پانامہ لیکس کا بہانہ بنا کر کسی فرد یا خاندان کا احتساب درست نہیں: اسفند یار

27 اکتوبر 2016

پشاور + کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ+ بیورو رپورٹ) سربراہ اے این پی اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ غیر آئینی طریقے سے کسی تبدیلی کی مخالفت کریں گے۔ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہیے۔ پانامہ لیکس کا بہانہ بنا کر کسی ایک فرد یا خاندان کا احتساب درست نہیں۔ علاوہ ازیں ایم پی اے ہاسٹل کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے، 8 اگست کے واقعہ کی تحقیقات شفاف طریقے سے ہوتیں تو پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ نہ ہوتا، دہشت گر دی پر قابو پانے کے لئے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے ہمیں تمام اختلافات کا بالائے تاک رکھتے ہوئے متحد ہونا ہو گا، منظم سازش کے تحت پڑ ھے لکھے طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ریاست کو داخلہ اور خارجہ پالیسی از سرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے، پانامہ لیکس پر احتجاج کرنے والوں کے کنٹینر پر وہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں کسی بھی غیر آئینی تبدیلی اور اقدام کی حما یت نہیں کریں گے، انہوں نے یہ بات گزشتہ روز ایم پی اے ہوسٹل کوئٹہ میں پر ہجوم پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اسفند یار نے کہا کہ پولیس ٹریننگ سینٹر حملے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے پشتون روایات کے تحت اپنا جلسہ اور تمام تر سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور واقع پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایک آواز آتی ہے اور تانے بانے ہمسایہ ممالک کے ساتھ جوڑے جا تے ہیں ہمیں مذمت اور تانے بانے جوڑنے سے آگے بڑھ کر تمام واقعات کے شفاف تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے اور جو بھی واقعات میں ملوث پایا جائے یا کسی بھی غفلت سامنے آئے اسے سزا دی جائے اگر 8اگست کے واقع کے ملزمان اور ٖذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جاتی تو دہشت گرد پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کرنے سے پہلے دو بار سوچتے۔ حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں لیکن اس کے سا تھ ساتھ تمام سیاسی قوتوں کو ایک مٹھی بننا ہوگا۔ سی پیک سے متعلق سوال پر اسفند یار ولی خان نے کہا کہ ہم قطعا سی پیک کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر وزیر اعظم کے آل پارٹیز کا نفرنس پر کئے گئے اعلانات اور وعدوں کے مطابق عمل ہونا چاہیے اور ہمیں بتایا جائے کہ ہمیں سی پیک میں کتنے پروجیکٹ دئے جائیں گئے اگر ایسا نہیں ہوتا تو پختون اور بلوچوں کی حق تلفی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں کوئی بھی فیصلہ جذبات میں آکر نہیں کیا جاتا بات چیت تمام مسائل کا حل ہے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی کو منانے کا ٹاسک دیا گیا جس میں ہم کامیاب ہوئے اور انہوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔ مسائل کا حل بندوق نہیں جرگے میں ہے۔ پانامہ لیکس پر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ کنٹینر پر جہانگیر ترین کھڑے ہونگے جن کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ جس جس کا نام پانامہ لیکس میں ہے سب کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں لیکن ہم کسی بھی غیر آئینی تبدیلی اور اقدام کی حمایت نہیں کر یں گے۔