گرو نانک کے جنم دن پر پاکستان میں سکھ برادری کیلئے 4 تحائف کا اعلان

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد (بی بی سی) حکومت نے سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے 547 ویں جنم دن کے موقع پر سکھ برادری کو 'چار تحائف' دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 14 نومبر سے ننکانہ صاحب میں شروع ہونے والی تقریبات سے پہلے وہاں تقریباً 70 برس سے بند گرودوارہ کیارہ صاحب کو عبادت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ننکانہ صاحب میں ہی بابا گرو نانک کے ساتھ مسلمان ستار نواز بھائی مردانہ کی آٹھ سو مربع گز پر یادگار کی تعمیر بھی جاری ہے جو تین سے چار ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ پہلے سے اعلان کردہ بابا گورو نانک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد بھی جنم دن کی تقریبات کے موقع پر رکھا جائے گا۔ انھوں نے سکھ برادری کے لیے چوتھے 'تحفے' کے بارے میں بتایا کہ نارووال میں کرتار پور صاحب میں برقی انگیٹھہ صاحب کی تعمیر شروع ہو رہی ہے جو کہ 10 نومبر تک مکمل ہو جائے گی۔ سکھ مذہب کے مطابق کرتارپور صاحب میں بابا گرو نانک کا 'جوتھی جوتھ' ہوا یعنی ان کا نور اپنے حتمی مقام پر پہنچ گیا تھا۔ صدیق الفاروق نے بتایا کہ کینیڈا، برطانیہ سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی پاکستان کا آمد کا سلسلہ پانچ نومبر سے شروع ہو جائے گا جبکہ انڈیا سے سکھ یاتری 12 نومبر کو پہنچیں گے اور 21 نومبر تک قیام کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس بار توقع ہے کہ 2500 سے زیادہ سکھ یاتری پاکستان آئیں گے اور ان مہمان یاتریوں سمیت دیگر ممالک اور پاکستان میں مقیم سکھ برادری کو یہ چار تحائف دیے جا رہے ہیں۔