35 ویں آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس آج چناب نگر میں شروع ہوگی

27 اکتوبر 2016

چنیوٹ (نامہ نگار) آل پاکستان 35 ویں دو روزہ ’’سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر‘‘ آج سے مرکز ختم نبوت مسلم کالونی میں آج شروع ہوگی۔ پنڈال کو دلکش پینا فیلکس اور دیدہ زیب بینروں سے سجایا گیا ہے، قافلوں کی آمد جاری ہے۔ ختم نبوت کے رضا کاروں نے پنڈال کے ارد گرد حفاظتی حصار اور ملحقہ سٹرکوں پر چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں۔ آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے رضا کاروں سے ملاقات کی اور کانفرنس کے تمام تر انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا۔ مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ کانفرنس کی کل پانچ نشستیں ہوں گی۔ باقاعدہ آغازآج صبح 10 بجے نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمدکے افتتاحی بیان سے ہوگا۔ افتتاحی سیشن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا مختار احمد، مولانا عبدالنعیم رحمانی، مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا تجمل حسین، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولاناعبدالستار گورمانی، مولانا غلام حسین، مولانا غلام مصطفی، مولانا محمد طیب اور مولانا محمد ضیاء الدین آزاد سمیت دیگر خطاب کریں گے۔ دوسری نشست ظہر کی نماز کے بعد ہو گی۔ جس سے پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا قاری جمیل احمد بندھانی، مولانا اشرف علی خطاب کرینگے۔عصر کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوگی۔ مولانا اللہ وسایا شرکاء کے تحریری سوالات کے جوابات دیں گے۔ مغرب کی نماز کے بعد مولانا قاضی زاہد الحسینی اور میاں محمد اجمل قادری مجلس ذکر کرائیں گے جبکہ مولانا عبدالرؤف چشتی کا خطاب ہوگا۔ عشاء کی نماز کے بعد مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد صالح الحداد سجاول، مولانا ابو الخیر محمد زبیر، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، ابتسام الٰہی ظہیر، حافظ زبیر احمد ظہیر، مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالرؤف، مولانا قاضی مشتاق احمد، قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا سید عاشق حسین شاہ، مولانا سمیع الحق، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا حامد الحق، لیاقت بلوچ، فرید احمد پراچہ، فضل الرحمان درخواستی، مفتی محمد راشد مدنی، مولانا عزیز الرحمان ثانی خطاب کرینگے۔ شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور درس قرآن، بعد ازاں مولانا محمد اسحاق ساقی بہاولپور، مولانا محمد قاسم سیوطی، مولانا محمد خالد عابد، مولانا محمدعارف شامی، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا حمزہ لقمان، مولانا محمد خبیب، مولانا محمد اقبال، مولانا عبدالرزاق، مولانا محمد یونس، مفتی خالد میر، مولانا عبدالرشید غازی، مولانا محمد نعیم خوشاب، حافظ عبدالوہاب جالندھری، اور نماز جمعہ سے قبل مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا عزیز الرحمان جالندھری اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی خطاب گے۔ اور بعد نماز جمعہ آخری نشست ہوگی۔ جس میں فضل الرحمان، قاری محمد حنیف جالندھری خطاب کرینگے۔ مختلف نشستوں کی صدارت صاحبزادہ عزیز احمد، صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا سید جاوید حسین شاہ، مولانا قاری محمد یاسین، مولانا سعید یوسف پلندری، صوفی محمد دین گوجرہ، مولانامفتی شہاب الدین، مولانا محب اللہ، پیر رضوان نفیس، مولانا پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری، مولانا عبدالغفور قریشی و دیگر مشائخ کرینگے۔ نعتیہ کلام سید سلمان گیلانی، حافظ محمد شریف، مولانا محمد آصف رشیدی، فیصل بلال حسان، امین برادران و دیگر نامور شعراء پیش کریں گے۔