سیز فائر کے فیصلے کوتسلیم کرنا پاکستان کی فاش غلطی تھی

27 اکتوبر 2016

ارشاداحمدارشد
جب انگریز اور ہندﺅوں کی تمام ترسازشوں،کوششوں،عیاریوں اورمکاریوں کے باوجود ہندوستان کی تقسیم یقینی ہوگئی تواس کے بعدانگریز اورہندﺅوں کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ ریاستوں کاالحاق بھارت کے ساتھ کیا جائے۔نگریز اورہندو۔۔۔۔مسلمانوں کے دشمن اورپاکستان کے معاملے میں پہلے ہی بدنیت تھے لہذا انہوں نے پاکستان کو بے دست وپاکرنے اور آبی طورپرکمزور کرنے کے لئے ریاست جموں کشمیر پر حملے اورقبضے کافیصلہ کرلیا۔اس مقصد کی خاطر 27اکتوبر1947ءکورات کی تاریکی میں بھارت نے اپنی فوج ریاست میں داخل کردی۔واضح رہے کہ اس وقت بھارتی فوج کو لارڈ ماﺅنٹ بیٹن اورانگریز فوجی افسروں کی مددومعاونت اور مشاورت بھی حاصل تھی۔مزید ستم یہ تھا کہ اس وقت کا مہاراجہ ہری سنگھ بھی ہندواورمسلمانوں کادشمن تھا۔ہری سنگھ اس ڈوگراخاندان سے تعلق رکھتا تھاجوگذشتہ سوسال سے مسلمانوں کاخون چوستا چلاآ رہا تھا۔مہاراجہ چونکہ ہندوتھا عیاری ومکاری میں اپنی مثال آپ تھالہذا اس نے ایک طرف پاکستان کے ساتھ معاہدہ کاڈرامہ رچایا اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ مستقل الحاق کی سازشوں کے تانے بانے بننے شروع کردیئے۔مہاراجہ کی ان تمام سازشوں کا بھانڈہ بیچ چوراہے میں اس وقت پھوٹ گیا جب26ستمبر 1947ءکوپاکستان ٹائمزاورایسٹرن ٹائمز نے ایک خبرشائع کی اس خبرمیں ایک سازشی منصوبے کاانکشاف کرتے ہوئے بتایاگیاتھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کاایک قریبی رشتے داراورذاتی ایلچی ٹھاکر ہرنام سنگھ سری نگر سے براستہ لاہوردہلی جارہا تھا کہ ائرپورٹ پر اس کے اٹیچی سے کچھ کاغذات برآمدہوئے جن سے معلوم ہوا کہ حکومت ہنداور مہاراجہ کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پاچکا ہے۔اس معاہدہ کے مندرجات تو بہت زیادہ تھے تاہم مختصراََ ان کاتذکرہ یہاں کیا جارہا ہے۔
1پٹھان کوٹ کے قریب دریائے راوی پرایک مستقل پل تعمیر کرنے،جموں اورپٹھان کوٹ کے درمیان ریلوے لائن بچھانے کے لئے حکومت ہند ریاستی حکومت کوخطیررقم مہیا کرے گی۔جبکہ پل کی تعمیر اورریلوے لائن بچھانے کاکام انڈین آرمی کے انجنئیر کریں گے۔
2بھارتی حکومت مہاراجہ کی فوجوں کو مضبوط بنانے اور سرحدوں پر فوج متعین کرنے کے لئے سالانہ دوکروڑ روپے دے گی۔
3بھارتی فوج کے کچھ یونٹ گلگت میں اورائرفورس کے کچھ یونٹ جنگی اہمیت کی حامل جگہوں پر تعینات کئے جائیں گے مزید یہ کہ ان جگہوں میں بھارت جنگی نوعیت کاہوائی اڈہ تعمیر کرے گا۔
4بھارتی حکومت ایک بڑی رقم کشمیر کی حکومت کودے گی جس سے ریاست کی حفاظت جدید طریقوں سے کی جائے گی۔خصوصاََ وہ سرحدیں جوپاکستان سے متصل ہیں انہیں زیادہ محفوظ اورمضبوط بنایا جائے گا۔
5سری نگر لداخ ٹریٹی روڈ جو سنٹرل ایشیا تک جاتا ہے کا مشترکہ انتظام کیا جائے گاجیسا کہ پچھلے سوسال سے برطانوی ہنداورریاست کی حکومت کرتی چلی آرہی ہے۔
ریاست کشمیر کو کسٹم وغیرہ کی خصوصی مراعات جو برطانوی دور حکومت میں حاصل تھیں بدستور حاصل رہیں گی۔
یہ ہے مہاراجہ کشمیر اوربھارتی حکومت کے درمیان طے پانے والے خفیہ معاہدے کی مختصر تفصیل ۔واضح رہے کہ پہلی دوشقوں پر فوری عملدرآمدشروع ہوگیا تھا۔پٹھاکوٹ کے قریب دریائے راوی پرکشتیوں کاپل تعمیرکرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے تھے تاکہ جموں کو بھارت سے ملایا جاسکے ۔
آج یہ تصور ہی لرزادینے کے لئے کافی ہے کہ اگر اس وقت بھارت گلگت میں جنگی نوعیت کاحامل ہوائی اڈہ تعمیر کرنے ،برارکوٹ ،گڑھی حبیب اللہ،کوہالہ اور کہوٹہ تک سرحدیں پھیلانے میں کامیاب ہوجاتا توآج کاپاکستان دفاعی وجغرافیائی اعتبارسے کہاں کھڑا ہوتا۔۔۔۔۔؟
امرواقعہ یہ ہے کہ برہن ان چانکیائی چالوں کوکامیاب بنانے کے لئے بہت پہلے تیارہوچکا تھا۔تقسیم ہند کے مصوبے کااعلان ہوتے ہی سکھ اورہندوریاستوں کے راجوں مہاراجوں نے جموں کے دورے شروع کردیئے تھے۔چنانچہ سب سے پہلے کانگریس کے صدر جموں پہنچے۔اس کے بعدگاندھی نے دورہ کیا اور مہاراجہ سے ملاقات کی۔اس کے بعد لارڈ ماﺅنٹ بیٹن جموںپہنچے انہوں نے بھی مہاراجہ سے ملاقات کی۔ان سب ملاقاتوں کے نتائج فوری طور پرسامنے آئے چنانچہ ریاست پٹیالہ اورریاست فریدکوٹ سے سکھوں کے دستے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے جموں پہنچنا شروع ہوگئے۔سکھ بلوائیوں اور ان کے ساتھ آرایس ایس کے مسلح دستوں نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا۔یہ تو باہرسے جانے والے سکھوں اور ہندﺅوں کا معاملہ تھاجہاں تک مہاراجہ ہری سنگھ کا معاملہ تھا وہ خود مسلمانوں کے قتل عام میں پیش پیش تھا اور اس نے مسلمانوں کے قتل عام کی ابتدا خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی۔جب ریاست کے مہاراجہ کی مسلمان دشمنی کی یہ حالت تھی تو باہرسے جانے والے سکھ اور ہندو بلوائیوں کو بھلاکون روک سکتا تھا۔ مسلمانوں کا قتل عام حدسے بڑھنے لگا تو پاکستانی مسلمانوں کا بے چین ومضطرب ہونا فطری امر تھا۔لہذا قبائلی مسلمان اوروہ کشمیری جوبرٹش انڈین آرمی میں رہ چکے تھے۔۔۔۔سب اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ایک طرف پرانے روایتی اسلحہ سے مسلح کشمیری تھے تودوسری طرف جدید اور مہلک ہتھیاروں سے مسلح بھارتی فوجی تھے جنہیں برطانوی فوجی افسروں کی مدد ومعاونت بھی حاصل تھی۔اس کے باوجود قبائل کے نوجوانوں اور کشمیری لوگوں نے بھارتی فوج کے چھکے چھڑادیئے تھے اور3958مربع میل علاقہ بھارت کے قبضہ سے آزاد کروانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔جواہر لال نہرو کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ اس کے فوجی مجاہدین کا راستہ نہیں روک سکیں گے تب وہ سلامتی کونسل جاپہنچے اور جنگ بندی کی دھائی دی۔سلامتی کونسل سے رجوع بھارت کی مجبوری تھی اس لئے کہ بھارت کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسراراستہ نہ تھا۔نہرو جانتے تھے کہ اگرسیز فائر نہ ہواتو ریاست جموں کشمیر مکمل طورپران کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔بدقسمتی سے پاکستان نے اس سیز فائر کے فیصلے کوقبول کرلیا یہ فیصلہ پاکستا ن کی تاریخی غلطی تھی جس کا خمیازہ آج بھی اہل کشمیر بھگت رہے ہیں۔پاکستانی حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اس فاش غلطی کی تلافی کریں اور کشمیری مسلمانوں کو بھارت کے پنجہ استبدادسے نجات دلائیں۔