چودھری نثار آگے بڑھیں!

27 اکتوبر 2016
چودھری نثار آگے بڑھیں!

ملکی سیاست پر بے اعتدالی کے سائے کیا رنگ لائیں گے، تیسری قوت کے آنے کے خدشات کے باوجود ضد اور انا کا کھیل جاری ہے۔ ملک و قوم کے مفاد اور بہتری کی جگہ باہمی نفرت، عداوت اور مخالفت سیاست میں ترجیح اول بن گئی ہے۔ یہ بے حسی ہے یا شقاوت قلبی کہ ضرب عضب جس کی بدولت دہشت گردی کے عذاب علیحدگی پسندی کے رجحانات اور بیرونی مداخلت سے ایسی نجات ملی جسے باقاعدہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ضرب عضب کا مذاق اڑایا اور طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ’’دعویٰ تو یہ کیا جاتا ہے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی پھر تیسرے ماہ کوئٹہ میں دوسرا بڑا حملہ کیوں ہو گیا‘‘۔ ٹی وی چینلوں پر خود ساختہ ’’بقراط‘‘ اور ’’ارسطو‘‘ مسلسل ایسی لن ترانیوں میں مصروف ہیں جو 6 ہزار سے زائد فوجی جوانوں، پیرا ملٹری فورس اور پولیس کے اہلکاروں کی شہادتوں سے سنگین مذاق ہے۔
عسکری قیادت کی جانب سے کبھی یہ نہیں کیا گیا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے کمر توڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جس تواتر اور تسلسل سے وہ دن رات دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اسے روک دیا گیا ہے مگر یہ جنگ ابھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی ہے اور حالت جنگ میں کبھی دشمن کا دائو بھی چل جاتا ہے کوئٹہ میں وکلاء اس کے بعد پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئیے۔ اس سنٹر کی حفاظت ضرب عضب کے دائرہ عمل میں نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کا یہ بیان قابل غور ہے کہ ’’اس حملے کے سلسلے میں تین چار دن پہلے سے انٹیلی جنس اطلاعات تھیں جس پر صوبے میں ہائی الرٹ کر دیا گیا اور اسی وجہ سے کوئٹہ شہر میں دہشت گردی کی واردات نہیں ہو سکی ۔شہر سے تیرہ کلو میٹر دور ٹریننگ سنٹر کو نشانہ بنایا گیا ’’کیا یہ بیان وزیر اعلیٰ کی غفلت کا اعتراف نامہ نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں گزشتہ ایک ماہ کے اخبارات پر نظر ڈال لی جائے ملک میں سیاسی بے اعتدالی کا دور دورہ نظر آئے گا اور یہ افسوسناک حقیقت بے نقاب ہو کر سامنے آئے گی کہ وزیر اعظم نواز شریف، اپوزیشن لیڈر، خورشید شاہ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، امیر جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن، صدر عوامی مسلم لیگ شیخ رشید، صدر مسلم لیگ (ق) چودھری پرویز الہٰی سمیت کم و بیش تمام سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات انتہائی اشتعال انگیز ہیجان خیز اور سیاسی و اخلاقی معیار پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ ایک دوسرے کیلئے چور لٹیرے ڈگڈگی بجانے والا، بدنیت، کم ظرف، کرپشن کا بادشاہ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ ان سے ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور مخالفت کا اظہار تو ہوتا ہے مگر ان میں ملک اور قوم کی بہتری کی خواہش اور ارادے کو عدسی آئینہ سے دیکھنے سے بھی سراغ نہیں ملتا جبکہ ان بیانات میں چھپے ایک خوف کا بھی اظہار محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یعنی خود اپنی سرگرمیوں سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں تیسری قوت کے آنے کے امکانات کا خوف و خدشہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ تب ہی تو اس کے آنے کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ان کے مجموعی رویوں سے عوامی سطح پر اگر یہ تاثر قائم ہو کر کسی کو بھی ملک جن اندرونی و بیرونی خطرات کا شکار ہے کا ذرا بھر احساس نہیں ہے۔
ان میں کون ہے جو اس تلخ حقیقت سے بے خبر ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ مسلسل عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے اور اس عذاب سے ان کا نجات دہندہ پاکستان ہی بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ خود سیاسی عدم استحکام، افراتفری اور باہمی تصادم کی صورتحال کا شکار ہو کر اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہو۔ اس صورتحال میں عمران خان کی اسلام آباد چڑھائی کا پروگرام سیاسی عدم استحکام، افراتفری اور باہمی تصادم میں مزید اضافہ کا باعث ہو گا۔ اس صورتحال میں وزیراعظم نواز شریف کی حب الوطنی کا تقاضا ہے وہ استعفیٰ دیکر عارضی طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں یقیناً یہ بات بہت سوں کو ہضم نہیں ہوگی۔ چودھری نثار کو عارضی وزیراعظم اور مریم نواز کو پارٹی کا سربراہ بنا دیں ان کا نام پانامہ لیکس میں نہیں ہے پھر یہ محض ایک اخبار کی خبر ہے وہ یقیناً سرخرو ہوں گے اور دوبارہ اپنا منصب سنبھال سکتے ہیں۔ یاد رہے جنگ عسکری محاذ پر ہو یا سیاسی میدان میں بعض لمحات میں پسپائی بھی پیش قدمی کی حکمت عملی ہوتی ہے۔ عمران خان کے پاس پانامہ لیکس اور کرپشن کے نعروں کے سوا کوئی سیاسی، معاشی پروگرام نہیں ہے، جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑے اور مکان کا پروگرام دیا تھا۔ وزیراعظم کے استعفیٰ سے عمران کی سیاست کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی دوسرے وزیراعظم کو استعفیٰ پر مجبور کر دیا جیسے بیانات یا بڑھکیں وقتی آسودگی کا ذریعہ ضرور ہونگی مگر سپریم کورٹ اور الیکشن کمشن میں مقدمات کی سماعت میڈیا کی ساری توجہ کھینچ لے گی۔
عمران خان کیلئے تو میاں شہباز شریف بھی بطور وزیراعظم قبول ہیں چودھری نثار سے تو دیرینہ یارانہ ہے اس صورت میں عمران کو بھی اس صورتحال سے نکلنے کا محفوظ اور باعزت راستہ مل جائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف یاد رکھیں مشتعل بلی کو نکلنے کا راستہ نہ دیا جائے تو وہ بھیڑئیے سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں چودھری نثار آگے بڑھیں وزیراعظم کو استعفیٰ اور عمران خان کو آئین اور قانونی راستے اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔ ملک ہے تو سب کچھ ہے۔ عمران خان بھی یاد رکھیں کہ ان کے اسلام آباد بند کرنے کے جنون سے سیاسی عدم استحکام انتشار اور افراتفری جنم لے گی۔ جو موجودہ حالات میں ملک کیلئے انتہائی خطرناک ہے ان کے اقدامات بھی ان کی حب الوطنی کا کڑا امتحان ہیں۔