27 اکتوبر1947ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

27 اکتوبر 2016

اکتوبر کے آخری عشرے میں کشمیری مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں یوم سیاہ مناتے ہیں۔ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے اور اس کی پاداش میں خون آشام حالات سے گزرنے والے کشمیری عوام قومی اور بین الاقوامی سطح پر دھوکہ ، جھوٹے وعدوں، سازشوں کے ہاتھوں مارے جاتے رہے ہیں جو کہ انسانیت اور عالمی ضمیر کے بہی خواہوں اور علمبرداروں کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی کشمیریوں کو دھوکہ دیا۔ کشمیر کے بارے میں دُہری پالیسی اور دُہرہ معیار اختیار کیے رکھا۔ 14 اگست اور 15 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت کی شکل میں 2 ملک برصغیر میں وجود میں آئے۔ تقسیم کے فارمولے کے مطابق 600 کے قریب ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان اور بھارت سے الحاق کریں۔ کشمیر کے لوگ باشعور اور آزادی پسند تھے جنہوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کی شخصی راج سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کی غلامی کا بوجھ اتارنے کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔ ریاست کی 80% آبادی مسلمان تھی جس کا حکمران غیر مسلم تھا۔ کیونکہ کشمیری مسلمانوں نے 19 جولائی 1947ء اپنی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے الحاق کی متفقہ قرارداد منظور کی تھی۔ لیکن اس صورتحال پر کانگریس مہاراجہ اور انگریز پریشان تھے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن، نہرو، مہاراجہ اور سرحدی گاندھی عبدالغفار خان نے سازشوں کا جال بنا اور شیخ عبداللہ کو پھانس لیا اور 27 اکتوبر 1947ء کو رات کے اندھیرے میں مقبوضہ کشمیر میں فوجیں اتار دیں۔ کشمیریوں نے جنگ آزادی کا آغاز کیا۔ پہلے ان کی جنگ مہاراجہ سے تھی اب ان کی جدوجہد ہندوستان اور کانگریس کے خلاف تھی۔ بے سرو سامانی کے عالم میں اپنی مدد آپ کے تحت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا علاقہ آزاد کرایا۔ جب مجاہدین کامیابی کی طرف گامزن تھے تو نہرو اور اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ لے گیا اور وعدہ کیا کہ جس کا ریکارڈ اس کی 2 نومبر 1947ء کی نشری تقریر قابل ذکر ہے جس میں کہا ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے اور ہم پوری دنیا کشمیریوں اور پاکستان سے بھی وعدہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کروانے کے لئے تیار ہیں۔ نہرو اور بھارت کی بعد کی قیادتوں میں اپنے وعدے پر عملدرآمد نہیں کیا حالانکہ ان کو گاندھی کا فلسفہ عدم تشدد کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ کشمیر کا نام آتے ہی پاکستانی بھائیوں کا خون کھولنے لگتا ہے کیونکہ کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا گہرا سماجی، مذہبی، اقتصادی اور جغرافیائی تعلق ہے۔ 70 سال کے بعد بھی بھارت کشمیریوں کے دل سے پاکستان کی محبت نہ نکال سکا ہے۔ ہماری کمزوری یا نالائقی ہو سکتی ہے لیکن کشمیری اپنی آزادی اور پاکستان کے لئے اپنی جانیں نقد پیش کر رہے ہیں۔ انڈیا کی کوشش 3 جون 1947ء سے جاری ہے جب ریڈ کلف ایوارڈ کے ذریعے بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم اکثریت کے بعض علاقوں کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا اور کشمیر پر قبضہ کے لئے راستہ مہیا کیا گیا تب سے جدوجہد آزادی کا آغاز ہو گیا تھا۔ 70 سال میں ایک لمحہ کے لئے بھی کشمیری ہمت نہیں ہارے بلکہ دن بدن جدوجہد میں تیزی آ رہی ہے۔ حالیہ چند ماہ میں برہان الدین وانی شہید ہوئے۔ 8 جولائی وانی کی شہادت کے بعد ایک ایسی لہر اٹھی ہے جس نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاکھوں لوگوں کا جنازے میں شامل ہونا، احتجاج کا سلسلہ جاری رہنا یہ کچھ اور ہی سبق دے رہا ہے۔ شاید مودی کو اس لئے اقتدار میں لایا گیا تھا کیونکہ خونخوار کو پہلے ہی مشہور تھا۔ اب بھارت کے کئی ٹکڑے کرنے کے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ بھارت کا جنگی جنون پاگل پن کی حد تک ہو چکا ہے۔ جس سے خطہ کسی بڑی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔ بھارت اوڑی حملے کی طرح کوئی دہشت گردی کا بڑا واقعہ کر کے پاکستان پر الزام لگا کر کنٹرول لائن پر بڑی فوجی کارروائی کر سکتا ہے اور پوری دنیا ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔
پاکستان کے لئے کشمیر کی اہمیت پانی یا جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے نہیں بلکہ کشمیری خود پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ دیگر پوری دنیا کشمیریوں کے حق کو تسلیم کر چکی ہے۔ 1990ء سے اب تک ڈیڑھ لاکھ کشمیری شہید اور پچھلے تین ماہ کے دوران 125 کے قریب کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ پیلٹ گن کے استعمال سے سینکڑوں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کی بے حسی افسوس ناک ہے۔ آزادی ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق عالمی برادری کے ضمیر سے اپیل کرتا ہے وہ عالمی اصولوں کے مطابق بھارت پر زور ڈالیں کہ وہ آزادی دے، کشمیریوں پر ظلم بند کرے، پابند سلاسل رہنمائوں کو رہا کرے۔ بھارت کے ناروا سلوک کی وجہ سے کشمیری رہنماء یٰسین ملک شدید بیمار ہو چکے ہیں ان کی حالت تشویشناک ہے، بازو مفلوج ہو چکا ہے، بڑے ہسپتال میں علاج کی بجائے معمولی کلینک میں علاج کی وجہ سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کشمیری اس بارے میں سراپا احتجاج ہیں۔ موجودہ لہر کی وجہ سے کشمیریوں کو سفارتی سیاسی سطح پر بین الاقوامی دنیا میں شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ اور انشأاللہ فتح کشمیریوں کی ہو گی۔ مسلسل کرفیو اور احتجاج کی وجہ سے خوراک، ادویات اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، اپنے جان و مال اور کاروبار کی قربانیاں دے رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ بھارتی تسلط سے آزادی ان کا مقصد ہے۔ حکومت پاکستان اور مسلح افواج پاکستان، سفارتی اور اخلاقی سطح پر ہر فورم میں کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں وفود کے ذریعے مسئلہ کشمیر اُجاگر کیا جا رہا ہے۔ کشمیر اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بھارت اگر اپنی مزید تقسیم نہیں چاہتا تو کشمیریوں کو آزادی دے۔ پوری دنیا اور یو این او27 اکتوبر 1947ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن بھی بھارت کو مجبور کرے کہ بربریت سے روکے اور اپنا وعدہ پورے کرنے پر مجبور کرے۔ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے بعض نہیں آ رہا۔ حالیہ کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر دہشت گردی کے واقعات میں بھی بھارت کی شمولیت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بے چینی اور مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان سے برابری کی بنیاد پر بات چیت کرے۔ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کرے۔