چوراب شور مچارہے ہیں کوئی مائی کا لال جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں کرسکتا فضل الرحمن

27 اکتوبر 2016

پشاور(بیورورپورٹ)جمعیت علماءاسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی مائی کا لال جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں کرسکتا ، چوراب شور مچارہے ہیں لیکن حکومت ان کو اسلام آباد جانے نہیں دیگی۔پی ٹی آئی نے سختیاں نہیں دیکھی ،وفاقی حکومت نے اگر ان کے خلاف زمین گرم کردی تو پھر ان کی عقل ٹھکانے آجائے گی ،اس سے پہلے تو شو تھا جس کو دیکھنے کیلئے لوگ جاتے تھے اب دیکھتے ہیں کہ کس طرح وہ اسلام آباد کو بند کرتے ہیں بدھ کے روز پشاور باغ ناران میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی مثال غبارے جیسی ہے جو دیکھنے میں تو بڑالگتا ہے لیکن دراصل میں سوئی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے تکالیف دیکھی نہیں اگر حکومت نے ان کے خلاف کاروائی شروع کردی تو پھر دھرنے کا نام بھی نہیں لیںگے ۔سپریم کورٹ کا پانامہ لیکس کی انکوائری کے حوالے سے فیصلہ آچکا ہے اب دھرنے کا کوئی جواز بھی پیدا نہیں ہوتا لیکن دھرنے کا اصل مقصد جمہوریت کو غیر مستحکم اور سپریم کورٹ پر اپنے من پسند فیصلے کیلئے دباو ڈالنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقیاتی کاموں کو سبوتاژ کرنے کیلئے دھرنے کے نام پر ڈرامہ رچایا جارہا ہے جبکہ ان کے اپنے صوبے خیبر پختونخوا جہاں پر ان کی حکومت ہے میں تاریخ کی بدترین کرپشن ہورہی ہے انہیں حکومت چلانے کا طریقہ بھی نہیں آتا پولیس کو کنٹرول کرنے اور ان کے فنڈ کا اختیار وزیر اعلیٰ کے پاس نہیں رہا تو پھر انہیں کس طرح کنٹرول کیا جاسکے گا ۔خیبر پختونخواحکومت نے اپنی کرپشن کیلئے این جی اوز کا سہارا لیا جس کے زریعے یہودیوں کا پیسہ بھیجا جاتا جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا اور نیب بھی نہیں پکڑ سکتا لیکن اس کے خلاف جمعیت کھڑی ہوگئی اور ان کی کرپشن کا راستہ روک دیا اور اب ورلڈ بینک سے 700 ملین ڈالر قرض لے رہا ہے۔ صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نااہل حکومت ہے ،کئی اداروں کے چیئرمینوں نے ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کردیئے ہے جبکہ احتساب کمیشن میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وزراءکے نام سامنے آگئے تو قانون سازی کے زریعے ان کے اختیارات کو محدود کردیا گیا ، خیبر بینک سے پیسے نکالے گئے ہیں جس کے خلاف منیجنگ ڈائریکٹر نے اشتہارات دئیے لیکن جوڈیشل انکوائری کے بجائے اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے قومی وطن پارٹی کے سکندر شیرپاو¾ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ، یہ وہی پارٹی ہے جن پر کرپشن کے الزامات لگا کر حکومت سے نکالا گیا لیکن پھر انہیں کیوں حکومت میں شامل کردیا اس کی وضاحت کریں ،تحریک انصاف کی حکومت پانامہ لیکس کی انکوائری جوڈیشل کمیشن کے زریعے کرانے کا مطالبہ کرتی ہے لیکن خیبر لیکس کی انکوائری جوڈیشل کمیشن کے زریعے کروانے کیلئے تیار نہیں ہے۔انھوں نے کہاکہ عمران خان بلا وجہ شور مچانے اور دھرنے دینے کی بجائے خیبر پختونخوا کی ترقی پر توجہ دیتے تو آج صوبہ بہتر حالت میں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں لیکن جمہوریت کو تباہ نہیں کرنے دینگے۔اس وقت سرحدوں پر بھی صورتحال کشیدہ ہیں ایسے میں نجانے عمران خان کسے فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیںانھوں نے کہا کہ عمران خان کا دھرنا شو بری طرح فلاپ ہو گا۔
فضل الرحمن