15 سال میں 15 سو بیورو کریٹس نے پلی بارگین قانون سے فائدہ اٹھایا!

27 اکتوبر 2016

ان بیورو کریٹس میں چھوٹے موٹے ہی نہیں اعلیٰ ترین حساس عہدوں پر تعینات بڑے افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے اس قانون کی برکات سے رشوت اور کرپشن کے کیسوں سے لے دیکر اپنی جان چھڑائی۔ یوں پلی بارگین کا مطلب اب یہ نکلتا ہے کہ جی بھر کر اربوں کی کرپشن کرو لوٹ مار کرو پھر جب قانون کی گرفت میں آئو تو چند کروڑ ادا کر کے باعزت بری ہو جائو، یوں ’’ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا‘‘ آئے۔ ایک وقت تھا جب سرکاری افسران رشوت لیتے ہوئے ڈرتے تھے اب دلیر ہو گئے ہیں منہ مانگی قیمت طلب کی جاتی ہے شرم ذرا نہیں آتی، دل کھول کر سرکاری فنڈز سے کمیشن کے نام پر اپنا حصہ وصول کیا جاتا ہے اوپر سے نیچے تک حصہ تقسیم ہوتا ہے کسی کے ماتھے پر بل نہیں آتا سب شیر مادر سمجھ کر کرپشن کا حرام مال بٹورنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ انہی لوگوں کی سہولت کیلئے حکومت نے پلی بارگین کا سنہرا قانون بنایا تاکہ اگر کبھی پکڑے جائیں یا بے نقاب ہوں تو انکو باعزت طریقے سے بچایا جا سکے اور ان کی عزت و حرمت پر کوئی حرف نہ آئے۔
یہ تو کھلم کھلا سرکاری ملازمین کو کرپشن کیلئے ’’ سہولت کاری ‘‘کے مترادف ہے۔ کیا دنیا میں کہیں اور بھی ایسی ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ کی مثال ملتی ہے جہاں لٹیروں کو قانونی طریقے سے جان بچانے کی راہ دکھائی جاتی ہے اور یوں جان و مال دونوں محفوظ رہتے ہیں۔
٭…٭…٭
نیلی شربتی آنکھوں والی افغان خاتون شربت گلہ جعلی شناختی کارڈ بنوانے پر گرفتار!
نیلی شربتی آنکھوں والی شربت گلہ نامی اس افغان خاتون کو اس وقت شہرت ملی تھی جب یہ کم عمر لڑکی تھی اور ٹائم میگزین نے افغان وار کے دوران جنگ سے متاثرہ لوگوں کی کہانی لکھتے ہوئے اس نیلی آنکھوں والی لڑکی کی تصویر سرورق پر شائع کی تھی۔ 40 برس بعد یہ شادی شدہ خاتون ہے تو پھر ایک مرتبہ اسے ڈھونڈ نکالا گیا اور اسکے بارے میں مضامین لکھے۔ یہ تو تھی محترمہ کی شہرت کی داستان جس نے ایک بڑے انسانی المیہ یعنی افغان وار سے متاثرہ لوگوں کے مسائل اور مشکلات سے دنیا کو آگاہ کیا۔ اب ہمارے اداروں کے کارنامے بھی دیکھیں جن کو اپنی آنکھوں میں بڑا شہتیر نظر نہیں آتا انہوں نے ایک بار پھر اس خاتون کو ڈھونڈ نکالا، پتہ لگایا کہ افغان حسینہ اور اسکی دو بیٹیوں کے پاس جعلی پاکستانی شناختی کارڈز ہیں اور اس کو خیبر پی کے سے گرفتار کر لیا۔ اب بقول غالب ’’بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘ اب اس بیچاری کا کیا قصور تعلیم سے نابلد اس خاتون کے شوہر نامدار یا والد محترم نے یہ کارڈ بنوا کر دیا ہو گا۔ صرف شربت گلہ ہی کیا ایسی لاکھوں شربت گلہ اور شربت گل ہمارے آس پاس موجود ہیں جنہوں نے افغان مہاجر ہونے کے باوجود پاکستانی شناختی کارڈ ہی نہیں پاسپورٹ بھی بنوا رکھے ہیں۔ اب ان نادرا اہلکاروںکو معطل کرنے سے کام نہیں بنے گا جنہوں نے انکے فارم پُر کئے، تصدیق کی اور بنوائے ذرا انکے نام نامی اسم گرامی بھی بے نقاب کریں تو پھر تماشہ ہو، رونق لگے صرف شربت گلہ کو پکڑنے سے کیا ہو گا اسکی تو صرف ملک بدری ہو سکتی ہے مگر جو ملک میں بیٹھ کر جعلی شناختی کارڈ بنوا رہے ہیں بنا رہے ہیں ان کا علاج کون کرے گا؟
٭…٭…٭
رواں مالی سال میں لاہور کو ملنے والی رقم سے دو ارب روپے کاٹ لئے گئے!
مالی بدحالی کے باعث اب حکومت پنجاب نے لاہور شہر کیلئے مختص رقم سے بھی 2 ارب روپے کم کر کے شہریوں کی آزمائش میں اضافہ کر دیا ہے۔ لاہور میں جاری ترقیاتی کاموں کے باعث اس شہرِ نگاراں کے خدو خال بگڑے بگڑے سے لگ رہے ہیں۔ میٹرو کے بعد اورنج ٹرین کے منصوبے نے پورے شہر پر گرد و غبار کی چادر تان لی ہے۔ شہر میں ایک سرے سے دوسرے تک سڑکوں کی کھدائی کے بعد یہ وسیع اور نئی نکور سڑکیں اب کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ دور و نزدیک گڑھے، مٹی کی پہاڑیاں، راستہ بند ہونے کے بورڈ، سڑک کے کنارے کنارے سُست رفتار گاڑیوں کی لمبی لائنیں زندہ دلان لاہور کو چڑچڑا بنانے کیلئے کافی ہیں۔ اب یہ 2 ارب روپے کی کٹوتی کی خبر سے کہیں یہ شہری مزید بدل نہ ہو جائیں۔ بلدیاتی الیکشن ہوئے سال ہونے کو آ گیا مگر بلدیاتی نمائندوں یعنی کونسلروں کو کسی تک رسائی نہیں، ہاتھ میں فنڈ نہیں۔ تو یہ سڑکوں گلیوں کی ٹوٹ پھوٹ سیوریج کا عذاب، گیس و پانی کی بندش جیسے مسائل کون حل کرے۔ ایم پی اے اور ایم این اے اپنی دادا گیری بحال رکھنے کی خاطر کبھی نہیں چاہیں گے کہ کونسلروں کا دور دورہ ہو کیونکہ پھر یہ باغ و بہار انہی کے حوالے ہو گا۔ یہ تو بعد کے مسائل ہیں فی الحال یہ دور اب رُکنے سے جن ترقیاتی و تعمیراتی کاموں پر اثر پڑے گا اس کا خمیازہ تو لاہوریوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
٭…٭…٭
پشاور میں ڈی آئی جی کا مذاق اُڑانے والا ایس ایچ او گرفتار!
حادثہ کہیں یا سانحہ کہ سول کپڑوں میں ملبوس پشاور سنٹرل آفس میں تعینات ڈی آئی جی جو واک پر تھے سڑک پر لگے ناکے پر روک لیا گیا، انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو ناکے پر موجود علاقہ ایس ایچ نے ڈی آئی جی کی شان میں جو الفاظ ادا کئے ان کا آسان مطلب لے دیکر یہ نکلتا ہے کہ وہ تو ہے ہی ’’جیب کترا‘‘۔ آفرین ہے اس ذات شریف پر یعنی ڈی آئی جی پر جنہوں نے ایسے القابات اور دیگر ذومعنی جملوں اور تضحیک کو برداشت کیا اور موقع پر کوئی ہنگامہ نہیں کیا ورنہ ان کی ایک کال پر وہاں جو عذر مچتا وہ دیکھنے والا ہوتا۔ ڈی آئی جی صاحب نے نہایت اطمینان سے بعد ازاں دیگر افسران سے بات کی تو پھر ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘ کا منظر سامنے آیا ایس ایچ او صاحب کو لائن حاضر کر کے معطل کر دیا اور دیگر کمزور کرداروں یعنی ناکہ پر موجود پولیس والوں کو کوارٹر گارڈ میں بند کر کے شریف پولیس آفیسر سے بدتمیزی کا مزہ چکھایا گیا ہے۔ یہ تو پولیس کا اپنے پیٹی بند بھائی کے ساتھ حُسن سلوک کا ادنیٰ نمونہ ہے جو کچھ پولیس والے عام شہریوں کیساتھ کرتے ہیں اس کا ذرا تصور ہی کریں تو آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگتے ہیں۔ اس سے چلیں یہ تو اندازہ ہو گیا کہ پولیس والا لاہور کا ہو یا پشاور کا، کراچی کا ہو یا کوئٹہ کا‘سب کی سرشت ایک جیسی ہی ہوتی ہے وہ کہیں بھی بدل نہیں سکتی۔ اسی لئے تو بزرگ لوگ ہسپتالوں اور تھانوں سے پناہ مانگنے کی دعائیں کرتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭