مودی نے برہمن کا ایک اور پردہ چاک کر دیا

27 اکتوبر 2016
مودی نے برہمن کا ایک اور پردہ چاک کر دیا

کہتے ہیں کہ قاتل خواہ کتنا ہی چھپنے یا چالاک بننے کی کوشش کر لے وہ سزا سے کبھی بچ نہیں سکتا اور کچھ بھی نہ ہو تو مقتول کا خون تو قاتل کے سر چڑھ کر بولتا ہے اور اس کا راز فاش کر دیتا ہے۔ احمد آباد گجرات کے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کروانے والا اور بین الاقوامی طور پر مانا ہوا ہندو دہشت گرد نریندر مودی بھی ایسی ہی لعنت میں گرفتار ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ گجرات بھارت کا وزیراعلیٰ تھا مگر امریکہ نے اسے ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا تھا مگر امریکی ’’عزت افزائی‘‘ کے باوجود اونچی ذات کے ہندوؤں کی جماعت بی جے پی نے اسے بھاری اکثریت سے جتا کر بھارت کا وزیراعظم بنوا دیا تو وہی امریکہ اس کی خوشامد پر لگ گیا ہے کیونکہ انکل سام کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے اور نریندر مودی اور نتن یاہو کی دوستی بھی ’’امریکی بزرگوں‘‘ پر کھل گئی ہے اس لئے انکل سام بھی مودی کے نخرے اٹھانے پر مجبور ہے اور پرانے امریکی دوست پاکستان کے خلاف اسے تھپکی اور انگیخت بھی دے رہا ہے اور شاید انکل سام بھی سوویت یونین کے حشر کے جلد سے جلد قریب آنا چاہتا ہے۔
بہرحال مودی مہاراج نے مسلمانوں کے خلاف برہمن کے پرانے پروگرام کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کیونکہ بھارت کے بزرگ لیڈر تو اس پروگرام کو خفیہ طور پر آگے بڑھاتے چلے آ رہے تھے۔ ہندو کانگریس کے منافقین اسی خفیہ ڈگر پر چلتے ہوئے مسلمانوں کے تعاون سے انگریز کو بھگانا چاہتے تھے بعد میں مسلمانوں بلکہ تمام غیر ہندو لوگوں سے وہی سلوک کرنا چاہتے تھے جو کچھ آج بھارت کے طول و عرض میں اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کروا رہا ہے اور یوں برہمن کے پرانے پروگرام کا بھانڈا پھوٹ رہا ہے اور گاندھی کا یہ ’’ارشاد‘‘ بھی واضح ہو رہا ہے ’’انگریز کے جانے کے بعد ان مسلوں سے نمٹ لیں گے۔‘‘ سو اب مودی نمٹ رہا ہے۔
لیکن مودی جی نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے برہمن کے پرانے مگر خفیہ پروگرام کا ایک اور صفحہ بھی ننگا کر دیا ہے۔ برہمن یہودی تعلقات کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے حالانکہ جواہر لال نہرو جیسے عظیم کانگرسی منافق ایک طرف تو جمال عبدالناصر سابق مصری صدر پر سوار ہو کر قوم پرست عربوں کے خیرخواہ بنتے تھے تو دوسری طرف اپنی بغل میں برہمن یہودی تعاون کی دستاویز رکھتے تھے اور ممبئی میں یہودی قونصلیٹ قائم کروا رکھا تھا مگر پردہ میں، جسے مودی نے آج چیر پھاڑ دیا ہے۔ ہندو اور یہودی میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ جن میں سرفہرست اسلام دشمنی ہے‘ صدیوں سے یہودی اسلام فوبیا کی بیماری میں مبتلا ہے۔ یہی حال ہندو کا ہے۔ دونوں اسلام اور مسلمانوں کو نابود دیکھنا چاہتے ہیں حالانکہ مسلمان ان دونوں کی بھلائی چاہتے ہیں۔ تاریخ اس پر گواہ ہے‘ اسی طرح گائے کی پوجا اور احترام‘ سود خوری اور نسل پرستی بھی ان دونوں کے مشترکہ اوصاف ہیں چنانچہ یہودی خواہ اسرائیل میں ہوں‘ امریکہ اور یورپ کو مٹھی میں لینے والے ہوں یا اور کہیں بھی ہوں وہ برہمن کے دوست‘ خیرخواہ اور ساتھی ہوتے ہیں۔
دو چار دن کی بات ہے‘ نریندر مودی اپنے سورماؤں کی بدنام زمانہ سرجیکل سٹرائیک کو دنیا سے منوانے کا جتن کر رہا تھا تو اس نے بطور دلیل اور ثبوت یہ کہا کہ بھارتی فوج کے یہ سورما تو اسرائیل کے فوجیوں کے پالے ہوئے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں جو دشمن کے خلاف اس قسم کی سٹرائیک کے ماہر ہیں اور عملی تجربہ رکھتے ہیں‘ یہودیوں نے ایسی ہی سٹرائیک سے عراق کا ایٹمی مرکز تباہ کیا تھا‘ 1967ء میں ایسی ہی سٹرائیک سے مصر کے تمام ہوائی جہاز اور میزائل اڈوں پر ہی تباہ کر دیئے بلکہ نہر سویز پر قبضہ کر لیا تھا۔ تمام دنیا اگر یہودیوں کے یہ سٹرائیک مانتی ہے تو کشمیر میں میرے ہندو سورماؤں کے سرجیکل سٹرائیک کو بھی ماننا پڑے گا۔آخر ان ہندو سورماؤں نے بھی تو انہی یہودیوں سے سیکھا اور یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ڈھاکہ جا کر مودی جی حسینہ واجد کے کان بھی کھول چکے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ دراصل بھارتی دیوی اندرا گاندھی کی قیادت میں ہمارا ہی کارنامہ ہے مگر آپ کو یہ تو یاد ہونا چاہئے کہ سقوط ڈھاکہ کے حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسی وقت ملک چین کے وزیراعظم جناب چو این لائی نے بھی یہ فرمایا تھا کہ بھارتی لیڈر اس پر خوش نہ ہوں کیونکہ سقوط ڈھاکہ انتہا نہیں بلکہ برصغیر میں ایسے کئی اور حادثوں کی صرف ابتدا ہے۔ شاید مودی مہاراج اپنے کئی ایک صوبوں کے سقوط کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔ آپ کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کل ہی تو بھارت کی سشما سوراج کشمیر کے متعلق سلامتی کونسل کے تمام فیصلے اور قراردادیں مسترد کر کے اقوام متحدہ کے منہ پر مار چکی ہیں اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر یہ بھی بتا چکی ہیں کہ اب طاقتور ملک بھارت کی طرح کسی کمزور ملک پر غاصبانہ قبضہ کر کے اپنا اٹوٹ انگ بنا سکتے ہیں اور بھارت ان کی تائید کرے گا بشرطیکہ بھارت اگر سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنا دیا جائے تو۔ اب یہ مرحلہ ایسا ہے کہ انسانیت دشمن بھارتی برہمن دنیا کے سامنے ننگا ہو چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں سپر طاقت بننے اور یہودیوں کی طرح اونچی ذات کا ہندو بھی دنیا کو نسل پرستی کی لعنت میں گرفتار کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کو تو وہ یہ فریب دیتا ہے کہ پاکستان کے بانی مسٹر جناح نے مذہبی بنیادوں پر برعظیم کے ٹکڑے کر دیئے ہیں حالانکہ بات الٹ ہے، دراصل اونچی ذات کا نسل پرست اور طبقاتی تقسیم کی لعنت میں معاشرہ کو جکڑنے والا برہمن ہندو مت کی مذہبی بنیاد پر جنوبی ایشیا کو متحد رکھنا چاہتا تھا اور اب بھی یہی چاہتا ہے‘ برہمن کا دعویٰ ہے کہ مسلمان ہندو مت سے الگ ہونے والا ایک ٹکڑا ہے جسے آخرکار واپس ہو کر ہندو بننا ہے اور وہ بھی اونچی ذات کے ہندو کا غلام اور اچھوت بن کر‘ بصورت دیگر جنوبی ایشیا سے بھاگنا ہے یا قتل ہونا ہے مگر قائداعظم نے اس ہندو نظریہ کو مسترد کر کے کہا تھا کہ اسلام تو ایک برتر انسان دوست نظام زندگی ہے۔ وہ ہندو مت کے گورکھ دھندے کا حصہ کیسے بن سکتا ہے؟ ہندو ملیچھ یا ناپاک مسلمان سے جنوبی ایشیا کو پاک کرنا چاہتا تھا جبکہ مسلمان اسے پاکستان بنانا چاہتے ہیں‘ یہی تو اصل جھگڑے کی بنیاد ہے۔