نماز،سب سے مقدّم

27 اکتوبر 2016

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بڑی کشادگی عطاء فرمائی، وہ ایک دن اپنے ایک باغ میں نماز پڑھ رہے تھے۔نظر کے دوران انکی نظر پڑی کہ چیڑی اڑی ہے اور وہ راستہ کی تلاش میں ادھر اُدھر سرگرداں ہے۔لیکن اس راستہ سمجھائی نہیں دی رہا کیونکہ باغ بہت گھنا تھا۔ حضرت ابو طلحہ کو یہ منظر بہت بھایا اور وہ کچھ دیر تک اس میں محو رہے۔
پھر انھیں خیال آیا کہ وہ تو نماز میں ہیں۔نمازکی طرف متوجہ ہوئے تو یہ یاد نہ رہا کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکے ہیں۔ فرمانے لگے۔یہ ساری مصیبت اس باغ کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ فوراًحضور نبی رحمت الصلوٰ ۃ التحیۃ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اپنی نماز کا سار ا قصہ گوش گزار کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ باغ اللہ کے نام پر صدقہ ہے آپ اسے جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرمادیں۔ (موطاء امام مالک)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بینائی زائل ہوگئی۔طبیب سے مشورہ کیا تو اس نے کہا آپ کی آنکھ کا علاج ہوجائے گا۔ لیکن آپ کو چند دن نماز کا ناغہ کرنا پڑھے گا۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو انسان نماز چھوڑے گا۔اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا۔(طبرانی)
حضرت عبداللہ ابن ابی بکر فرماتے ہیں ایک انصاری مدینہ کی وادی قف میں اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے۔کجھوریں پکنے کا زمانہ اپنے اوج پر تھا۔ اور خوشے کجھوروں کے بوجھ کی وجہ سے جھکے پڑے تھے۔ان کی نگاہ ان خوشوں پر پڑی تو کجھوروں کی کثرت کی وجہ سے وہ بڑے ھلے معلوم ہوئے۔ پھر انھیں اپنی نماز کا خیال آیا تو یہ بھول چکے تھے کہ کتنی رکعت پڑھ چکے ہیں۔ لگے اس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی ہے۔کہ میںنماز کی رکعتیں ہی بھول گیا۔یہ حضرت عثمان غنی کا زمانہ خلافت تھا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ اور عرض کیا کہ یہ سارا باغ کسی خیر کے راستے میں صدقہ ہے۔ آپ اسے کسی خیر کے کام میں خرچ کردیں چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اس باغ کو 50 ہزار درہم میں فروخت کردیا اور رقم کا رخیر میں صرف کردی اس باغ کا نام خمسین (پچاسا) مشہور ہوگیا۔(موطا امام مالک)
حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میںحضرت ابو موسیٰ اشعری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے ،ہم نے ایک باغ میں قیام کیا۔حضرت ابو موسیٰ رات کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ان کی آواز بہت دلکش اور قرأت بہت عمدہ تھی اور جیسی آیت پر گذرتے اسی طرح کی دعا کرتے ۔(ابونعیم)