تحریک انصاف نے دھرنے کی دعوت دی تو سوچیں گے: سراج الحق

27 اکتوبر 2016

لاہور (نامہ نگار+ این این آئی) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ اب تک کتنا قرض لیا اور کہاں کہاں خرچ کیا، قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنانے والے وزیر خزانہ چاہتے ہیں کہ انہیں تمغہ حسن کارکردگی دیا جائے، ڈرگ مافیا، شوگر مافیا اور بڑے بڑے سمگلروں نے سیاسی پارٹیوں میں پناہ لے رکھی ہے لیکن نام نہاد سیاسی جماعتیں اپنی بادشاہت قائم رکھنے کیلئے مجرموں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں، کوئٹہ میں ابھی پہلے سانحہ کا غم تازہ تھا کہ دوسرا سانحہ ہوگیا۔ پے درپے دہشت گردی کے واقعات سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکمران عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں دے سکتے۔ جماعت اسلامی پنجاب کا اجتماع ارکان اور 30اکتوبر کو کرپشن مٹائو پاکستان بچائو مارچ ملک و قوم کی آئندہ سمت متعین کرے گا، تحریک انصاف نے پارٹی سطح پر فیصلہ کر کے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے، دعوت آئی تو شرکت کا سوچا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وحدت روڈ گرائونڈ میں پنجاب کے اجتماع ارکان کی تیاریوں کے جائزہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی لٹیروں سے قوم کو نجات دلانے کیلئے آخری حد تک جائے گی ہم قوم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ان زہریلے سانپوں اور بچھوئوں کے چنگل سے نکلے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ برطانیہ اور فرانس کی طرح پاکستان میں بھی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کی مدت چار سال کردی جائے تاکہ نااہل حکمرانوں سے جلد چھٹکارا ملنے کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ پانامہ لیکس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ دریں اثناء سراج الحق کی زیرصدارت جیورسٹ کانفرنس ہوئی جس کے شرکاء نے مطالبہ کیا عدلیہ پانامہ لیکس پر مصلحتوں کا شکار نہ ہو اور تمام جج صاحبان نظریہ ضرورت کو دفن کر کے پوری جرات کے ساتھ فیصلے دیں۔ قوم ان کے ساتھ ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ احتساب کی راہ روکنے کے لیے حکمران آخری حد تک چلے گئے میں نہ مانوں کی رٹ انہیں احتساب سے نہیں بچا سکتی۔ ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر نے کہا کہ کرپشن کے خاتمہ کے لیے قوم کو عدلیہ پر اعتماد کرنا ہو گا اور مجھے امید ہے کہ عدلیہ قوم کو مایوس نہیں کرے گی۔ کرپشن کے کینسر کو روکا نہ گیا تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑے جائے گا۔ جسٹس ریٹائرڈ حافظ عبدالرحمن انصاری نے کہا نیب پر ریکوری سے بڑھ کر خرچ آ رہا ہے۔ سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف مقدمہ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن اور لیاقت بلوچ نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔