تحریک انصاف کا دھرنا‘ حکومت کا اپوزیشن سے رابطوں کا فیصلہ

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے تحریک انصاف کو 2 نومبر 2016ءکے احتجاجی دھرنا سے قبل ”سیاسی تنہائی“ کا کا شکار کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کے لئے وزراءکی ٹیم کو ”ٹاسک“ دے دیا ہے۔ وفاقی وزراءاسحاق ڈار‘ خواجہ سعد رفیق اور میر حاصل بزنجو کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزراءکی ٹیم پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما¶ں سے ملاقاتیں کر چکی ہے۔ وزراءکی ٹیم آئندہ دو تین روز میں ایم کیو ایم‘ قومی جمہوری پارٹی‘ جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے رہنما¶ں سے بھی ملاقاتیں کرے گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے تحریک انصاف کے خلاف ”دومکھی“ لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ سیاسی محاذ پر جہاں تحریک انصاف کا سیاسی انداز میں مقابلہ کر رہی ہے وہاں اس نے اسلام آباد کو ہر قیمت پر کھلا رکھنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ بدھ کی شام رینجرز‘ ملیشیا اور ریزرو دستوں کی بہت بڑی تعداد اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ ایک دو روز میں مزید کمک اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
ٹاسک

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق،میرحاصل بزنجوشامل نے اے این پی کے رہنماوں غلام احمد بلوراور افراسےاب سے ملاقات کی ہے ان سے اسلام آباد ھرنے پر تبادلہ خیال کےا ، ملاقات مےں طے پاےا کہ جمہوری نظام کو کمزور نہیں ہونے دےا جائے گا۔ یہ ملاقات اے این پی رہنما افراسیاب خٹک کی رہائش گاہ پرہوئی، دوران ملاقات اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔اس موقع پر غلام احمد بلور نے کہا کہ ہم سب جمہوریت کے ساتھ ہیں،جمہوری نظام کو کسی صورت کمزورہونے نہیں دیں گے۔ رات گئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیر پورٹ اےنڈشپنگ مےر حاصل بزنجو نے قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف سےد خورشید شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اس موقع پر سےنےٹ مےں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن اور قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں تحریک انصاف کے دو نومبر کو ہونے والے دھرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پانامہ پےپرز لیکس، پی ٹی آئی کا دو نومبر کے دھرنا، اپوزیشن کے ٹی او آرز سمیت اہم ملکی اور سیاسی امور تبادلہ خےال کےا گےا۔
بلور/ ملاقاتیں