”ججوں کی تقرری پروقار طریقہ سے ہوئی‘ اسے سرکاری ملازمت نہ بنائیں“: عدالت

27 اکتوبر 2016

اسلا م آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ نے اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری کی  پالیسی کے طریقہ کار کی تبدیلی سے متعلق درخواستیں خارج کر دیں ۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ججوں کی تقرری انتظامی اور پالیسی معاملہ ہے عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی درخواست گزار ججز تقرری کے جس رولز میں تبدیلی کا خواہاں ہے وہ اس کے پاس موجود نہیں ،عدالت سنی سنائی بات پر فیصلے نہیں کرتی بلکہ آئین و قانون اور ٹھوس شواہد کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔ جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیئے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری میں ایگزیکٹو، عدلیہ اور پاکستان بار کونسل کی نمائندگی ہوتی ہے، اس حوالے سے رولز ہم نے نہیں حکومت نے بنائے ہیں،اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری سے قبل آئی ایس آئی، آبی، انکم ٹیکس کی رپورٹس کا جائزہ لیا جاتا ہے، ججوں کی تقرری پر وقار طریقے سے ہوتی ہے ججوں کی تقرری کو سرکاری ملازمت نہ بنائیں۔ بروز بدھ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس سردارطارق مسعود پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اعلی عدلیہ کے ججز کی تقرری کی پالیسی کے خلاف لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر، ایڈووکیٹ اصغر علی شاہ ودیگر کی درخواستوں کی سماعت کی تو لائر ز فورم کے جونیئر وکیل نے عدالت میں اے کے ڈوگر کی بیماری کے حوالے سے التواءکی درخواست پیش کی۔ عدالت نے درخواست گزار اصغر علی شاہ سے پالسیی تبدیلی کے حوالے وہ رولز طلب کیئے جن میں وہ تبدیلی کے خواہاں تھے ، اصغر علی شاہ نے کہا کہ وہ ان کے پاس موجود نہیں عدالت فراہم کردے ،اعلی عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی شفافیت اور میرٹ پر کی جائے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کی پالیسی ہمارے پاس نہیں ہے کیسے کالعدم قرار دے دیںسپریم کورٹ معلومات فراہم کرنے کی ایجنسی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے رولز 2010 ، پی ایل ڈی 1979، آرٹیکل175.A ، 199، 184/3میں قرار دےا جاچکا ہے کہ عدالت پالیسی میٹرز میں مداخلت نہیں کرسکتی ،یہ آپکی استدعا میٹر آف پالیسی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے رولز کو ہی پالیسی سمجھا جائے، ججوں کی تقرری کیلئے میرٹ نہیں ہے، تمام ہائی کورٹس سے فہرستیں طلب کریں کہ کتنے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز تعینات ہوئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا ججوں کی تقرری کیلئے الیکشن کرائیں؟ ججز کی نامزدگی کی سفارش پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی جاتی ہیں جہاں سے وزارت قانون کے توسط سے صدر پاکستان کو پھر وہ سمری کی منظوری کے بعدہی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ درخواست گزار نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں پہلے اشتہار دےا جاتا ہے پھر سلیکشن ہوتی ہے مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کیڑے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں قانون کی بات کریں آپ کے پاس تو رولز تک موجود نہیں عدالت یہ بات نہیں کرتی کہ کےا ہونا چاہیے اور کےا ہوگا عدالت آئین و قانون پر چلتی ہے ، درخواست گزار نے کہا کہ اہل امیداروں کو سلیکٹ کےا جائے ، 25سال سروس کا تجربہ رکھنے والوں سے تعیناتی کے حوالے سے کوئی درخواستیں طلب نہیں کی گئیں ، جسٹس کھوسہ نے کہا ناموں کے لیے صوبوں اور وفاق کے اہل نام سلیکڈ کیئے جاتے ہیں سیکرٹ رپورٹس کا جائزہ لےا جاتا ہے، اگر ایک جج آپ کے حق میں نہ ہوتو کہا جاتا ہے کہ میرٹ پر تقررےاں نہیں ہوئیں اور اگر وہ حق میں ہوں تو تقرریوں پر کوئی اعتراض نہیں کےا جاتا، بارز کی ایسوسی ایشن باڈی ہوتی ہے جبکہ جوڈیشل سائڈ کی کوئی باڈی نہیں ہوتی ، بعدازاں عدالت نے تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے خارج کردیں۔
درخواستیں خارج