غلط کام سے روکیں تو 100 ‘200 بچوں کو لیکر احتجاج کرنا ہمارا کلچر بن چکا ہے:چیف جسٹس

27 اکتوبر 2016
غلط کام سے روکیں تو 100 ‘200 بچوں کو لیکر احتجاج کرنا ہمارا کلچر بن چکا ہے:چیف جسٹس

اسلام آباد (این این آئی +نوائے وقت نیوز) سپریم کورٹ نے رہائشی علاقوں میں قائم سکولوں کی منتقلی کے لیے 3سال کا ٹائم فریم مسترد کردیا۔ سی ڈی اے سے پیشرفت رپورٹ بھی ایک مہینے میں طلب کرلی گئی۔ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سی ڈی اے کے وکیل شاہدحامد نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے آغاز پر 1695عمارتوں کو کمرشل استعمال کیا جا رہا تھا، اب رہائشی علاقوں میں 641 عمارتیں کمرشل استعمال میں ہیں جن میں 359 سکولز، 90ہاسٹلز، 100گیسٹ ہاؤسز ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سخت کارروائی ہونے تک معاملات حل نہیں ہوں گے۔ سی ڈی اے کمرشل استعمال والی پراپرٹی کو واپس لے کر جرمانے کرے۔ غلط کام سے روکیں تو 100یا 200 بچوں کو لے کر احتجاج ہماراکلچر بن چکا ہے۔ غیرقانونی اقدامات پر کارروائی ہو تو بھی سول سوسائٹی والے احتجاج کرتے ہیں۔ ہر مسئلے پر مصلحت اختیار کرنا ہمارے کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔ اب لوگ وکلا اور ججز کو گھر کرائے پر دینے سے ڈرتے ہیں۔ عدالت نے سکولوں کی منتقلی کے لیے تین سال کا ٹائم فریم مسترد کردیا اور کہا کہ کیا عدالت قانون پر کارروائی کے لیے 3سال انتظار کرے گی؟ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ایک بھی سرکاری دفتر رہائشی علاقے میں نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت نے سی ڈی اے کو غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کی رپورٹ ایک ماہ میں جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت دسمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔