امن کے قیام کیلئے ہمیں سپر پاور کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے‘ رضا ربانی

27 اکتوبر 2016
 امن کے قیام کیلئے ہمیں سپر پاور کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے‘ رضا ربانی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ امن ترقی پذیر ممالک کی بلعموم اور ایشیاءکی بلخصوص اہم ضرورت ہے ۔اس لئے سوچ بچار کے بعد عالمی امن منصوبہ تشکیل دینا ضروری ہے۔تہذیبوں کے تصادم کو تہذیبوں کے مابین گفت و شنید اور رابطہ کاری سے تبدیل  کرنا چاہیے۔سپر پاور ز کی معیشت کا فروغ اسلحے کی صنعت سے وابستہ ہے اس لئے امن کے قیام کے لئے ہمیں ان کی طرف نہیں دیکھنا چاہے ۔انٹر پارلیمانی یونین کے جنیوا میں منعقدہ 135 ویں اجلاس سے ”پارلیمان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اولین محافظ “کے موضوع پر اہم خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو موجودہ عالمی معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کو ابتدائی سطح پر روکنے کےلئے نظام وضح کر نا چاہیے۔چا ہئے ان خلاف ورزیوںکا تعلق ریاستی،یا غیر ریاستی قوتوں کی طرف سے ہو یا ان کے محرک دہشت گرد عناصر ہوں۔ انہوں نے اجلاس میں شرکت کرنے والے بین الاقوامی پارلیمانی نمائندوں پر زور دیا کہ مغربی طاقتوں کو تباہی کا پیش خیمہ بننے والی معیشت کے فروغ کی سوچ کو بدلنا ہوگا جو کہ کھربوں ڈالر کی اسلحے کی صنعت کو پروان چڑھانے کےلئے دنیا میں بد امنی اور انتشار کا باعث بنتی ہے ۔جس سے ان ممالک کی معیشت کو تو فروغ ملتا ہے تاہم باقی دنیا پسماندگی اور کسمپرسی کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے ۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف یکساں اور بلاتفریق کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے میاں رضاربانی نے کہا کہ دہشت گردی کا واقعہ اور تباہی کا درد تمام دنیا میں زبان و نسل اور علاقائی تخصیص کے بغیر یکساں طور پر محسوس کیا جانا چاہیے ۔چاہے دہشتگروں کا نشانہ برسلز ایئر پورٹ ، پیرس ، پشاور کا سکول یا پھر لاہور میں بچوں کا پارک ہو۔ حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دینا انتشار اور جارحیت کو فروغ دے گا اور اس میں کسی کی بھی فتح نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس ضمن میں کشمیر فلسطین اور شام کی مثالیں بھی دیں۔ میاں رضاربانی نے کہا کہ کشمیر ، فلسطین ، عراق ، شام اور دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اقوام متحدہ ، اس کے متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی پارلیمانی یونین اور دولت مشترکہ جیسے اہم فورمز کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا تصفیہ طلب مسئلہ ہے ۔اور کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کو تسلیم نہ کرنے اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے کشمیر کو ایک فلیش پوائنٹ اور یہ جنوبی ایشیاءمیں عدم استحکام کا بہت بڑا ذریعہ بنا دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں عوامی جدوجہد اور حق خود ارادیت کےلئے پر امن عوامی اجتماعات پر بھارتی فوج اور پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں مرد ،خواتین اور بچے شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
رضا ربانی