انتخابات2018 ء ، جلسے جلوسوں، بینرز پر پابندی ہو گی، مجوزہ ضابطہ اخلاق

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈسردارمحمدرضا خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ انتخابات کے تمام تر انتظامات کا ذمہ دار الیکشن کمشن ہے، الیکشن کمشن کو اختیار ہے کہ انتخابی اخراجات کی نگرانی کرے،کوئی امیدوار اخراجات کی حدسے تجاوز کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی،انتخابات کے دوران ناخوشگوار واقعات میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں کہاکہ الیکشن کمشن انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انتخابات کے دوران رقم کا بے دریغ استعمال روکنا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے،تمام شہریوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا یکساں موقع فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ موجود ملکی صورتحال میں پرامن انتخابات کیلئے جلسے، جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی ہونی چاہیے،جلسے جلسوں پر پابندی سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انتخابی ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے،ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد سے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی،سیاسی جماعتیں ضابطہ اخلاق کے بارے میں رائے اور تجویز سے آگاہ کریں۔ آئندہ عام انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے جس پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی، مجوزہ انتخابی ضابطہ اخلاق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہی تیار کیا گیا ہے۔جلسے جلوسوں پر پابندی سے پر امن الیکشن کا انعقاد ممکن ہے جب کہ الیکشن کے دوران پیسے سمیت اسلحہ کا بے دریغ استعمال بھی روکا جائے۔ اجلاس میں سانحہ کوئٹہ کے شہدا کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا،الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائے گئے انتخابی ضابطہ اخلاق میں جلسے‘ جلوس اور ریلیوں پر پابندی پر سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ووٹروں کو ٹرانسپورٹ مہیا نہ کرنے کی شق پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ مجوزہ ضابطہ اخلاق کی 17 شقوں کی خلاف ورزی کو قابل سزا قرار دیا گیا۔ جلسے جلوسوں، کار ریلیوں، اشتہارات، بینرز، پوسٹرز، ہورڈنگز اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی، سیاسی جماعتیں، امیدوار اور ان کے حمایتی دہشت گردی کی مذمت کرنے کے سوا ایسا کوئی بیان نہیں دیں گے جس سے نظریہ پاکستان، عدلیہ کی آزادی و خودمختاری اور افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچے۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار خواتین کے انتخابی عمل میں شمولیت پر زور دیں گے اور انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنے کے معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ پیمرا تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں وقت فراہم کرنے کو یقینی بنائے گا۔ الزامات یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے اجتناب کرنے سمیت مخالف امیدوار اور جماعت کی ذاتی زندگی پر تنقید سے بھی گریز کیا جائے گا۔مجوزہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ انتخابی حلقوں میں صدر، وزیراعظم اور وزراء کے دوروں اور ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات پر پابندی ہوگی تاہم رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہوگی۔ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نہ صرف الیکشن کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے و الے امیدواروں کو نااہل کردیا جائیگا۔ دریں اثناء ادھر الیکشن کمشن نے اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں کی چھان بین کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکرٹری کمشن بابریعقوب فتح محمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بعض جماعتیں الیکشن کمیشن کو آزاد اور خودمختار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ابتدا میں چند سیاسی جماعتوں کے اہم لوگوں سے چھان بین کا آغاز کیا جائے گا۔ جتنے اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کئے ہیں ان اثاثہ جات کی باقاعدہ چھان بین ایف بی آر اور اسٹیٹ بنک سمیت تمام سرکاری اداروں سے کی جائے گی۔ اخراجات کم کرکے انتخابات عام آدمی کی دسترس میں لانا چاہتے ہیں۔