شہداءسپرد خاک سوگ میں سارا شہر سنسان

27 اکتوبر 2016

وطن یار خلجی
سانحہ کوئٹہ پولیس ٹریننگ سنٹر کے 62 شہداءکو اپنے اپنے علاقوں میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا، تدفین کے وقت ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر چہرہ غمزدہ دکھائی دے رہا تھا۔ بدھ کے روز کوئٹہ سمیت ان تمام علاقوں میں شہداءکے سوگ میں تمام کاروبار اور بازار بند رہے۔ سانحہ کے 120 زخمیوں کا علاج معالجہ سول ہسپتال کوئٹہ سمیت دیگر ہسپتالوں میں جاری ہے۔ 8 اگست کو سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے سانحہ کے بعد بلوچستان بھر میں اس سانحہ پر سول سوسائٹی اور عام لوگوںمیں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ہر طرف یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہیں۔ آخر یہ دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہمارے ہاں کیوں ہورہے ہیں اور کون سے ہاتھ اور بیرونی طاقتیں اس دہشت گردی کے پیچھے ہیں۔ لوگ یہ سوچ بھی رہے ہیں اور حکومت بلوچستان سمیت سکیورٹی اداروں سے پوچھ بھی رہے ہیں کہ ہمیں تحفظ کیوں نہیں مل سکتا ہے، ہر بلوچستان کے ہر فرد کا یہی سوال ہے کہ آخر کب تک ہم لاشوں کو اٹھائیں گے اور مزید کتنا خون بہے گا۔ ہر بار دہشت گردی ہونے پر یہی کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کونشان عبرت بنائیں گے اور دہشت گرد آخری سسکیاں لے رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر پھر کچھ عرصے کے بعد دہشت گرد بھرپور انداز میں کارروائی کرجاتے ہیں اور اہل بلوچستان کو غم میں ڈبو دیتے ہیں۔
اس بار سانحہ پر تو تمام لوگ عدم سکیورٹی اور ٹریننگ سکول میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں شدید تنقید کررہے ہیں ۔ حکومت بلوچستان عوام اور سیاسی قوتوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے بلکہ خود بھی حکومت بلوچستان نے ٹریننگ سکول کی سکیورٹی کے بہتر انتظامات نہ ہونے کا کھلا اعتراف کیا ہے ،اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری نے باقاعدہ ناقص سکیورٹی کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ 24 گھنٹے میں انہیں رپورٹ پیش کی جائے۔ سنٹر کی دیوار اونچی کرنے کے وزیراعلیٰ کے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا اہم سوال ہے کیونکہ 6 ستمبر کو پاسنگ آﺅٹ پریڈ کے موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان نے پولیس ٹریننگ سنٹر کی دیواروں کو اونچا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس ٹریننگ سنٹر سریاب جیسے حساس ترین علاقے میں موجود ہے جہاں پر 24 گھنٹے بھرپور سکیورٹی کی ضرورت تھی۔پیش آنے والے اس واقعے پر اپوزیشن لیڈر نے تو وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری سے مستعفی ہونے کا مطالبہ پیش کردیا ہے۔ حالانکہ اگر حقیقت سے دیکھا جائے تو صوبے میں امن و امان اور ترقی و خوشحالی و تبدیلی کیلئے جتنا وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اور آئی جی ایف سی میجر جنرل شیرافگن خلوص محنت و لگن سے کام کررہے ہیں وہ بے مثال ہے۔ اس پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی ہے اور نہ ہی شک کی جاسکتا ہے۔ اگرچہ کچھ خرابیاں ضرور ہونگی، ذمہ داروں سے ضرور پوچھا جانا چاہیئے تاکہ آئندہ کیلئے غلطیوں کو دور کیا جاسکے اور یہ سب کچھ ہم مل بیٹھ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس صوبے کا اور عوام کا ہم سب پر حق بھی تو ہے۔ اس حوالے سے مبصرین اور قبائلی مشیران نے ایک تجویز بھی دی ہے کہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے کے سرکردہ قبائلی عمائدین موجودہ صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے اور ان کا راستہ روکنے کیلئے مل بیٹھ جائیں اور وزیراعلیٰ اس کارخیر کیلئے پہلا قدم اٹھائیں۔ اس نشست کا پر امن بلوچستان ہی ون پوائنٹ ایجنڈا ہونا چاہئے۔
سانحہ پی ٹی سی کوئٹہ پر بدھ کے روز اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن چیمبر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومت بلوچستان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سانحہ پی ٹی سی کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوتی ہے اور حکومت نے نااہلی کا ثبوت دیا ہے بلکہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں 62 نوجوانوں کے جنازے اٹھانے پڑے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت مستعفی ہو جائے۔مولانا واسع نے سوال اٹھایا کہ ان تمام ریکروٹس نوجوانوں کو تربیت حاصل کرنے کے بعد سنٹر سے فارغ کر کے گھروں کو بھیجا گیا تھا ۔ دوبارہ انہیں کس مقصد کیلئے واپس پی ٹی سی کوئٹہ بلایا گیا، حکومت ہمیں اس سوال کا جواب دے۔ کیونکہ زندہ بچ جانے اہلکار بھی یہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ انہیں واپس کیوں بلایا گیا۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر زمرک خان اچکزائی نے اس واقعہ پر حکومت کی غفلت کی بھر پور مذمت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی کی سربراہ بھی کوئٹہ میں موجود ہیں اور وہ 26 اکتوبر کو کوئٹہ میں اپنی پارٹی کے زیر اہتمام شہداءآٹھ اگست کی یاد میں منعقد ہونے والے جلسہ عام کیلئے کوئٹہ پہنچے تھے۔ اے این پی نے اس جلسہ عام کیلئے بھرپور تیاری کی تھی تاہم اسے سانحہ پی ٹی سی کے سوگ میں منسوخ کردیا گیا۔ اسفندر یار ولی گزشتہ روز سول ہسپتال گئے ۔ زخمیوں کی عیادت کی بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں سانحہ پی ٹی سی کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ حکومت عوام کی جان و مال کی تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے اور ایسے واقعات ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور ہمیں اپنی غلطیوں کو دور کرنا ہوگا۔دوسری جانب بلوچستان کی سول سوسائٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ پی ٹی سی اور دیگر واقعات کے پیچھے تمام سہولت کاروں کو بے نقاب کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔