ملک دشمن سرگرمیوں پر کوئی رعایت نہ دینے کا فیصلہ!

27 اکتوبر 2016
ملک دشمن سرگرمیوں پر کوئی رعایت نہ دینے کا فیصلہ!

شہزاد چغتائی
کراچی میںکئی روز تک جاری رہنے والی ایم کیو ایم لندن کی سرگرمیاں اس وقت انجام کو پہنچیں جب ایم کیو ایم کے رہنماﺅں ڈاکٹر حسن ظفرعارف‘ کنور خالد یونس اور امجد اللہ خان کو گرفتارکرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ ایم کیو ایم لندن کا باب بند ہوگیا ۔22 کا ہندسہ ایم کیو ایم لندن کیلئے منحوس ثابت ہوا۔ 22اگست کو ایم کیو ایم کے قائد کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد رینجرز حرکت میں آگئی تھی۔ اس روز ہونے والے نا خوشگوار واقعہ کے بعد ایم کیوایم کے خلاف آپریشن ہوا اور 22اکتوبر کو ایم کیو ایم لندن کی بساط لپیٹ دی گئی۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف اور کنور خالد یونس کی گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کے تیسرے رہنما امجد اللہ خان کی گرفتاری کیلئے کشمکش دکھائی دی رینجرز امجد اللہ خان کے پریس کلب سے باہر آنے کا انتظارکرتی رہی۔امجد اللہ خان کے شبہ میں کئی صحافیوں کوحراست میں لے کر چھوڑ دیا گیا۔ حسن ظفر عارف کی گرفتاری کے ساتھ ایم کیو ایم کے کارکن رفو چکر ہوگئے۔ حسن ظفر عارف کو جس وقت گرفتار کیا گیا وہ موٹرسائیکل پر بیٹھے تھے۔ ایم کیوایم کے ایک رہنما ساتھی اسحق کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے گئے لیکن وہ ہاتھ نہیں آسکے۔ ان کی اہلیہ نے ساتھی اسحق کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا اورہائیکورٹ میں درخواست کردی گئی۔ کراچی کے بعد حیدر آباد میں بھی ایم کیو ایم لندن کی سرگرمیاں روک دی گئیں جہاں ظفر راجپوت اور مومن خان مومن پکڑ لئے گئے۔ اب کراچی اورحیدرآباد میں متحدہ لندن کا کوئی نام لیوا نہیں ۔ بانی ایم کیوایم خوف کی علامت بن گئے‘ پہلے کراچی سے جب لوگ دادرسی کیلئے لندن فون کرتے تھے تو ان کو ٹال دیا جاتا تھا اب شہر میں کوئی لندن کا فون اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ 22 اگست کے بعد کراچی میں ایم کیو ایم لندن پر غیر اعلانیہ پابندی لگ گئی تھی لیکن ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے منظر عام پر آنے کے بعد کراچی میں ایک بار پھر جئے الطاف کے نعرے گونجنے لگے تھے۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کا کریڈٹ یہ ہے کہ وہ کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم لندن کا نام لے کر اٹھے اورپھر اس کی قیمت بھی ادا کی۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل کراچی کا سیاسی منظرنامہ دھندلا ہوا تھا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر حسن ظفر عارف نے انٹری دیدی اورپریس کانفرنس کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ایم کیو ایم لندن کے خلاف کریک ڈاﺅن سے قبل کراچی کی دیواروں پر چند دن سے الطاف حسین کی حمایت میںزبردست وال چاکنگ ہورہی تھی اور ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی سے مستعفیٰ ہونے اور مینڈنٹ واپس کرنے کے مطالبے ہورہے تھے۔ ایم کیو ایم لندن کے رہنماﺅں کی گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماﺅں نے سکون کا سانس لیا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کو ایم کیوا یم لندن میں شامل کروانے کیلئے رابطے کررہے تھے ۔خود ڈاکٹر حسن ظفر عارف نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن میں شمولیت کیلئے تین ارکان قومی اسمبلی اور 6ارکان صوبائی اسمبلی نے رابطہ کیا تھا،لیکن اب مطلع صاف ہوگیا ہے۔
پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ایم کیو ایم لندن کو اسپیس نہ ملے تاکہ 2018ءمیں ایم کیو ایم کا مینڈنٹ ان کی جھولی میں آگرے۔کراچی میں سیاسی حلقوں کو اس وقت بہت حیرت ہوئی تھی جب کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی قیادت میں ایم کیو ایم لندن کی پریس کانفرنس مکمل ہوگئی تھی جس کے ساتھ ایم کیو ایم لندن کے رہنماﺅں کے حوصلے بلند ہوگئے تھے اور ایم کیو ایم لندن نے روزانہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا۔ جمعرات کو ایم کیو ایم لندن کے کارکن بڑی تعداد میں جناح گراﺅنڈ پہنچ گئے تھے۔ کارکنوں نے نائن زیرو پر لگی سیل کا گھیراﺅ کیا اور جئے الطاف کے نعرے لگائے ۔ اس دوران رینجرز کے حکام نائن زیرو پہنچ گئے۔ انہوں نے ایم کیوا یم کی خواتین کو شہداءکی یادگار پر فاتحہ خوانی کی اجازت دیدی۔اس دوران اس بات کے خدشات موجود تھے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور لندن کے درمیان قربت بڑھ جائے لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔دریں اثناءایم کیو ایم لندن کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا اس ضمن میں وفاق اور صوبہ کے ساتھ اتفاق رائے موجود ہے ۔ کراچی میں ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں پر وفاق نے بار بار تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد وفاق اور صوبے کے درمیان رابطے ہوئے اور طے پایا کہ ملک دشمن سرگرمیوںپرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ملک کے خلاف نعرے لگانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائیگی۔
وفاقی وزارت داخلہ اورصوبائی محکمہ داخلہ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد ایم کیو ایم لندن کو نکیل دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ الطاف حسین کو سیاست کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے جمعرات کو نائن زیرو پر قابل اعتراض نعروں کا نوٹس بھی لیا تھا۔ صوبے اور وفاق نے اس ضمن میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا ہے،اس ضمن میں نہ صرف وفاق اور صوبہ بلکہ حکومت اور اپوزیشن ایک صفحہ پر ہےں۔کراچی میںمتحدہ کا مستقبل بدستور موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ صوبائی وزیر صنعت منظور وسان کا خیال ہے کہ متحدہ میں مزید ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوگی اور آنے والے دنوں میں متحدہ لندن اورایم کیو ایم پاکستان مل جل کر کام کریں گے لیکن سابق صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ متحدہ کی بحالی کا کوئی امکا ن نہیں۔ ایم کیو ایم بدنام ہو چکی ہے اور اس کی ساکھ ختم ہوچکی ہے۔ پرویز مشرف کے تجزیہ میں وزن ہے اور اس وقت زمینی حقائق یہ ہےں کہ متحدہ اب سیاسی افق سے پھر غائب ہوگی۔ دوسری جانب بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کو گورنر عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے تنازعہ پراظہار رائے سے روک دیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے دونوں کے درمیان جنگ بندی کی پیش کش کی ہے، مصالحت کیلئے کئی دوسرے رہنما بھی سرگرم ہیں لیکن ان کو صلح کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ گورنر سندھ عشرت العباد کا یہ منصب نہیں تھا کہ وہ مصطفی کمال کو جواب دیتے۔ ان کے وقار کا تقاضا یہ ہے کہ وہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرح خاموش ہوکر بیٹھ جائیں اورترجمان کے ذریعہ بھی جواب نہ دیں ۔ ادھر گورنر سندھ کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود دام میں آگئے ہیں۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے درمیان الزام تراشی کے حوالے سے پیپلز پارٹی بظاہر غیر جانبدار نظر آ رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کچھ روز قبل ہی الطاف حسین کو کراچی کی سیاسی حقیقت قرار دے چکے ہیں۔ جس سے ان کی پارٹی کی پالیسی واضح ہو رہی ہے۔ لہٰذاگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے جن 4بڑے مقدمات کو ری اوپن کرنے کی بات کی ہے ان کی زد میں پاک سرزمین پارٹی کے سرکردہ رہنما آسکتے ہیں۔ جوچار مقدمات گنوائے جارہے ہیں ان میں عظیم طارق قتل کیس میں مصطفی کمال کو شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید کیس میں انیس ایڈووکیٹ بلدیہ ٹاﺅن کیس میں حماد صدیقی انیس قائم خانی وغیرہ شامل تفتیش ہوسکتے ہیں ۔ بین ہی 12مئی 2007 ئکیس میں بھی مصطفی کمال سمیت پی ایس پی کے دیگر رہنماﺅں کو شامل تفتیش کیاجاسکتا ہے جبکہ چائنا کٹنگ میں وسیم آفتاب اوردیگر کو شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔