مودی کی دھمکیوں کے بعد کوئٹہ لہو لہان

27 اکتوبر 2016
مودی کی دھمکیوں کے بعد کوئٹہ لہو لہان

کوئٹہ میں وکیلوں سے زیادہ پولیس کے ریکروٹ شہید ہو گئے، وکیلوں کی شہادت کا صدمہ زیادہ محسوس کیا گیا، پولیس ریکروٹس کی بات کس نے کرنی ہے مگر وہ انسان تھے، پاکستانی تھے، سرکاری ملازم تھے ا ورقوم کی حفاظت کے لئے تربیت حاصل کر رہے تھے۔
قلم ان کے سوگ میں خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ظاہر ہے اس کے بس میں اور کچھ نہیں۔
وزیر اعظم موقع پر پہنچے، آرمی چیف بھی مصروفیات چھوڑ چھاڑ کر کوئٹہ گئے، شہیدہونے والوںکے جنازوں میں شرکت کی، زخمیوں کی عیادت کی، اعلی سطح کے اجلاس بھی ہوا، وزیر اعلی نے اعلان بھی کر دیا کہ کوئٹہ شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔اکسٹھ باسٹھ افراد شہید ہو گئے، سوا سو کے قریب زخمی ہو گئے، اس سے بڑی اور تباہی کیا ہوتی ہے، پشاور کے اسکول کی بھی پچھلی دیوار کو پھاند کر دہشت گرداندر داخل ہوئے،ا سکے بعد اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو حکم ملا کہ دیواریں بارہ فٹ ا ونچی کریں۔ کوئٹہ پولیس نے اپنے کالج کی دیوارا ونچی کیوں نہ کی۔
اعلی سطح کے اجلاس کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، اگر یہی فیصلہ ہوا ہے تو اس سے پہلے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی یہی فیصلہ ہوا تھا، جس کی خبر چھپی مگر حکومت نے تردید کر دی۔دیکھا جائے تو لشکر طیبہ، جیش محمد اور لشکر جھنگوی کے ہیڈ آفس پنجاب میں ہیں ، ان کے خلاف ایکشن کس نے کرنا ہے، پنجاب پولیس نے یا رینجرز نے یا فوج نے۔
مجھے تو افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر کی بات درست لگتی ہے ، انہوں نے دو روز پہلے انڈین ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے اڈے ہیں اور اگر پاکستان نے ان کے خلاف کاروائی نہ کی تو ہم خود کریں گے یا پھر مودی کے ایک جرنیل کی بات درست لگتی ہے کہ پٹھانکوٹ کا بدلہ لینے کے لئے وقت ا ور مقام کا انتخاب ہم خود کریں گے یا پھر مودی کی بات درست لگتی ہے کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کی جدو جہد میں ان کا ساتھ دوں گا یا پھر مجھے شک گزرتا ہے کہ کل بھوشن یادیو کے جو ساتھی ابھی تک پکڑے نہیں گئے ، کوئٹہ کی حالیہ لرزہ خیز واردات انہی کی کارستانی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ ہم ان لائنوں پر نہ غور کریں گے، نہ کاروائی کریں گے، بھارت میں کسی کو چھینک بھی آ جائے تو مودی خود پاکستان پر الزام لگاتا ہے ا ور پھر ایک راگ درباری پاکستان کے خلاف شروع ہو جاتا ہے، ہمارے ہاں شکر یہ ہے کہ وزیر اعظم کشمیر پر تو بھارت کو کوسنے لگ گئے ہیں مگر پاکستان کے اندر تو دہشت گردی کا بازار گرم ہے،ا س پر ہمارے صدر جمہوریہ اور چیف ایگزیکٹو خاموش ہیں اور بھارت کو اس طرح کھل کر مورد الزام نہیں ٹھہراتے جس طرح پاک فوج کی قیادت متفقہ طور پر بھارت کو دہشت گردی کا مجرم سمجھتی ہے۔یہ رموز مملکت ہیںجن تک میری رسائی نہیںمگر ہمارے فارن آفس کی حد تک بھارت کے خلاف آواز ضرور اٹھتی ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ ہمارے صدر اور وزیر اعظم کو بھی کھل کر بھارت کا نام لینا چاہیے یا پھر یہ ہی کہہ دیں کہ بھارت اس میںملوث نہیں، فلاں ملکی تنظیم یا گروہ کی کارستانی ہے، حکومت کے پاس بائیس انٹیلی جنس ادارے ہیں جو سارے کے سارے جی ایچ کیو کے ماتحت نہیں۔ان کی اپنی تحقیق کیا ہے۔ عام آدمی ہر گز نہیں سمجھتا کہ یہ جہنمی کام لشکر طیبہ یا جماعت لدعوہ یا جیش محمد والے کر تے ہیں، فرقہ ورانہ لڑائی جاری رہتی ہے مگر کوئٹہ پولیس کسی فرقے سے تعلق نہیں رکھتا، اس کی ذمے داری داعش نے قبول کی ہے، یہ داعش کیا بلا ہے، اگر تو وہی ہے جو شام میں حافظ الاسد کے خلاف امریکی پیسے ا ور اسلحے کی مدد سے لڑائی کر رہی اوراس نیکی میں ترکی بھی شامل ہے تو پھر اپنوں کو دوش کویںدیں، سیدھے ان طاقتوں کا نام لیں جنہوںنے پندرہ برس سے کرہ ارض کو خون میں نہلا دیا ہے، اخبارات میں ا یک بیان پڑھا ہے کہ کوئٹہ والے سہہ فریقی جنگ کا لقمہ بنے ہیں جن مین بھارت، افغانستان اور امریکہ نیٹو سمیت شامل ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو یہ بہت بڑی اور ہولناک جنگ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی سکت میںتو پاکستان کے اندر نہیںپاتا، باقی تواللہ ہی حفاظت کرنے والا ہے ۔
ابھی تک وہ معمول کی آواز سنائی نہیں دی کہ سیکورٹی چیف کو ہٹا دو، شاید کسی روز یہ پھر سننے کو مل جائے مگر جو صاحب یہ مطالبہ کرتے ہیں ، وہ بلوچستان میں اپنے بھائی سے بھی استفسار فرمائیں کہ وہ کس کام کی تنخواہ وصول کر رہے ہیں اور یہ جو کہا جاتا تھا کہ اڑھائی سال کے لئے وزیر اعلی رہنے والے نے امن قائم کر دکھایا، تو وہ امن اس قدر عارضی کیوں ثابت ہوا۔
ہم کیوںنہیں سمجھتے کہ افغانستان ہمارے خلاف ایک ا ڈہ بن گیا ہے۔د نیا کی بہترین افواج وہاںموجود ہیں۔ کیا افغانستان کوئی سیر گاہ ہے، کیا افغانستان سے تیل یا سونا نکلتا ہے، اگرایسی کوئی چیز ہے بھی تو پندرہ برسوںمیں نہ دریافت ہوئی، نہ نکالی گئی، بس ہوا یہ کہ پاکستان کو ایک خونیں جنگ میں پھنسا دیا گیا،اس جنگ کو ہماری جنگ بنانے کے لئے ہمارے لیڈروں کو شہید کیا گیا، ہماری مساجد، ہماری امام بارگاہوں، ہمارے چرچوں، ہمارے مزاروں کو خون کا غسل دیا گیا،ا سطرح نائن الیون کی جنگ کو ہم نے گود میں لے لیا اور جنرل مشرف تو نہال ہو کر ملک سے بھاگ گئے، قابو آئے توبے چارے عوام جو سراسر معصوم اور بے گناہ ہیں۔وہ اپنے پیاروں کی لاشوں کو روتے ہیں اور میڈیا چھاپتا ہے کہ وہ حوصلے میں ہیں، بھئی! جس کا مرے، وہی اپنے دکھ کو جانتا ہے، باقی تو خالی ہاتھ اٹھاکر فاتحہ ہی پڑھتے ہیں۔ یہ بھی رسم بن گئی ہے۔
ایک خیال یہ آتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کا جو اونچا گراف چلا گیا تھا، ان کی رخصتی کے ساتھ اسے نیچے لانے کے لئے کوئی گندہ کھیل کھیل رہا ہے،یہی امریکی جرنیل جو انڈین ایکسپریس کے ساتھ انٹرویو میں دھمکیاں دیتے ہیں ، یہ دو ہفتے مزید انتظار کر لیں۔ حقانی نیٹ ورک کے پاس ایٹم بم نہیں کہ دو ہفتے میں افغانستان کو نیست و نابود کردیں گے، دو ہفتے بعد پاکستان میںنیا آرمی چیف آ جائے گا، تازہ دم بھی ہو گا، اس سے بات کر لینا کہ حقانی گروپ کا کیا کرناہے، وہ بھی پوچھے گا کہ را اور افغان دہشت گردوں کاکیا کرنا ہے۔ ہم بھارت کو کہتے ہیں کہ کشمیر میں داخلے کا ہر دروازہ اس نے بند کر رکھا ہے تو یہی بات امریکی ا ور نیٹو فوج پر بھی صادق آتی ہے کہ وہ بھی افغان سرحد کو سیل کر لے، اس کا بوجھ پاکستان پر کیوں ڈالتی ہے۔ ویسے پاکستان اس سرحد پر باڑ تو کیا ایک گیٹ لگاتا ہے تو سامنے سے فائر آجاتا ہے اور ہمارے کڑیل جوان شہید ہو جاتے ہیں، ان کا خون کس کی گور گردن پر۔ افغانستان میں داخلے کے دروازے بند کرنا امریکی ا ور نیٹو افواج کا ہی فرض ہے اور پاکستان کا یہ فرض ہے کہ وہ افغانستان سے دراندازوں کا راستہ روکے،اس میں ہمیں بڑی کامیابیاںملی ہیں مگر یہ جنگ طویل ہے، عمر بھر کی تو نہیں مگر ایک نسل کی ضرور ہے، ویت نام ، کمبوڈیا، لاﺅس میں امن قائم کرنے میں کتنا وقت لگا، بیروت کی ہر گلی سے بیریئر ہٹانے میںکتنا وقت لگا، لاطینی امریکہ میںقیام امن کے لئے کتنا وقت لگا اور سری لنکا زیادہ دور نہیں ہے،اس سے پوچھ لیں کہ اسے کتنا وقت لگا۔ امریکہ میں بھی روز ٹھوں ٹھاہ ہوتی ہے، وہاں گن کنٹرول کا ایک نظام نہیں۔پاکستان اورا سکے ارد گرد کا خطہ تو شتر بے مہار ہے اور عالمی شاطراور علاقائی دہشت گرد مل کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں، ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور ڈٹے رہیں گے۔