بلوچستان میں متعدد اسامیاں خالی‘ کئی افسر کام کرنے کو تیار نہیں: سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ کو گزشتہ روز اس کے اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں گریڈ 18 سے 21 تک کی 103 نشستیں ہیں جن میں سے صرف 42 پر آفیسر کام کر رہے ہیں باقی عہدوں پر کوئی کام کرنے والا نہیں۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ دوسرے صوبوں میں بھی افسروں کی کمی کے باعث گریڈ 18 سے 21 تک کئی پوسٹیں خالی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سول سروس کے امتحانات میں کامیاب ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بلوچستان میں کئی افسر کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے وہاں افسران کی زیادہ پوسٹیں خالی ہیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان پولیس سروس اور صوبائی کیڈر کے افسران کو پروموشن کے لئے کم سے کم سات سال کی لازمی سروس کرنا ہوتی ہے بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں افسروں کو زیادہ تنخواہیں بھی ادا کی جاتی ہیں۔کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اس صورت حال کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ جس پر سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا انہیں جامع رپورٹ بھیجی جائے گی۔ کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں دوسرے صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے افسران کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 275 افسر ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ انہیں پمز سے ہٹایا گیا ہے لیکن انہیں اپیل کا موقع نہیں دیا گیا کمیٹی نے اس معاملے پر بھی متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ نے پمز ہسپتال میں ڈیپوٹیشن پر آکر مستقل ضم ہونے ڈاکٹروں کو واپس صوبوں کو بھجوانے کے معاملے کا سخت نوٹس لے لیا۔ سینیٹر کلثوم پروین نے اجلاس میں سوال کیا کہ 275 کی فہرست میں سے صرف 34 ڈاکٹرو ں اور نرسز کو کیوں واپس بھجوایا گیا۔ سنیٹر ہدایت اللہ نے اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا۔کلثوم پروین نے کہا کہ واپس بھجوائے جانے والوں میں اکثریت کا تعلق خیبر پی کے اور بلوچستان سے ہے۔ جس پر ڈاکٹر عائشہ عیسانی کے دستخط سے ڈاکٹروں کو واپس بجھوایا گیا وہ خود ڈیپوٹیشن پر آکر 2006 میں پمز میں مستقل ضم ہو چکی ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین سنیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ بادی النظر میں یہ سارا معاملہ مشکوک لگتا ہے۔