محیطِ بے کراں

27 اکتوبر 2016

تُو ہے محیطِ بے کراں، میں ہُوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہُوں صدَف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرو
میں ہُوں خزَف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر
بالِ جبریل