بھارتی فائرنگ سے مزید 2 شہری شہید پنجاب رینجرز کا منہ توڑ جواب 5 بھارتی فوجی ہلاک

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد+ سیالکوٹ (سٹاف رپورٹر+ نامہ نگار+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر مسلسل جارحیت اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ روز ورکنگ باﺅنڈری پر چپراڑ سیکٹر میں بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے مزید دو شہری شہید جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔ پنجاب رینجرز نے بھارتی بلا اشتعال فائرنگ کا بھر پور جواب دیا ۔ ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دو دن میں شہادتوں کی تعداد 7 ہو گئی۔ ادھر کنٹرول لائن پر زخمی ہونے والا شہری بھی شہید ہوگیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز نے ورکنگ باﺅنڈری کے ہر پال اور چپراڑ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔ زخمی ہونے والوں میں غلام رسول کا تعلق کرلوپ اور مبارک علی کا تعلق سنگھیال سے ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی خلاف ورزیوں پر احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دوبارہ دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے شہادتوں اور لوگوں کے زخمی ہونے کے واقعات پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔بی بی سی کے مطابق پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے پر بلااشتعال فائرنگ کے الزامات عائد کئے ہیں جن میں بی ایس ایف کے ایک جوان سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیالکوٹ ورکنگ باﺅنڈری لائن پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ وگولہ باری جاری ہے ،لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر سے ملحقہ سیالکوٹ میں ہزاروں مہاجرین جموں وکشمیر رہائش پذیر ہیں اور آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن چوہدری اسحاق کا کہنا ہے کہ بھارتی فائرنگ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک سے توجہ ہٹانا ہے اور چھ نومبر کو شہداءکشمیر سے یکجہتی کا دن منایا جائے گا ،بھارتی سیکورٹی فورسز کی چپراڑ ، ہرپال ، باجڑی گڑھی ، چپراڑ،چاروا ، سجیت گڑھ سیکٹروں پر بھارتی فائرنگ وگولہ باری کی وجہ سے مزید دودوپاکستانی شہری اور درجنوں مویشی شدید زخمی ہوگئے ہیں، بھارتی فائرنگ وگولہ باری کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہااور پنجاب رینجرز بھارتی فائرنگ وگولہ باری کا منہ توڑ جواب دیتی رہی ہے، بھارتی فائرنگ وگولہ باری کی وجہ سے اسی سالہ غلام رسول اور 56سالہ ارشد شدید زخمی ہوئے ہیں ۔آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن چوہدری محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ ورکنگ باﺅنڈری لائن اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ وگولہ باری مقبوضہ کشمیر میں مظلوم ونہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانے کی بھارتی سازش ہے۔
بھارتی فائرنگ
سری نگر (ایجنسیاں) مقبوضہ کشمےر، اور دنےا بھر مےں مقےم کشمےری آج(جمعرات کو) غاصبانہ بھارتی تسلط کیخلاف ےوم سےاہ منائےں گے اس سلسلے مےں احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوں گے مقبوضہ کشمےر مےں بھارت کے خلاف ےوم سےاہ کے موقع پر مکمل ہڑتال ہو گی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوں گے۔ دوسری جانب بھارتی مظالم کیخلاف کئی علاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ عوامی احتجاج کے سلسلے مےں کشمےری خواتےن نے سوپور، بانڈی پورہ، بجبہاڑہ اور پلوامہ میں زبردست احتجاجی جلوس نکالے جبکہ فوج، فورسز اور پولیس نے آنچار سرینگر، شوپیاں، اننت ناگ اور کیونسہ بانڈی پورہ سمیت کئی علاقوں کو محاصرے میں لیکر کریک ڈاﺅن کیا جس کے دوران گھر گھر تلاشیاں بھی لی گئیں جبکہ لوگوں نے مزاحمت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ فورسز کی پیلٹ فائرنگ سے 15افراد زخمی ہوئے۔ سرحدی ضلع کپواڑہ میں درجنوں شہرےوں کو گرفتار کر لےا گےا ہے۔ فورسز، فوج اور سپیشل آپریشن گروپ نے کرالہ گنڈ اور ترچھ ہندوارہ کے بعد چیر کو ٹ لولاب کی بستی کو علی الصبح کو محاصرے مےں لیکر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی جس کے دوران متعدد نو جوانو ں کو گرفتار کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے لوگو ں کو ہراساں کیا ۔ بانڈی پورہ کے مضافاتی علاقے مےں بھارتی فوج نے 50 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور دو کمسن بھائیوں کو حراست میں لے لیا۔ سوپور میں حرےت کانفرنس قائدین کے احتجاجی پروگرام کے مطابق خواتین کا ایک بہت بڑا احتجاجی جلوس بر آمد ہوا جس میں انہوں نے اسلام وآزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ بانڈی پورہ کے صدر کوٹ علاقہ کے بونہ پورہ محلہ میں قائم سرکاری مڈل سکول کی عمارت کو نامعلوم افراد نے آگ کی نذر کر دیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کشمیری عوام گزشتہ 70برس سے تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے گیا تھا جس نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کیںجن پر بھارت نے عمل درآمد کا وعدہ کیا تھا۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں بھارتی وفدکے ساتھ بات چیت کی مزید تفصیلات کے مطابق علی گیلانی نے کہا بھارت نے گزشتہ109دنوں میں سو سے زائد کشمیریوں کو شہید، 15ہزار سے زائد کو زخمی جبکہ ہزاروں کو گرفتار کر کے تھانوں، جیلوں اور تفتیشی مراکز میں پہنچا دیا ہے جن میں بچوں اور معمر افراد کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ میر واعظ نے وفد کو بتایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کشمیر کو ایک مسئلے کے طور پر تسلیم کرے جسے اسکے تاریخی پس منظر میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شبیر احمد شاہ نے و فد کو بتایا کہ بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے لہٰذا اس صورتحال میں اسکے ساتھ بات چیت کیسے ممکن ہے۔ چیئرمین حریت کانفرنس(ع) میر واعظ عمر فاروق نے واضح کیا ہے کہ مزاحمتی خیمہ مذاکراتی عمل کے خلاف نہیں ہے تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ گفت و شنید کس بات پر کی جائے۔ سرینگر کے چشمہ شاہی سب جیل سے2ماہ کی قید کے بعد گزشتہ روز رہائی پانے کے بعد اپنی رہائش گاہ واقع نگین میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ بھارت کومشورہ دیا کہ وہ نہ صرف جموںوکشمیر بلکہ جنوبی ایشیائی خطے کے امن و سلامتی، سیاسی استحکام اور ایک تباہ کن جنگ سے بچانے کے ساتھ ساتھ تیز تر تعمیر و ترقی کیلئے مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر مزاحمتی جماعتوںکی جانب سے پیش کی گئیں تجاویز پرفوری طور عمل درآمد کرکے ماحول کو سازگار بنانے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس شدہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت کا موقعہ فراہم کرے یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعہ بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ جامع مذاکرات کے ذریعہ ایسا حل نکالے جو کشمیری عوام کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہو۔ صلاح الدین نے کہا ہے کہ 27اکتوبر برصغیر کی تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے کہا کشمیری قوم نے کبھی بھی اس جبری غلامی اور فوجی تسلط کو قبول نہیں کیا۔ شبیر احمد شاہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے دعوﺅں کو پرکھنے کے لئے یہاں اسی طرح کا طریقہ کار اختیار کرے جس کا مظاہرہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمےر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کشمیر، جماعت اسلامی، فریڈم پارٹی، مسلم دینی محاذ، پیروان ولایت اورمسلم پولٹیکل لیگ نے پاکستان کے شہر کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹرپرحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا حملہ اسلام دشمن عناصر ہی کرسکتے ہیں۔ کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ تشدد دونوں ممالک کے بے قصور لوگوں کا دشمن ہے اور اس نے خطہ میں تباہی مچا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تشدد کے خاتمہ اور خطہ میں امن و ترقی کے نئے دور کی شروعات کے لئے نئی دہلی اور اسلام آباد میں اعلی سطح پر مشترکہ سیاسی کوششیں کرنی ہوں گیں۔ سرحدوں پر امن کے قیام کی اپیل کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرحد پار شیلنگ سے خطہ میں انسانی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور لوگوں کواپنی حفاظت کے لئے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے متمنی لوگ اس تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر