ڈی جی ماحولیات پنجاب کی تعیناتی کالعدم ہائیکورٹ نے عہدہ سے ہٹانے کا حکم دیدیا

27 اکتوبر 2016

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات پنجاب ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی کالعدم کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کی درخواست کو تین ہفتے التواء میں رکھنے کی استدعا مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے شیراز ذکاء ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کو محکمہ ماحولیات کے سروس رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعینات کیا گیا ہے۔ ڈی جی ماحولیات کے عہدے کیلئے محکمہ ماحولیات کا ڈائریکٹر ہونا، سی سی ایس یا پی ایم ایس پاس کر کے سرکاری افسر تعینات ہونا لازمی شرط ہے لیکن ڈاکٹر جاوید اقبال کسی شرط پر بھی پورا نہیں اترتے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل احمد حسن نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ ماحولیات کی جدید اصولوں پر تنظیم نو کی سمری تیار کر کے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، سمری جلد منظور کرا لیں گے لہذا اس درخواست کو تین ہفتے کیلئے ملتوی کر دی جائے، عدالتی استفسار کا جواب دیتے ہوئے محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر امپلی منٹیشن اینڈ مانیٹرنگ لیبارٹریز ڈاکٹر توقیر نے موقف اختیار کیا کہ 17 اکتوبر کو ان کی وزیر اعلی پنجاب سے براہ راست ملاقات ہوئی، اس دوران میں نے ان چیزوں کی نشاندہی کی جومحکمہ ماحولیات میں ٹھیک نہیں ہیں جس پر وزیر اعلی نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔عدالت نے ڈائریکٹر امپلی منٹیشن اینڈ مانیٹرنگ لیبارٹریز ڈاکٹر توقیر کو ڈائریکٹر جنرل کا عارضی چارج دینے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ ڈی جی ماحولیات ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی میرٹ سے ہٹ کر کی گئی ۔