سکیورٹی اداروں میں تطہیر کا عمل شروع کرنے کیلئے وزیر داخلہ کے ہاتھ کس نے باندھ رکھے ہیں؟

27 اکتوبر 2016

بلوچستان حکومت کا پولیس ٹریننگ کالج کے حفاظتی انتظامات ناقص ہونے کا اعتراف اور چودھری نثار کا سخت ایکشن لینے کا عندیہ
بلوچستان حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے پولیس ٹریننگ کالج میں حفاظتی انتظامات مثالی نہیں تھے جبکہ موجودہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی غیرمعمولی ہونی چاہیے تھی۔ اس سلسلہ میں بلوچستان حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے گزشتہ روز بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تربیتی مرکز کی سکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی۔ انکے بقول صوبائی حکومت کے پاس محرم کے دوران دہشت گردی کے واقعہ کے بارے میں اطلاعات تھیں تاہم عاشورہ کے بعد سکیورٹی معمول کے مطابق ہوگئی جس کا دہشت گردوں نے فائدہ اٹھایا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پولیس ٹریننگ کالج میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ روز جنازے اٹھا کر تنگ آچکے ہیں‘ عوام میں مایوسی ہے‘ ناقص سکیورٹی کے ذمہ داروں کو برطرف کردینا چاہیے۔ میں اس حوالے سے صوبائی حکومت سے پوچھوں گا۔ گزشتہ روز نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں تاہم انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو یہ ثابت کرنا ہے۔ انکے بقول کامیابی صرف ٹیم ورک سے حاصل ہو سکتی ہے‘ دشمن کمزور ہوا ہے‘ ختم نہیں ہوا‘ یہ جنگ جاری ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کہیں خامی ہوتی ہے تو ہی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا‘ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی واقعہ کے بعد ہم 20 دن تک الرٹ رہتے ہیں‘ اسکے بعد پھر معمول پر آجاتے ہیں۔ دہشت گردی پہلے اندر سے ہوتی تھی‘ اب سرحد پار سے ہورہی ہے‘ دہشت گردی کے حوالے سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے دشمن بھارت نے ہماری سلامتی کمزور کرنے کیلئے بالخصوص بلوچستان کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے جہاں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا نیٹ ورک دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں مصروف رہتا ہے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ’’را‘‘ کے ذریعے ہماری سلامتی کمزور کرنے کی سازشیں بے نقاب بھی ہوچکی ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خود بھی بلوچستان میں مداخلت کا اعتراف کرچکے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے درپے علیحدگی پسند عناصر کو کمک پہنچانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یقیناً اپنے مکار دشمن سے ہمیں کسی خیر کی توقع نہیں اور اس نے ہم پر اوچھا وار کرنا ہی کرنا ہے جس کا اسکی جانب سے اظہار بھی ہوتا ہے تو ہمیں اسی تناظر میں ماضی کے دہشت گردی کے واقعات کی روشنی میں تمام سکیورٹی لیپس پر قابو پا کر فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانا چاہیے تھا۔ اگر دشمن ہمہ وقت الرٹ اور سازشوں میں ہمہ تن مصروف ہے تو ہماری جانب سے معمولی سی غفلت بھی ہمارے لئے زہرقاتل بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ کی برہمی اپنی جگہ درست ہے مگر کیا محض برہمی کا اظہار ہی ہوتا رہے گا یا اصلاح احوال کی جانب بھی کوئی توجہ دی جائیگی۔ اس تناظر میں کوئٹہ کی دو روز قبل کی سفاکانہ دہشت گردی پر صوبائی اور وفاقی حکومت اور انکے ماتحت انتظامی مشینری سمیت کسی کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔
کوئٹہ میں چھ ماہ قبل وکلاء برادری کے ساتھ ہونیوالی دہشت گردی کی سنگین واردات کے بعد تو سکیورٹی انتظامات میں کسی جھول یا کوتاہی کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی جبکہ ہماری سلامتی کیخلاف بھارتی سازشوں میں افغانستان کے معاون بننے پر تو ہمارے سکیورٹی اداروں اور فورسز کی پوری توجہ صرف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے تھی۔ مگر ایسا نہیں ہوا تو قوم کو کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج میں دہشت گردی کی گھنائونی واردات سے دوچار ہونا پڑا ہے جس میں سکیورٹی انتظامات کی تربیت پانے والے 63 جوانوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہونیوالے جوان خون میں لت پت اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر میں غلطاں ہیں۔ آج بلوچستان حکومت ٹریننگ کالج میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات کا اعتراف کررہی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ اس کوتاہی اور غفلت پر ذمہ داروں کو برطرف کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں مگر کیا اس سے ارض وطن کے ان مظلوموں کے زخم مندمل ہو سکتے ہیںجن میں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے اب رونے کی سکت بھی نہیں رہی اور وہ حیرت میں ڈوبے سراپا سوال بنے کھڑے ہیں کہ…؎
اَجے اگلے اتھروُ سُکّے نئیں
لو ہور جنازے آگئے نیں
ان شہداء کے لواحقین کو اب طفل تسلیوں‘ خالی خولی ہمدردی کے اظہار اور زرتلافی کی اشتہار بنا کر دی جانیوالی معمولی سی رقم سے اب مطمئن کیا جا سکتا ہے نہ بہلایا جا سکتا ہے چنانچہ آج حکمرانوں پر مبینہ بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں تو انہیں اب اس حوالے سے بھی قوم کے روبرو جوابدہ ہونا پڑیگا کہ ملک کی تمام قومی سیاسی اور عسکری قیادتوں کے اتفاق رائے سے دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے ایک جامع نیشنل ایکشن پلان تیار کرنے کے باوجود ہمارے سکیورٹی انتظامات میں ایسی خامیاں اور کمزوریاں کیوں موجود ہیں جن سے دہشت گردوں کو چاہے اپنے ایجنڈے کے تحت یا بیرون ملک سے ہلائی جانیوالی ڈوریوں کے ذریعے فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے اور وہ ہمارے معصوم و بے گناہ شہریوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سکیورٹی اداروں اور اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا کر انہیں اپنے مکروہ عزائم کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔
گزشتہ روز کوئٹہ میں وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیرصدارت منعقد ہونیوالے سیاسی اور عسکری قیادتوں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یقیناً ان پہلوئوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہوگا کہ دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق نیشنل ایکشن پلان پر اب تک اسکی روح کے مطابق عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا۔ اس اجلاس میں آئی ایس آئی کمانڈر کی فراہم کردہ یہ اطلاع بھی یقیناً درست ہوگی کہ حملے کا منصوبہ نئی دہلی میں بنا اور اسی تناظر میں سیاسی اور عسکری قیادتوں نے کوئٹہ دہشت گردی کا معاملہ بھارت اور افغانستان سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کالعدم تنظیموں کیخلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اب تک ملک اور قوم کا جو قیمتی جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے اس پر کس نے جوابدہ ہونا ہے اور اسکی تلافی کیسے کی جانی ہے۔ چودھری نثار کے بقول اب بھی ہمارے سکیورٹی اداروں اور دوسرے متعلقہ ریاستی اداروں نے دہشت گردی کے کسی واقعہ کے بعد محض زبانی جمع خرچ کے تحت پندرہ 20 دن تک الرٹ رہنا ہے اور پھر اسی بے ڈھنگی چال کی جانب واپس لوٹ آنا ہے تو پھر ہماری سیاسی اور عسکری قیادتوں کے دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد دہرائے گئے عزم کی روشنی میں آخری دہشت گرد کے مارے جانے کی نوبت کیسے آسکتی ہے جبکہ دہشت گرد تو ہمارے آخری شہری کا بھی خون بہانے کی ٹھانے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ انکے مکروہ عزائم کا اس سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دو روز قبل کوئٹہ کی دہشت گردی کے بعد بھی وہ باز نہیں آئے اور گزشتہ روز پشاور کے علاقہ دائوزئی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ کرکے انہوں نے ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو شہید کر دیا ہے جبکہ دو اہلکار اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح مستونگ میں بھی گزشتہ روز نامعلوم افراد نے بس اڈہ کے قریب ایک کار پر بے دریغ فائرنگ کرکے چار افراد کی ناحق جان لے لی ہے جس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ سفاک دہشت گرد اپنے اندرونی یا بیرونی سرپرستوں کے اشارے پر بدستور ہمارے سکیورٹی انتظامات اور اداروں کو چیلنج کررہے ہیں چنانچہ ہماری جانب سے محض خالی خولی دعوے ہی ہوتے رہے اور سکیورٹی لیپس کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان نہ بنایا گیا تو ہماری سلامتی کے درپے دشمن اور یہاں انتشار و افراتفری برقرار رکھنے والے دوسرے عناصر کو ہماری اپنی ہی کمزوریوں کے باعث ہماری سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں میں کامیابی حاصل ہوکر رہے گی۔ اب اپنی کمزوریوں کا محض اعتراف کرنے اور ماتم کناں رہنے کا ہرگز وقت نہیں بلکہ سکیورٹی اداروں میں موجود ہر خامی کو دور کرنے کیلئے عملیت پسندی کے ساتھ جُت جانے کی ضرورت ہے۔ چودھری نثار علی خاں ذمہ داروں کو کیفر کردار کو پہنچانے کے متقاضی ہیں تو اس کیلئے انکے ہاتھ کس نے باندھ رکھے ہیں۔ وزیر داخلہ ہونے کے ناطے وہ جن سکیورٹی اداروں کے نگران ہیں‘ ان میں فی الفور تطہیر کا عمل شروع کر دیں اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں کہیں کوئی رکاوٹ موجود ہے تو اسے دور کرنے کے معاملہ میں کسی مصلحت سے کام نہ لیں۔ قوم دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد سیاسی اور عسکری قیادتوں کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں دہشت گردی کے خاتمہ کے عزم کے باربارکے اعادہ سے عاجز آچکی ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ قوم کے مکمل مایوس اور بدگمان ہونے کی نوبت نہ آنے دی جائے اور ملک اور عوام کیخلاف ہتھیار اٹھانے والے ہر شخص کیخلاف بلاامتیاز اور فوری اپریشن کرکے دہشت گردی کے ناسور سے ملک اور قوم کو نجات دلا دی جائے کیونکہ قوم کی اجتماعی مایوسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔