یٰسین ملک کو ہلاک یا زہریلا انجکشن لگایا جا سکتا ہے :مشعال ملک سے خصوصی گفتگو

27 اکتوبر 2016

گلناز نواب
مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تین ماہ سے جاری بھارتی دہشت گردی نے بربریت، ظلم اور وحشت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ جن کو دیکھ کر ہر آنکھ نم اور ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی اور قتل و غارت گری کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے صورتحال اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ نہتے کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ حریت لیڈرشپ کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی واضح مثال جے کے ایل ایف کے چیئرمین یٰسین ملک کی گرفتاری اور غیر قانونی و بلا جواز قید ہے۔ بھارتی فوج کے تشدد اور مظالم کے نتیجے میں یٰسین ملک کی حالت تشویشناک حد تک خراب ہے۔ ان تمام وجوہات کو جاننے کےلئے گزشتہ دنوں ہم نے مقبوضہ کشمیر کے مقبول رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک سے گفتگو کی جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے ۔
”بھارتی فوج نے سری نگر کی سنٹرل جیل میں قید حریت رہنما یٰسین ملک کو جان بوجھ کر غلط ادویات استعمال کروا ئیں جس کے نتیجے میں ان کے بازو میں انفیکشن پیدا ہو گئی۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ایک چھوٹے سے کلینک میں لے جایا گیا جہاں انہیںکوئی غلط انجکشن لگا دیا گیا جس کی وجہ سے ان کے سارے بازو میں زہر پھیل گیا اور ان کا دایاں بازو اور ہاتھ بالکل مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس وقت بھی انہیں 104 ڈگری ٹمپریچر ہے۔ شدید بخار اور درد سے مسلسل تڑپتے رہتے ہیں کیونکہ زہر آلود سوجن پورے ہاتھ اور بازو میں پھیل چکی ہے۔ بھارتی حکومت یٰسین ملک کے خلاف یہ سازش کر رہی ہے کہ انہیں خدانخواستہ مار دیا جائے یا انہیں زہریلا انجکشن لگا دیا جائے۔ انہیں Interrogation center میں ٹارچر کیا گیا اور انہیں نفسیاتی طور پر بھی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ وہ گردے میں پتھری کے مریض ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو پانی نہیں پینے دیا جاتا ۔ پھر ان کیلئے لائف سیونگ ڈرگ بند کر دی گئی ہے۔ ان کی ٹانگ میں بلڈ Clot ہے۔ ایسی حالت میں تو مریض کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یٰسین ملک خدا کے فضل و کرم اور اپنی مضبوط قوتِ ارادی کے بل پر اسقدر کٹھن اور مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ ان کا زندہ رہنا یقیناً ایک معجزہ ہی ہے۔میں نوائے وقت کے توسط سے پوری دنیا سے یہ مطالبہ کر رہی ہوں کہ یٰسین ملک کو علاج کیلئے بیرونِ ملک منتقل کیا جائے کیونکہ میں اور یٰسین ملک کے دیگر اہلِ خانہ بھارتی فوج کی زیرِ نگرانی ان کے علاج سے قطعاً مطمئن نہیں ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ بھارتیوں نے صرف یٰسین ملک کو ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
فیملی : یہ اطلاعات آپ کو کیسے موصول ہورہی ہیں کہ یٰسین ملک کی حالت اس وقت تشویشناک ہے؟
مشعال ملک: میرا رابطہ اپنی سا س سے رہتا ہے۔ انٹیروگیشن سنٹر میں جب وہ ان سے ملنے جاتی ہیں تو واپس آکر جب ٹیلی فون لائنیں کھلتی ہیں تو ان کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے۔ یٰسین ملک کی والدہ اور بہنوں کو بھی بہت کم ملنے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یٰسین ملک ایک سیاسی قیدی ہیں کوئی جرائم پیشہ تو نہیں کہ ان کا ملنا جلنا بند کردیا جائے۔کچھ دن قبل گیلانی صاحب نے بتایا تھا کہ بھارت نے حریت لیڈر کی "Kill Ship" لسٹ بنا دی ہے جس میں حریت پسند ٹاپ لیڈرشپ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
فیملی: اس سے قبل یٰسین ملک کو دل کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا تھا؟
مشعال ملک: نوے کی دہائی کے آغاز کی بات ہے جب بھارتیوں نے انہیں زہر کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے ان کا ہارٹ بالکل فیل ہوگیا تھا۔ تب سے اب تک یہ اپنے ہارٹ کےلئے ”لائف سیونگ ڈرگ“ لیتے ہیں، ان کا ایک آرٹیفشل ”والو“ لگا ہوا ہے وہ بھی متاثر ہورہا ہے۔
فیملی: ہسپتال میں کیے جانے والے علاج معالجے سے آپ مطمئن ہیں؟
مشعال ملک: میں بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔ یٰسین ملک کی ساری رات طبیعت خراب ہونے کے باوجود انہیں سنٹرل جیل میں رکھا گیا۔ یہ تو میری ساس نندیں، دیگر رشتہ دار اور ارد گرد کے لوگوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنا شروع کیا اور شور مچایا تو انہیں ایک بہت ہی چھوٹے اور تنگ سے کلینک میں لے گئے۔ بعدازاں انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا اور یہ سب بھی دکھاوے کیلئے ہے۔
میں بار بار یہ بات کہہ رہی ہوں کہ بھارت نے حریت قیادت کو ٹھکانے لگانے کی پلاننگ کر رکھی ہے۔ میری فی الحال کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے، بس میں یہی چاہتی ہوں کہ یٰسین ملک کی حالت جس قدر خراب ہو چکی ہے خدارا! انڈین انہیں باہر کے ملک کسی ہسپتال میں شفٹ کروا دیں تاکہ ان کا بہتر علاج ہو سکے۔
فیملی: ایسی حالت میں ہسپتال میں ان کی دیکھ بھال کیلئے کون موجود ہے؟
مشعال ملک: تھوڑی دیر کیلئے میری ساس اور نندوں کو جانے کی اجازت دیتے ہیں ورنہ تو وہ لوگوں کے رحم و کرم پر ہی ہیں۔
فیملی: آپ کو ویزہ ملنے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟
مشعال ملک: میں نے یو این او کو اپیل کی ہے۔ ویسے بھی دنیا کا کوئی قانون بیوی اور بیٹی کو اس کے شوہر یا باپ سے جدا کر سکتی ہے اور نا ہی ملنے سے روک سکتی ہے۔
فیملی: رضیہ سلطانہ (بیٹی) کی حالت کیسی ہے اور آپ کی آخری بار ملاقات کب ہوئی تھی؟
مشعال ملک: ہماری اڑھائی سال قبل یٰسین ملک سے ملاقات ہوئی تھی، تب رضیہ سلطانہ صرف ڈیڑھ سال کی تھی اور اب وہ چار سال کی ہو چکی ہے۔ اب ہماری بیٹی صورتحال کو سمجھ سکتی ہے اسلئے وہ بھی اپنے بابا کیلئے پریشان ہے۔
فیملی: بین الاقوامی سطح پر آپ کی جانب سے اٹھائی جانے والی آواز کی کوئی شنوائی ہوئی؟
مشعال ملک: جی بالکل! میں نے یو این کے ہیومن رائٹس کمشن کو لکھا تو انہوں نے رابطہ کیا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیںکہ انڈیا سے ہم رابطہ کریں کہ انہیں باہر کے کسی ملک میں شفٹ کر دیں یا پھر ہم کوئی سٹیٹمنٹ/ بیان جاری کر دیں۔ میں نے کہا کہ آپ بھارتی حکومت کو پریشرائز کریں اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی سرگرمیوں کو مانیٹر کریں۔ امید ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے جلد ہی اس حوالے سے بیان سامنے آ جائے گا۔
فیملی: پاکستانی حکومت اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر رہی ہے؟
مشعال ملک: پاکستانی حکومت ہمارے لئے آواز اٹھائے۔ میرا یہی مطالبہ ہے کہ وزیراعظم اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون سے رابطہ کریں کہ ساری حریت لیڈرشپ کو رہا کیا جائے۔ علی گیلانی سینئر رہنما ہیں، انہیں پانچ سال سے قید کر رکھا ہے، آسیہ اندرابی دمہ اور شوگر کی مریضہ ہیں، امریکہ سمیت سب ممالک سے اس وقت رابطے کی ضرورت ہے۔ کشمیری موومنٹ کیلئے میں جو کچھ کر سکتی ہوں وہ کر رہی ہوں اور میری کوششوں میں وزیراعظم پاکستان اور عوام کو بھی میرا بھرپور ساتھ دینا چاہیئے۔ پاکستانیوں کے دل میں کشمیریوں کی قربانیاں زندہ ہیں تو تمام پاکستانی اپنے ان بہن بھائیوں کے حق میں آواز اٹھائیں۔ لوگ سڑکوں پر نکلیں، ساری دنیا مل کر اس وقت کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کیلئے آواز اٹھائے کیونکہ کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے اور بھارت کسی صورت یہ حق نہیں چھین سکتا۔