اقتصادی راہداری سے چین، افغانستان کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک بھی مستفید ہوں گے نواز شریف

27 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+اے پی پی + آئی این پی + این این آئی) وسط ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون تنظیم (CAREC) ممالک کا 15 ویں وزارتی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے فوائد کاریک ممالک تک بھی پہنچیں گے، واضح رہے کاریک تنظیم میں پاکستان، چین، افغانستان کے علاوہ آذربائیجان، قازقستان، کرغیزستان، منگولیا اور تاجکستان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غربت میں کمی لانے کے لئے علاقائی اتحاد کے ذریعے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے‘ علاقائی اتحاد‘ امن‘ استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ”کاریک “ کا فورم امید افزا ہے۔ کاریک اہم پروگرام ہے جو فزیکل نیٹ ورک‘ بنیادی ڈھانچے‘ امن‘ استحکام اور اقتصادی ترقی جیسے بڑے شعبوں میں علاقائی ممالک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کاریک رکن ممالک کے درمیان تجارت کی سہولت پرمبنی پالیسیوں کے ذریعے غربت میں کمی لانے کا اہم فورم ہے۔ انہوں نے کاریک اجلاس میں شرکت کرنے والے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس سے علاقائی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو حقیقی شکل دینے میں مدد ملے گی۔ پاکستان 2010ءمیں کاریک کا رکن بنا اور پائیدار ترقی کے لئے ضروری منصوبوں کی سہولت میں فعال کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کاریک کے ویژن کو فروغ دینے کے لئے اہم اقدامات تجویز کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کے شعبہ میں کام کرنے کے لئے کاریک ممالک کے ماہرین کا پول تشکیل دیا جانا چاہئے۔ فنانس ‘ بینک‘ مارکیٹنگ‘ توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ان کی مہارت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، اس کے نتیجے میں خطے میں علوم کی منتقلی ممکن ہوسکے گی۔ وزیراعظم نے اقتصادی صورتحال میں حالیہ برسوں کے دوران بہتر کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے حکومت کی اقتصادی اصلاحات اور معاشی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان تجارتی سرگرمیوں میں بین الاقوامی معیار پر عمل پیرا ہے۔ کاریک کے رکن ممالک پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ ملکر ”کاریک ایوی ایشن اینڈ اوپن سکائیز ایگریمنٹ“ پر کام کرسکتے ہیں۔انہوں نے کاریک کی جانب سے علاقائی ترقی کے منصوبوں میں 29 ارب ڈالر فراہم کرنے کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ 10سال کے دوران کاریک کا وسط مدتی جائزہ تیز رفتار اقتصادی تعاون کا موقع ثابت ہوگا۔ کاریک رکن ممالک کے درمیان بالخصوص توانائی ‘ ٹرانسپورٹیشن اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کا بڑا ادارہ ہے۔پاکستان جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطے کے ذریعے کے طور پر کاریک کے کلیدی سہولت کار کی حیثیت رکھتا ہے۔ کاریک وسط ایشیائی ممالک تک پہنچنے کا اہم ذریعہ ہے۔ آج کی صورتحال میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں تاہم ہم ان سے موثر اندازمیں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے اقتصادی استحکام حاصل کرلیا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت توانائی‘ ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر بڑی تیزی کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔ پاکستان کے علاوہ کاریک ممالک بھی سی پیک کے فوائد سے مستفید ہوں گے۔کاریک وزارتی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں وزرائ‘ ارکان پارلیمنٹ‘ رکن ممالک کے مندوبین ‘ علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں ‘سفارتکاروں اور سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں افغانستان، آذربائیجان، چین، قازقستان، کرغیزستان، منگولیا، تاجکستان اور ازبکستان کے دو سو مندوبین نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ رکن ممالک پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شراکت داری کے خواب کو حقیقت میں بدلیں گے۔ کاریک کا مقصد رکن ممالک میں پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنا ہے تاکہ غربت پر قابو پایا جا سکے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کاریک ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری وسطی ایشیا‘ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان رابطہ کاری کا بھرپور مواقع فراہم کرتا ہے‘ کاریک کی کامیابی سے خطے کے لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ¾ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہمارے خطے کی اقتصادی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے صدر تاکی ہیکو نکاﺅ نے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کاریک ممالک کے لئے سمندر تک رسائی حاصل کرنے کا آسان راستہ ہے جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ اسحاق ڈار نے شرکاءکو مئی 2013ءسے قبل ملک میں معاشی عدم استحکام کی صورتحال حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد معاشی بحالی و استحکام کےلئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے اقتصادی اصلاحات کا ایجنڈا پیش کیا جس کے تحت ضروری لیکن مشکل اقدامات کے نتیجے میں پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے۔ مجموعی اور پائیدار نمو کے لئے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، سٹرکچرل اصلاحات‘ ٹیکس کی بنیاد کی وسعت‘ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ‘ مہنگائی میں کمی لانے اور توانائی کی کمی پر قابو پانے کے اقدامات نمایاں ہیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران تمام بڑے اقتصادی اشاریوں نے نمایاں بہتری دکھائی ہے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اب کاریک ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ علاقائی اقتصادی نمو کو مزید بڑھانے کےلئے ہم بڑے اقتصادی ترقیاتی پروگراموں پر عمل پیرا ہیں، سی پیک منصوبہ وسطی ایشیا‘ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان رابطہ کاری کا بھرپور مواقع فراہم کرتا ہے۔ کاریک کی ٹرانسپورٹ اور تجارت سے متعلق سہولیاتی حکمت عملی مواصلات‘ ٹرانسپورٹ اور تجارت کے منصوبوں کے موثر نفاذ کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ جب کاریک کی 6 راہداریاں اور بڑی بندرگاہیں عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا شروع کریں گی تو اس سے وہ خدمات میسر ہوں گی جو قومی اور علاقائی مسابقت یا پیداواریت‘ روزگار‘ نقل و حمل اور ماحولیاتی پائیداریت کےلئے بہت اہم ہوں گی۔ اسحاق ڈار نے ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے قومی اور علاقائی رابطے کے میکنزم کی تیاری کانفرنس کا ترجیحی شعبہ ہوگا۔ کاریک کے تمام رکن ممالک ترقی پذیر ہیں اور ان کی توانائی کی ضروریات سے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کاریک پروگرام پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے تمام پارٹنر ممالک اور کثیر الجہتی ادارہ جاتی شراکت دار باہمی تعاون کے ساتھ کام کی رفتار تیز کریں۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے صدر نے کہا کہ اگرچہ اس خطے کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں تاہم کاریک ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جارجیا کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔
نواز شریف
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سی اے آر ۔ ای سی کے صدارتی اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان رابطے قائم کرنے کی راہ میں حائل تمام چیلنجز کو دور کیا جائے گا۔ سی اے آر۔ ای سی کا اجلاس ختم ہو گیا۔ اجلاس سے وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ جارجیا نے سی اے آر ای سی میں 11 ویں ممبر کی حیثیت سے اختیار کر لی۔ سیمینار سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی صدارت میں وزارتی اجلاس میں ایک طویل المیعاد سٹرٹیجی تیار کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ ”سی اے آر ای سی 2015“کا مقصد بدلتے ہوئے معاشرتی ترقیاتی حالات میں تنظیموں کے مقاصد کو ان سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ تنظیم کا سیکرٹریٹ فوری طور پر سی اے آر ای سی 2025ءکی تیاری پر کام شروع کردے گا۔اے ڈی بی کے صدر نے تنظیم کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے علاقائی ترقی پر قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ علاقائی انفراسٹرکچر اور تجارت میں سہولت پیدا کرنا پروگرام کا بنیادی جزو ہے۔ اجلاس میں ریلویز کی حکمت عملی کی بھی منظوری دی گئی جو 2030ءکے لئے ہے۔ اس کے تحت رکن ممالک کے ٹریڈ روٹس پر ریلویز کے 6 کوریڈور بنائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پہلا کوریڈور الماتے بشکیک کا بناے گا جو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر بنایا جائے گا۔ بیان میں کریمنز کے لئے اور افغانستان کی طرف سے ڈبلیو ٹی او کی ٹوثیق کا خیر مقدم کیا گیا۔وزیر خزانہ نے اجلاس کے شرکاءکو پاکستان کی معاشی صورتحال کے بارے میں پریزنٹیشن بھی دی۔ شرکاءنے وزیر خزانہ سے سانحہ کوئٹہ پر اظہار تعزیت کیا۔
سی اے آر ای سی