاحال دونوں کشتیوں کی سوار ہے۔ ان کا اصولی مﺅقف وہی ہے جو ساری قوم کا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کرنے کیلئے بلاامتیاز احتساب کیا جائے لیکن سپریم کورٹ کے دروازے پر میڈیا سے جناب سراج الحق نے جو لمبی چوڑی گفتگو کی اس سے یہ سمجھنا دشوار نہیں تھا کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ بھی رہنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
ایک بات طے ہے کہ مسلم لیگ (ن) ازخود چاہے گی کہ اپنے سیاسی مخالفین کو اس بات کا موقع نہ دے کہ وہ 2018کے الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران کے خلاف کرپشن اور پانامہ لیکس کو ہتھیار بنائیں۔ مسلم لیگ ن کے سامنے سپریم کورٹ میں کیس کی ہموار سماعت کے علاوہ پارلیمنٹ میں سینٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے اپوزیشن اور حکومتی بلوں میں ترامیم کے ذریعے سب کے لئے قابل قبول بنانے کا عمل سیاسی ماحول کو نارمل بنانے کے سبب بن سکتا ہے۔ باقی رہ گئی بات اسلام آباد لاک ڈاﺅن کی تو اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے ایک حد تک فری ہینڈ دیا جا سکتا ہے البتہ جہاں حکومتی رٹ چیلنج ہو گی وہاں قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کی روشنی میں صحافیوں سے گفتگو میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں آن ریکارڈ ہیں کہ اگر کرینیں اور اسلحہ وغیرہ اسلام آباد لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ پرامن احتجاج کی نفی ہو گی اور اس پر قانون حرکت میں آ جائے گا۔ حکومتی سرکل کو اطلاعات ملی ہیں کہ پی ٹی آئی کا ارادہ ٹھیک نہیں تاہم جب تک ان کی پوری تسلی نہیں ہو جاتی حکومت کی طرف سے کسی ایکشن کی توقع نہیں ہے۔ جہاں تک تحریک انصاف کے ترجمان جناب نعیم الحق کے پنجاب پولیس پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کا الزام ہے وہ روایتی بیان بازی کا حصہ ہے وگرنہ تاحال ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔
پنجاب حکومت کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کو تمام صورت حال کاجائزہ لینے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ نہ ٹرانسپورٹروں پر اثرانداز ہوا جائے اور نہ ہی جانے والوں پر کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی جائے تاہم جہاں کوئی قانون ہاتھ میں لے اسے پکڑ لیا جائے۔ جہاں تک اسلام آباد کا تعلق ہے ۔ چڑھائی کرنے کی اجازت اس لئے نہیں ملے گی کہ رائے ونڈ میں جو تقاریر ہوئیں ان میں لاشوں کی بات کی گئی اور ساتھ ہی اسلام آباد چڑھائی کا اعلان ہوا۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت حتی الامکان کوشش کرے گی کہ ایسا لائحہ عمل بنائے جس سے لاشوں کی سیاست نہ ہو سکے۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...