سی ڈی اے رہائشی علاقوں کا کمرشل استعمال کرنےوالوں پر جرمانہ کرے: سپریم کورٹ

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارتخانوں اور دیگر بااثر اداروں کی جانب سے قائم کردہ رکاوٹیں اور رہائشی علاقوں کے کمرشل استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں عدالت نے سی ڈی اے سے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ہے دوران سماعت عدالت نے قرار دےا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیئے تین سال کا وقت نہیں دےا جاسکتا سی ڈی اے رکاوٹ ڈالنے تعاون نہ کرنے والوں پر جرمانے عائد کرے ،احتجاج اوغلط اقدامات پر مصلحت اختےار کرنا کلچر بن چکا ہے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس امیر حانی مسلم اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو سی ڈی اے کے وکیل شاہد حامد نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے آگاہ کےا کہ مقدمے کے آغاز پر 1695عمارتوں کا کمرشل استعمال کیا جا رہا تھا،سی ڈی اے کی موثر کارروائی کے بعد اب رہائشی علاقوں میں 641 عمارتیں کمرشل استعمال میں ہیں جن میں 359سکول 90ہاسٹلز100گیسٹ ہاوس قائم ہیں سکولوں کو خالی کروانے کے لیے 3سال کا ٹائم فریم ورک تےار کےا گےا ہے مرحلہ وار کام کےا جائے گا،چیف جسٹس تین سال کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت قانون پر کاروائی کے لیے 3سال انتظارکرے گی جب تک قوائدو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی نہ ہوگی معاملات حل نہیں ہو سکیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غلط کام سے روکیں توسو دوسو بچوں کو لے کر احتجاج کرناہماراکلچر بن چکا ہے ،غیرقانونی اقدامات پر کاروئی کرنے پر بھی سول سوسائٹی والے احتجاج کرتے ہیں اور طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، مگر انتظامیہ کا یہ حال ہے کہ وہ بے بس نظر آتی ہے ہرمسئلے پر مصلحت اختیار کرنا ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے ، حد تو یہ ہوگئی ہے کہ اب لوگ وکلا اور ججز کو گھر کرائے پر دینے سے ڈرتے ہیں ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ایک بھی سرکاری دفتر رہائشی علاقے میں نہیں ہوناچاہیے، بعدازاں فاضل عدالت نے مذکورہ حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دسمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
سپریم کورٹ